اسلام آباد ہائیکورٹ میں مشرف کی ضمانت کی منسوخی اور انہیں حراست میں لینے سے گریز

 کسی ملزم کو معزز بنانا انصاف کی عملداری سے انکار کے مترادف ہو گا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز نظر بندی کیس میں سابق صدر اور اے پی ایم ایل کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئے گزشتہ روز انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ عدالتی احکام جاری ہوتے ہی جنرل (ر) مشرف اپنے سکیورٹی محافظوں کے ہمراہ کمرہ¿ عدالت سے باہر نکل کر چک شہزاد اسلام آباد میں اپنے فارم ہاﺅس پر چلے گئے جبکہ عدالتی احکام کی تعمیل میں کسی پولیس اہلکار یا کسی دوسری سکیورٹی ایجنسی کے لوگوں نے انہیں گرفتار کرنے کی جرا¿ت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ گزشتہ روز دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود جہانگیری نے پرویز مشرف کی ضمانت منسوخ کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ مشرف نے عدالتی حکم کے باوجود تفتیش میں تعاون نہیں کیا اس لئے وہ ضمانت کے مستحق نہیں رہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ جنرل (ر) مشرف کیخلاف درج ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی جائیں۔ فاضل عدالت کی جانب سے پرویز مشرف کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد کمرہ عدالت کے باہر انکے حامی اور مخالف وکلاءنے ایک دوسرے کے حق اور مخالفت میں شدید نعرہ بازی کی اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے وکلاءمسلسل یہ نعرے لگاتے رہے کہ ”دیکھو دیکھو کون بھاگا‘ گیدڑ بھاگا گیدڑ بھاگا“۔ دوسری جانب مشرف کے عدالت سے گھر پہنچتے ہی وہاں تعینات رینجرز کے دستوں کو ہٹا لیا گیا تاہم پولیس کی بھاری نفری انکے گھر کے باہر تعینات رہی۔ مشرف نے گھر پہنچنے کے بعد اپنے قانونی ماہرین کا اجلاس طلب کیا جس میںاسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ کیخلاف دادرسی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اسکی روشنی میں جمعرات کی سہ پہر عدالت عظمیٰ میں نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کیلئے رجوع کیا گیا تاہم عدالتی وقت ختم ہونے کے باعث یہ درخواست دائر نہیں ہو سکی۔ 12 اکتوبر 1999ءکو مشرف کی باوردی ٹیم کی جانب سے اس وقت کی منتخب جمہوری حکومت کو ماورائے آئین اقدام کے تحت برطرف کرکے اور اسمبلیاں تحلیل کرکے مشرف کو ملک واپسی پر اقتدار کی مسند پر بٹھانا بذات خود سنگین آئینی جرم تھا جس پر مشرف اور انکے باوردی ساتھیوں کیخلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہئے تھی جبکہ مشرف نے اپنی جرنیلی آمریت کے دوران قانون اور آئین کی تمام حدود کو پھلانگتے ہوئے اپنی من مانیوں کی انتہاءکر دی۔ انہوں نے 2001ءکے بلدیاتی نظام اور 2002ءکے عام انتخابات کے ذریعے ملک میں اپنی مرضی کی جمہوریت نافذ کی اور اپنے ساتھ شراکت اقتدار کرنیوالے سیاست دانوں کو کٹھ پتلیوں کی طرح نچایا‘ جنہوں نے انکے ماورائے آئین اقدامات کو سہارا دیتے ہوئے انہیں مزید دس ٹرموں کیلئے وردی سمیت صدر منتخب کرانے کے اعلانات کئے اور اسی سرشاری میں مشرف نے ملک کی آزاد عدلیہ کو پابند سلاسل کرنے کی کوشش کی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو آرمی ہاﺅس میں اپنی باوردی ٹیم کے روبرو طلب کرکے انہیں مستعفی ہونے کیلئے کہا اور انکے انکار پرا نہیں معطل کرکے ان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھجوا دیا۔ انہوں نے اس پر ہی اکتفا نہ کیا اور سپریم کورٹ کی فل کورٹ کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے بعد انہوں نے پوری عدلیہ کا ناطقہ تنگ کرنے کی سازش کی اور پھر 3 نومبر 2007ءکو انہوں نے دوبارہ ماورائے آئین اقدام اٹھاتے ہوئے پی سی او اور اسکے تحت ایمرجنسی نافذ کرکے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹوں کے 60 فاضل ججوں کو انکے گھروں میں نظر بند کر دیا جبکہ اس سے قبل فوجی اپریشن کے دوران نواب اکبر بگتی کے قتل‘ جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد میں بے رحم اپریشن کے دوران متعدد بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع اور پھر دہشت گردی کی گھناﺅنی وارداتوں میں لیاقت باغ راولپنڈی کے باہر سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے جاں بحق ہونے کا واقعہ بھی مشرف کی جرنیلی آمریت کے جرائم میں شامل ہے۔ ان تمام مقدمات میں بھی مشرف بطور ملزم نامزد ہیں اور اس وقت سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت پر ہیں جبکہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظربند کرنے کے مقدمہ میں انہیں ملک میں عدم موجودگی کے دوران سول جج اسلام آباد نے 16 دسمبر 2012ءکو اشتہاری قرار دیا تھا۔ ملک واپسی کے بعد انہوں نے اس کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے روبرو عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جس کی گزشتہ روز توثیق یا تنسیخ ہونا تھی جبکہ فاضل عدالت عالیہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کے بیان کی روشنی میں انکی ضمانت منسوخ کردی اور قرار دیا کہ ججوں کو نظربند کرنا انسداد دہشت گردی ایکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ اصولی طور پر تو ضمانت کی منسوخی کے بعد مشرف کو کمرہ¿ عدالت میں ہی حراست میں لے لیا جانا چاہیے تھا جس کیلئے فاضل جج ہائیکورٹ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دوران سماعت ریمارکس بھی دیئے کہ اگر اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظربند کیا جا سکتا ہے تو مشرف کی کیا حیثیت ہے‘ تاہم مشرف کے ساتھ ڈیوٹی پر مامور سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں اس جواز کے تحت حراست میں لینے سے گریز کیا کہ وہ تو انکی حفاظت پر مامور ہیں‘ اسی پس منظر میں سکیورٹی اہلکار مشرف کی ضمانت منسوخ ہونے کے بعد خود انہیں اپنے حصار میں لے کر چک شہزاد انکے فارم ہاﺅس چھوڑ کر آئے جبکہ ہائیکورٹ کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں نے بھی مشرف کو حراست میں لینے سے گریز کیا جس سے بادی النظر میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ مقتدر ادارے مشرف کی گرفتاری کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ تاثر تو اس وقت ہی زائل ہو جانا چاہیے تھا جب مشرف کے فارم ہاﺅس میں آنے کے ساتھ ہی وہاں تعینات رینجرز کے دستوں کو واپس بلوا لیا گیا۔ اسکے بعد فارم ہاﺅس سے مشرف کی گرفتاری کیلئے کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے تھا مگر اسکے باوجود انہیں گرفتار کرنے سے گریز کرنا اور اسکے برعکس ایس ایس پی اسلام آباد یٰسین فاروق کا فارم ہاﺅس میں مشرف کے پاس پہنچ کر یہ تاثر دینا کہ وہ انہیں گرفتار کرنے نہیں بلکہ انکی حفاظت کے معاملات طے کرنے آئے ہیں‘ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ نگران حکومت خود ہی مشرف کو گرفتار نہیں کرانا چاہتی۔ اس امر کو گزشتہ روز سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے نگران حکومت کے اس تحریری بیان سے بھی تقویت ملتی ہے کہ نگران حکومت کی جانب سے مشرف کیخلاف کسی کارروائی کی صورت میں اسکی غیرجانبداری متاثر ہو سکتی ہے جبکہ نگران حکومت کی اولین ترجیح انتخابات کرانے کی ہے۔ اگر آئین توڑنے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو پابند سلاسل کرنے جیسے سنگین مقدمات میں ملوث کسی ملزم کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی سے نگران حکمرانوں کو اپنی غیرجانبداری کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے تو کیا نگران سیٹ اپ محض اپنی غیرجانبداری کی خاطر کسی بھی قانون و آئین شکنی پر معترض نہیں ہو گا۔ یہ استدلال قانونی ہی نہیں‘ اخلاقی طور پر بھی انتہائی کمزور نظر آتا ہے کیونکہ قانون اور آئین کی عملداری اور عدالتی احکام کی تعمیل بہرصورت نگران حکمرانوں کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہے جتنی کسی مستقل حکومتی سیٹ اپ کی ہو سکتی ہے۔ عدالت کی جانب سے مشرف کی گرفتاری کا حکم دینے کے باوجود انہیں حراست میں نہ لینا اور الٹا انہیں سکیورٹی کی مزید سہولیات مہیا کرنا‘ بادی النظر میں عدالتی احکام کی تعمیل سے دانستاً گریز کے زمرے میں آتا ہے جس کی سزا یقیناً نگرانوں کیلئے بھی قانون و انصاف کے تقاضے کے مطابق وہی ہو گی جو سابق منتخب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بھگت چکے ہیں۔ اسی طرح نگران حکمرانوں کو یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جرنیلی آمریتوں کے دوران ایک منتخب وزیراعظم کو حراست میں لے کر تختہ¿ دار تک پہنچایا جا سکتا ہے اور دوسرے منتخب وزیراعظم کو اڈیالہ جیل اور پھر کراچی جیل میں قید تنہائی میں رکھا جا سکتا ہے تو سنگین جرائم میں ملوث سابق جرنیلی حکمران کو کیوں حراست میں لے کر اڈیالہ جیل نہیں پہنچایا جا سکتا۔ یقیناً یہ ہماری سیاسی عدالتی تاریخ کے مرتب ہونے کے اہم ترین لمحات ہیں‘ جن میں کسی کی بھی لغزش تاریخ کے اوراق میں اسکی اصل حقیقت کے ساتھ ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جائیگی۔ سابق جرنیلی آمر مشرف ملک واپس آنے کے بعد قانون و انصاف کی عملداری کی تحویل میں آئے ہیں تو انکے ساتھ قانون اور انصاف کے تقاضے کے مطابق ہی سلوک ہونا چاہیے جبکہ کسی کو انصاف کی عملداری کے مراحل میں معزز و معتبر بنا کر قانون و انصاف کی عملداری پر بٹہ ہی لگایا جائیگا۔