امریکی بحریہ کے ہیڈ کوارٹر میں دہشت گردی

ایڈیٹر  |  اداریہ

واشنگٹن میں امریکی بحریہ کے ہیڈ کوارٹر میں اندھا دھند فائرنگ سے 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ایک حملہ آور بھی مارا گیا جس کی شناخت آرون الیکسز کے نام سے کر لی گئی ہے۔ 34 سالہ آرون دو سال قبل امریکی بحریہ سے ڈسچارج ہوا تھا۔
بدقسمتی سے امریکہ میں دوسری امینڈمنٹ کے تحت ہر کسی کو اسلحہ خریدنے اور رکھنے کا حق ہے۔ اس آزادی کو جہاں امریکی آئین کا لازم حصہ اور امریکی ریاست کے بانیوں کی خواہشات کے مطابق سمجھا جاتا ہے‘ وہیں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں اس قانون پر نظرثانی کیلےءالتحا کرتے سنائی دیتے ہیں۔ امریکہ میں مضبوط لابیاں اور اسلحہ فروخت کرنے والی کارپور یشنز بھی بحث کو بڑھنے سے روکنے میں کامیاب رہی ہیں۔امریکی جھنڈا افسوسناک واقعہ کے بعد سرنگوں رہا۔آج پوری دنیا دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت امریکہ کر رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا میں جہاں بھی دہشت گردی ہو رہی ہے پوری دنیا متحد ہو کر اس کا متحد ہو کر خاتمہ کرے اور آنیوالی نسلوں کیلئے آج سے زیادہ محفوظ اور پرامن دنیا کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرے۔