تین خواتین جرگہ گردی کی نذر

ایڈیٹر  |  اداریہ

پشاور اور کوہاٹ کے درمیان ضلع آدم خیل کے گاﺅں میں شادی شدہ خاتون کے گھر سے بھاگنے پر جرگہ ہوا جس نے غیرت کے نام پر خاتون اور اس کو بھگانے میں معاونت پر اس کی ممانی اور کزن کو قتل کردیا۔22سالہ لڑکی شادی کے بعد کراچی میں رہائش پذیر تھی۔
ہمیں پاکستان کا نام میلا کرنیوالی سفاکانہ اور غیرقانونی ”روایات“ کو ہمیشہ کیلئے دفن کرنا ہو گا۔ تشدد کے نتیجے میں گھر چھوڑنے والی لڑکی کو ملک کے دوسرے کونے میں کوئی محافظ نہ ملا‘ جرگے کے ایک فیصلے کو دوسرے جرگے نے ٹھکرایا اور قتل کا فیصلہ سنا ڈالا۔ جہاں غیرت کا تقاضا عورتوں کا خون بہانے سے بھی پورا ہو‘ وہاں واقعتاً غیرت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ لڑکی سے شکایت تھی کہ اس نے دوسری شادی کرلی تھی۔ نکاح پر نکاح کرنا غیرقانونی ہے اور اس کیلئے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے لیکن جرگے میں معاملے کو اٹھانا قتل سے پہلے محض رسمی اجازت لینے کے برابر تصور کیا جاتا ہے۔ تین خواتین کا جرگہ گردی کی نذر ہوجانا انتہائی قابل مذمت اور قانون کے منہ پر ایک طمانچہ ہے ۔قانون کا مذاق اڑانے کا اس سے بڑا اقدام کیا ہوسکتا ہے۔آدم خیل کے جرگے کے بہیمانہ اقدام پر اس کے ذمہ داروں کو بھی قرار واقعی سزا د ی جائے اور حکومت ایسے جرگوں پر مکمل پابندی کا اہتمام کرے۔