احتساب کا مضمون شامل کرنے سے نسل نو میں احتساب کا شعور اجاگر ہو گا

ایڈیٹر  |  اداریہ
احتساب کا مضمون شامل کرنے سے نسل نو میں احتساب کا شعور اجاگر ہو گا

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے احتساب کے مضامین نصاب میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی چیئرمین اعلیٰ تعلیمی ظہیر احمد اعوان کے مطابق لازمی انگریزی، مطالعہ پاکستان اور مضامین میں ایک ایک احتساب کا مضمون شامل ہو گا۔ احتساب کے مضامین پہلی جماعت سے ماسٹرز تک کے کورسز میں شامل ہوں گے۔
جن معاشروں میں احتساب نہیں ہوتا۔ وہاں لاقانونیت پنجے گاڑ لیتی ہے اور معاشرے بدحالی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں احتساب بیورو کا ادارہ تو موجود ہے لیکن بدقسمتی سے حکمران اس ادارے کو اپنے ذاتی مفاد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اقتدار میں آتے ہی حکمران سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کیلئے احتساب بیورو کا ادارہ وسیع کر دیتے ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں میں بلا امتیاز احتساب کیا جاتا ہے۔ وہاں امیر غریب چھوٹے اور بڑے کی تفریق کئے بغیر سب قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں احتساب اس لئے بھی نہیں ہو رہا کہ یہاں پر کسی کو احتساب کا علم ہی نہیں۔ اگر کوئی کرپشن کرتا ہے تو اسے قانون کے کٹہرے میں کیسے لانا ہے اکثریت کو علم نہیں۔ اسی بنا پر چوکیدار اور چپڑاسی سے لیکر وزیر اعظم تک کا جتنا بس چلتا ہے وہ کرپشن کرتے ہیں۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پہلی جماعت سے لےکر ایم اے تک کے کورسز میں احتساب کا مضمون شامل کرنیکی منظوری دیدی ہے جو خوش آئند ہے۔ اس مضمون سے نسل نو میں احتساب کے بارے شعور اجاگر ہو گا۔