زیادتی کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنانے کی ضرورت

ایڈیٹر  |  اداریہ

قومی اسمبلی کے اجلاس میں شیخ روحیل اصغر کے زیادتی کے مرتکب افراد کو سزائے موت دینے کے مطالبے پر وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ عصمت دری کے واقعات کیخلاف سخت کارروائی کیلئے قوانین کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔ بچوں سے زیادتی کے واقعات میں حکومت اور اپوزیشن مل کر قانون سازی کر سکتی ہیں۔
ملک میں دیگر جرائم کی طرح زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پانچ چھ سال کی بچیوں سے بربریت کی خبریں بھی میڈیا میں تواتر کے ساتھ آرہی ہیں جبکہ سفاک مجرموں کو عبرت ناک سزا کی خبر سننے میں نہیں آتی۔ زیادتی کے مجرموں کو سزائے موت دینے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ جبری زیادتی دہشت گردی ایکٹ کے زمرے میں آتی ہے۔ آج فوری ضرورت تو پہلے سے موجود قانون کے تحت مجرموں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے انجام تک پہنچاے کی ہے اگر ان قوانین میں کوئی سقم ہے یا انہیں مزید سخت بنانا مقصود ہے تو ممکن نہیں کہ ایک بھی پارلیمنٹیرین اس کی مخالفت کرے۔ کمسن بچوں سے زیادتی کے کیسز کیلئے الگ عدالتیں بنا دی جائیں تو مجرم کم سے کم وقت میں عبرت کا نشان بن سکتے ہیں۔