قومی ایکشن پلان کمیٹی کے صائب فیصلے

ایڈیٹر  |  اداریہ
قومی ایکشن پلان کمیٹی کے صائب فیصلے

ہُنڈی حوالہ کاروبار ختم کرنے کے لئے آپریشن کا فیصلہ۔ قومی ایکشن پلان کمیٹی کا اجلاس دہشت گردی سے تعلق رکھنے والی تنظیموں، این جی اوز اور انفرادی بنک اکاﺅنٹس اور سائٹس بلاک کرنے کی ہدایت، 10 کروڑ سموں کی تصدیق کی جائے گی۔ افغان مہاجرین کیمپوں تک محدود رہیں گے۔
حکومت کی طرف سے دہشت گردی اور عسکریت پسندوں کے خلاف اقدامات میں مزید تیزی اور بہتری آ رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے اس سلسلہ میں ان کے مال، لین دین اور فنڈنگ کے سلسلے کو ختم کرنے کے لئے ہُنڈی کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف بھی آپریشن کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے غیر قانونی طریقے سے ان تنظیموں کو ملنے والی رقوم کو روکا جا سکے گا۔ قومی ایکشن پلان کمیٹی کے اجلاس میں ان تنظیموں کے این جی اوز اور ذاتی بنک اکاﺅنٹس بھی دہشت گردی میں ملوث ہونے کی بنا پر بلاک کر دئیے جائیں گے اور ملک بھر میں زیر استعمال 10 کروڑ سموں کی تصدیق کا عمل بھی دہشت گردی کے خاتمے میں معاون ثابت ہو گا کیونکہ سوشل میڈیا پر ان کے ویب سائٹس، موبائل فونز سے پیغام رسانی اور ہُنڈی کے ذریعے رقوم کا لین دین ایسے عناصر کے لئے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور اسی کے بل بوتے پر یہ معاشرے میں پنپتے ہیں اب ان تنظیموں کی مانیٹرنگ سے ان دہشت گردوں کو نقل و حمل اور پیغام رسانی کی سہولت کے خاتمے سے ان کی بلا روک ٹوک کارروائیوں میں کمی آ سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جن افغان مہاجرین نے پاکستانی شناختی کارڈ بنوا لئے ہیں اور یہاں کا پاسپورٹ حاصل کر لیا ہے، ملک کے مختلف شہروں میں گھر، پلازے اور کاروباری ادارے خرید لئے ہیں ان کو کس طرح قابو میں لایا جا سکے گا کیونکہ عام افغان مہاجر نہیں انکے روپ میں اب کئی ارب پتی، کروڑ پتی، منشیات فروخت اور سمگلر افراد دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ کوئی ایسا قانون یا طریقہ ضرور نکالا جائے کہ ان پر بھی ہاتھ ڈالا جا سکے اور انہیں یہ سہولتیں غیر قانونی طور پر دینے والے پاکستانیوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے کیونکہ صرف بلوچستان اور خیبر پی کے ہی نہیں یہ عناصر سندھ اور پنجاب میں بھی اپنے ہمدردوں کی توسط سے اپنے پنجے گاڑ چکے ہیں۔