جیلوں میں موبائل فونز کی آزادانہ ترسیل

ایڈیٹر  |  اداریہ
جیلوں میں موبائل فونز کی آزادانہ ترسیل

پنجاب کی جیلوں میں موبائل فونز کی موجودگی جیلوں کی سکیورٹی کیلئے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ جیلوں سے مسلسل موبائل فونز کی برآمدگی نے انکی سکیورٹی پر سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ موثر کارروائی نہ ہونے سے موبائل فونز اور سمز کی جیلوں کے اندر رسائی کا سلسلہ جاری ہے۔
بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کی جیلوں کو دو مرتبہ توڑ کر سینکڑوں دہشت گردوں کو رہا کرایا گیا۔ گذشتہ ماہ کراچی جیل توڑنے کی سازش پکڑی گئی۔ تینوں جیلوں کو توڑنے کیلئے اندر سے پلاننگ کی گئی جس پر باہر سے موبائل فونز کے ذریعے عمل درآمد کرایا گیا۔ ان کارروائیوں کے دوران جیل حکام اور اہلکار بھی مارے گئے تھے۔ اسکے بعد تو ایک بھی موبائل فون جیل کے اندر نہیں پہنچنا چاہئے تھا۔ مگر چند عاقبت نااندیش اور لالچی و راشی افسر اور اہلکار خطرناک قیدیوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ پھانسیوں پر عمل شروع ہونے کے بعد ہر جیل حساس ہے۔ اس حوالے سے تو فول پروف سکیورٹی انتظامات کی ضرورت ہے، مگر ہو یہ رہا ہے کہ خطرناک قیدی موبائل استعمال کر رہے جو موجودہ حالات میں جیل انتظامیہ کیلئے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ مجرموں کو ایسی سہوتیں فراہم کرنے والا عملہ گویا اسی شاخ کو کاٹ رہا ہے جس پر خود بیٹھا ہے۔ یہ لوگ شاید آئی جی جیل خانہ جات کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے وزیراعلیٰ شہبازشریف اس کا سخت نوٹس لیں۔