فوجی قیادت کی اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے شٹل ڈپلومیسی‘ عالمی برادری کو تعاون پر قائل کرنے کی کوشش

ایڈیٹر  |  اداریہ
فوجی قیادت کی اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے شٹل ڈپلومیسی‘ عالمی برادری کو تعاون پر قائل کرنے کی کوشش

دہشتگردوں کے خاتمہ میں مصلحت کا شائبہ تک پیدا نہ ہونے دیں
 آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں بلاتفریق کارروائی کی جارہی ہے، واپسی کا کوئی راستہ نہیں، آرمی چیف نے برطانیہ میں انٹرنیشنل انسٹیٹوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیزکا دورہ کیا جہاں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا خیال نہیں تھاکہ دہشتگرد اس حد تک گرجائینگے کہ بچوں کا قتل عام کرینگے۔ ہم دہشتگردوں کیخلاف آخری حد تک لڑیں گے۔ پاکستان خطے میں عزت و وقارکے ساتھ امن کا خواہاں ہے، لیکن پاکستان کو امن وامان کے ساتھ اپنی عزت اور بقاءبھی عزیزہے، خطے میں دیرپا امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ شمالی وزیرستان کے متاثرین کی باعزت بحالی چاہتے ہیں، برطانیہ کو متاثرین کی بحالی میں پاکستان کی مددکرنی چاہئے ۔ پاکستان فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن اور بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔ کوئی اچھا اور برا دہشتگرد نہیں ہوتا، دہشتگردوں میں ہمارا کوئی پسندیدہ نہیں۔
پاکستان کو آج اندرونی اور بیرونی محاذ پر خطرات درپیش ہیں جن سے نمٹنے کیلئے پوری کوششیں ہو رہی ہیں۔ اصولی اور منطقی طور پر یہ کوششیں دوتہائی مینڈیٹ کی حامل جمہوری حکومت کی قیادت میں ہونی چاہئیں۔ حکمران کلاس کا دعویٰ بھی یہی ہے تاہم بادی النظر میں پاک فوج دونوں محاذوں پر قائدانہ کردار ادا کر رہی ہے۔ بھارتی فوج کے پاس پاکستانی فوج کے مقابلے میں اس قسم کے کہیں زیادہ اختیارات ہیں‘ بھارتی حکومت نے باقاعدہ اعلان کر رکھا ہے کہ ورکنگ باﺅنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فوج جو چاہے کرے۔ کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کیلئے بھارتی فوج قانونی طور پر آزاد ہے‘ یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں اسی خطے میں ہوتی ہیں جس کا اعتراف اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بارہا کیا گیا ہے۔
پاکستان کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے جہاں حکومت اور قومی اداروں کی فعالیت کی ضرورت ہے‘ وہیں عالمی برادری کا کردار بھی اہم ہے۔ عالمی برادری کو اس کردار پر آمادہ کرنے کیلئے بھی فوجی قیادت سرگرم عمل نظر آتی ہے۔ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے اپریشن ضرب عضب 15 جون 2014ءسے جاری ہے جس میں 16 دسمبر کو دہشت گردوں کی ملٹری پبلک سکول پشاور پر بربریت کے بعد تیزی آگئی۔ سقوط ڈھاکہ کے روز سانحہ پشاور کو پاکستان کا نائن الیون قرار دیا جا سکتا ہے جس کی پاداش میں پوری قوم متحد ہوئی‘ حکومت نے ایکشن پلان تشکیل دیا‘ خصوصی عدالتوں کے قیام کیلئے آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کی گئی اور دہشت گردوں کو پھانسیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔
 مذہب کا نام استعمال کرنیوالے دہشت گردوں‘ فرقہ واریت میں ملوث تخریب کاروں‘ علیحدگی پسندوں‘ لسانیت اور علاقائیت کا پرچار کرنیوالوں کی بیسیوں ممالک فنڈنگ کرتے ہیں۔ کئی ممالک میں ان لوگوں کے دفاتر قائم ہیں اور کئی ممالک میں پاکستان سے فرار ہونیوالوں کو پناہ دی گئی ہے۔ فوجی قیادت جمہوری حکومت کے کہنے پر یا اپنے طور پر شٹل ڈپلومیسی کے ذریعے ان ممالک کو تعاون پر قائل کررہی ہے۔ افغان بارڈر نائن الیون کے بعد سے غیرمحفوظ ہو گیا۔ پاکستان سے فرار ہونیوالے دہشت گردوں کو یہاں پناہ ملتی رہی‘ یہ سلسلہ ابھی تک ختم تو نہیں ہوا تاہم آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے سانحہ پشاور کے بعد مسلسل رابطوں سے پاک افغان تعلقات میں بہتری آئی ہے جس کا ڈی جی‘ آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے متعدد مواقع پر اظہار کیا ہے۔ جنرل باجوہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ دورے پر برطانیہ گئے‘ آرمی چیف نے بھی افغانستان کے ساتھ تعلقات میں استحکام کی بات کی جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ افغان بارڈر سے پاکستان میں دہشت گردی کے راستے مسدود ہو جائینگے۔ جنرل باجوہ نے برطانیہ میں میڈیا سے اپنی گفتگو میں کہا کہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی بیرونی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے بھارت کا نام لے کر کہا کہ بھارت دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کیلئے مسائل پیدا کر رہا ہے‘ ورکنگ باﺅنڈری پر مسلسل گولہ باری اس کا واضح ثبوت ہے۔ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں‘ پاکستان میں دہشت گردی میں مصروف گروپوں اور بھارت کا ایجنڈا ایک ہے۔ دونوں پاکستان میں عدم استحکام کیلئے کوشاں اور پاکستان کے دفاع کو زک پہنچانے کے درپے ہیں۔ دہشت گردوں کیخلاف مصروف عمل فوج کی توجہ ہٹانے کیلئے بھارت ورکنگ باﺅنڈری پر اشتعال انگیز کارروائیاں کررہا ہے۔ اسکی طرف سے الزام تراشیوں کا سلسلہ بھی رکنے کا نام نہیں لیتا۔ اسکی سیاسی قیادت سبق سکھانے اور فوجی قیادت پاکستان کو ملیامیٹ کرنے کی دھمکیاں دیتی رہتی ہے۔ اسکی طرف سے کشمیر کا بدلہ بلوچستان میں لینے کی باتیں بھی ہوتی ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر کو لائن آف کنٹرول پر باڑ لگا کر سیل کیا ہوا ہے۔ پاک فوج افغانستان سے تعاون کی براہ راست بات کرتی ہے۔ برطانیہ پر ہر قسم کے گروہوں کی فنڈنگ روکنے اور پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی پر زور دیا جارہا ہے۔ بھارت پاکستان کی بات سننے پر تیار نہیں‘ اسے پاکستان میں مداخلت سے باز رکھنے کیلئے امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک سے پاک فوج نے رابطے کئے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہی مناسب طریقہ ہے۔ دوسری صورت میں آرمی چیف نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے‘ مگر پاکستان کو عزت و وقار کے ساتھ اپنی بقاءبھی عزیز ہے۔ بین السطور یہ بھارت کیلئے واضح پیغام ہے۔ جنرل راحیل شریف نے حکومتی پالیسی واضح کرتے ہوئے برطانیہ میں انسٹیٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز کے دورے کے موقع پر کہا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک سے عزت اور برابری کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔ بھارت پاکستان کے ان جذبات کا احترام نہیں کرتا تو معاملات کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں جو خطے کے امن کیلئے تباہ کن ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی امن کیلئے بھی خطرناک ہونگے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین بنیادی اور بڑا تنازعہ کشمیر ایشو ہے‘ جو بھارت کا پیدا کردہ اور بھارت اسکے حل کی راہ میں سنگ گراں بنا ہوا ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے بغیر پاکستان بھارت دشمنی ختم نہیں ہو سکتی۔ اسی سبب دونوں ممالک کے درمیان چار جنگیں ہو چکی ہیں۔ آرمی چیف نے درست کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا۔ برطانیہ میں جا کر یہ بات کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ برطانیہ سمیت عالمی برادری خطے میں قیام امن کیلئے بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل پر قائل کرے۔
اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے دیگر ممالک کے تعاون کی یقیناً ضرورت ہے تاہم بہت کچھ حکومت فوج اور قوم نے خود کرنا ہے۔ نقل مکانی کیلئے بیرونی امداد کی ضرورت ہے۔ ہر پاکستانی کو بھی اس حوالے سے آگے آنا ہوگا۔ دہشت گردی ایک ناسور کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ اس کا خاتمہ ایک عزم اور ارادے کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ پاک فوج نے ضرب عضب کا دائرہ پورے ملک تک پہنچا دیا۔ دہشت گردوں کا ہر جگہ تعاقب ہو رہا ہے۔ خفیہ ایجنسیاں فعال ہیں‘ فوجی عدالتوں میں مقدمات بھجوائے جا رہے ہیں مگر اب بھی کہیں کہیں کوتاہیاں نظر آتی ہیں۔ لگتا ہے کہیں نہ کہیں مصلحتیں آڑے آرہی ہیں۔ اب تک سننے اور دیکھنے میں نہیں آیا کہ دہشت گردوں کے کسی سہولت کار حامی کیخلاف کوئی کارروائی ہوئی ہے یہاں تک کہ مولانا عبدالعزیز داعش جیسی دہشتگرد تنظیم کو پاکستان میں آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ یہ ریاست کیخلاف بغاوت نہیں تو کیا ہے۔ اس پر مصلحت کیسی؟ ملک کو دہشت گردوں کے چنگل سے نکالنے کی کاوشیں بجا‘ مصلحت کا ذرہ برابر تاثر بھی قائم نہیں ہونا چاہیے۔ قوم کے حوصلے بلند ہیں‘ وہ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے یکجہت اور یکجان ہے‘ اسکے عزم میں کمزوری نہ آنے دی جائے۔