خضدار کے بعد پشاور میں اے این پی کے انتخابی جلسے میں خودکش دھماکہ

دہشتگرد اپنے عزائم میں کامیاب ہو گئے تو پھر ملکی سلامتی کی بھی کوئی ضمانت نہیں
خضدار میں مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر سردار ثناءاللہ خان زہری کے قافلے پر بم حملے کے بعد منگل کی شام پشاور کے علاقے منڈابیری میں عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی جلسہ میں خودکش بم دھماکے کے نتیجہ میں 18 افراد جاں بحق اور پچاس سے زائد شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی ہونیوالوں میں اے این پی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر غلام احمد بلور بھی شامل ہیں جبکہ تھانہ کوتوالی کے ایس ایچ او سمیت پانچ پولیس اہلکار اور ایک صحافی بھی اس خودکش حملہ میں جاں بحق ہوئے۔ اس انتخابی جلسے کا اہتمام غلام احمد بلور کی انتخابی مہم کے سلسلہ میں کیا گیا تھا جس میں اے این پی کے صوبائی امیدوار ہارون بلور بھی شریک تھے۔ ان دونوں رہنماﺅں کے جلسہ گاہ میں پہنچتے ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا اور چاروں طرف انسانی اعضاءبکھر گئے جبکہ ہارون بلور کی گاڑی کو آگ لگ گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کالعدم طالبان نے اس دھماکہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ سی سی پی او پشاور کے بقول خودکش حملہ آور نے غلام احمد بلور کی گاڑی کے قریب آکر خود کو دھماکے سے اڑایا۔ اے این پی کے رہنما زاہد خان نے الیکشن کمیشن پر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دہشت گردی کی اس واردات کی ایف آئی آر بھی الیکشن کمیشن کیخلاف درج کرانے کا اعلان کیا ہے جبکہ اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی نے کہا ہے کہ باچا خان کے پیروکار میدان نہیں چھوڑیں گے۔ نگران وزیراعظم میرہزار خان کھوسو اور قومی سیاسی قائدین میاں نواز شریف‘ میاں شہباز شریف‘ الطاف حسین‘ عمران خان‘ مولانا فضل الرحمان‘ سید منور حسن‘ چودھری شجاعت حسین‘ چودھری پرویز الٰہی‘ صوبائی گورنروں اور نگران وزراءاعلیٰ نے بھی دہشت گردی کی اس گھناﺅنی واردات کی مذمت کی ہے۔ ملک میں امن و سلامتی اور جمہوریت کے دشمن عناصر کی جانب سے عام انتخابات کیلئے نگران سیٹ اپ کی تشکیل سے پہلے ہی انتخابات نہ ہونے دینے کیلئے سنگین نتائج کی دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا جس کے جواز میں وہ یہ مجہول فلسفہ پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ مروجہ جمہوری نظام شریعت کے تقاضوں کے منافی ہے‘ اس لئے اس نظام کو قبول نہیں کیا جائیگا۔ ان شرپسند عناصر نے تو یقیناً اپنے اسی ایجنڈہ پر کاربند رہنا ہے کہ عقل و دانش کی کوئی بات اپنے پلے باندھنے کو وہ آمادہ نہیں اور دہشت گردی کے زور پر اپنی من مرضی کا نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں تاہم سٹیٹ اتھارٹی کو چیلنج کرنیوالے انکے منصوبوں اور عزائم کو ناکام بنانا حکومتی ریاستی مشینری کی ذمہ داری ہے جس کیلئے چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم نے اپنے منصب کا حلف اٹھاتے ہی دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ صاف شفاف انتخابات کیلئے امن و امان کی بحالی انکی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ چنانچہ اس تناظر میں جبکہ دہشت گردوں اور تخریب کار عناصر کے عزائم بھی کھل کر سامنے آرہے تھے‘ نگران حکومت کی جانب سے قیام امن کو یقینی بنانے کے محض اعلانات ہی نہیں ہونے چاہئیں تھے بلکہ اس مقصد کیلئے عملی اقدامات بھی اٹھائے جانے چاہئیں تھے تاکہ دہشت گردی کی کسی بڑی واردات کی بنیاد پر جمہوریت اور امن دشمنوں کو انتخابی عمل میں رخنہ ڈالنے کا موقع نہ مل سکے۔ بدقسمتی سے نگران حکومتوں کی جانب سے حقائق کا ادراک ہونے کے باوجود نہ صرف قومی سیاسی شخصیات اور انتخابی امیدواروں کی سیکورٹی کو مو¿ثر بنانے کا کوئی ٹھوس اقدام نہ کیا گیا بلکہ دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ میں موجود قومی سیاسی قائدین کی پہلے سے موجود سکیورٹی میں بھی نمایاں کمی کردی گئی۔ اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی نے خودکش حملے کی واردات کے بعد اپنا فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسی حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اے این پی کے لیڈران کو دی گئی سکیورٹی واپس لے لی گئی تھی اس لئے دہشت گردوں کو پشاور کے جلسہ میں خودکش دھماکہ کا موقع ملا ہے۔ اگرچہ چیف الیکشن کمشنر نے سیاست دانوں کی سکیورٹی واپس لینے کی تردید کی ہے اور اس سلسلہ میں میڈیا پر آنیوالی رپورٹوں کا نوٹس بھی لے لیا ہے تاہم خیبر پی کے میں جس انداز میں اے این پی کے لیڈران اور امیدواران یکے بعد دیگرے دہشت گردی کی وارداتوں کی زد میں آرہے ہیں اور جس طرح خضدار میں مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر کے قافلے پر بم حملہ ہوا‘ اس سے بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ سیاست دانوں کی سکیورٹی میں نرمی کے نتیجہ میں ہی دہشت گردوں کو انہیں نشانہ بنانے کا موقع مل رہا ہے اس لئے انتخابی مہم کے دوران ان سیاست دانوں کی زندگیوں کو لاحق سکیورٹی کے خطرے کا فوری سدباب نہ کیا گیا تو اس سے انتخابی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ اے این پی کے سربراہ نے اگرچہ یہ دوٹوک اعلان کیا ہے کہ اے این پی انتخابات کے انعقاد میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں کریگی تاہم اگر انتخابی مہم کے دوران اسی تواتر کے ساتھ دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی رہیں اور دہشت گردوں کے مذموم عزائم کے آگے بند باندھنے میں ملک کی سکیورٹی ایجنسیاں اور حکومتی مشینری بے بس نظر آئی تو پھر یہاں انتخابی عمل کی بنیاد پر جمہوری نظام کے تسلسل کی خاطر پرامن انتقال اقتدار کی نوبت ہی نہیں آسکے گی اور ملک‘ امن اور جمہوریت دشمن عناصر اپنے تخریبی ایجنڈے کی تکمیل میں کامیاب ہو جائینگے۔ کیونکہ پشاور کے خودکش حملے کے بعد گزشتہ روز بھی اے این پی کے ایک امیدوار خودکش حملے میں دہشت گردوں کے عزائم کی بھینٹ چڑھنے سے بال بال بچے ہیں۔ جب نگران سیٹ اپ کے پاس ایجنسیوں کی رپورٹوں کی صورت میں یہ مصدقہ اطلاعات موجود ہیں کہ انتخابات میں حصہ لینے والی 40 سے زیادہ قومی شخصیات دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں تو ان اطلاعات کی بنیاد پر حکومت کو متعلقہ سیاسی شخصیات کی سکیورٹی کے شفاف انتظامات کے علاوہ ملک میں امن و امان کی بحالی کیلئے بھی فوری اور ٹھوس اقدامات کا آغاز کر دینا چاہیے تھا چہ جائیکہ متعلقہ سیاسی شخصیات کی سکیورٹی پہلے سے بھی کم کردی جائے۔ دہشت گردی کی جنگ میں ویسے بھی دہشت گردوں کے ہاتھوں ملک کی سالمیت داﺅ پر لگی ہوئی ہے اور گزشتہ روز بھی شمالی وزیرستان میں ایف ڈبلیو او کی ایک گاڑی پر ریمورٹ بم حملے کے نتیجہ میں سات اہلکار شہید اور 19 افراد زخمی ہوئے ہیں اس لئے اس فضا میں انتخابات کے مقررہ میعاد کے اندر پرامن انعقاد کی خاطر سکیورٹی کو مزید سخت بنایا جانا ضروری ہے اور جبکہ امن و امان کی موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی پولنگ تک چھٹیاں منسوخ کرکے انہیں تمام حساس علاقوں میں مستعدی کے ساتھ فرائض سرانجام دینے پر مامور کیا جائے اور سول سیٹ اپ کے حوالے سے کسی انا کا مسئلہ بنائے بغیر انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی شخصیات اور امیدواروں کے علاوہ ووٹروں کی جان کے تحفظ کی خاطر بھی ملک کی مسلح افواج کی ابھی سے معاونت حاصل کرلی جائے تاکہ دہشت گردی کے کسی بڑے سانحہ سے بچا جا سکے۔ اس سلسلہ میں نگران وزیراعلیٰ خیبر پی کے جسٹس طارق پرویز نے سکیورٹی کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس اور اے این پی نے تھنک ٹینک کا اجلاس طلب کرکے معاملات کا جائزہ لیا ہے اور دہشت گردی سے ہار نہ ماننے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ مزید کسی انسانی جان کے ضائع ہوئے بغیر امن و امان کی فضا میں انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنالیا جائے اور دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں ہمیں اب تک ہونیوالے قیمتی انسانی جانی اور مالی نقصانات کا جائزہ لے کر دہشت گردی کی جنگ میں اپنے کردار کا ازسرنو تعین کرلیا جائے۔ اگر اس جنگ میں بھاری نقصانات اٹھانے اور ملک و سسٹم کے سلامتی کو داﺅ پر لگانے کے باوجود دہشت گرد اپنے عزائم اور مقاصد میں کامیاب ہو گئے تو پھر ملک کی سلامتی کی ضمانت دینا مشکل ہو جائیگا۔ ہم نے ملک کو بچانا ہے تو ہمیں دہشت گردوں کو انکے منصوبوں سمیت یہاں سے بھگانا ہو گا ورنہ ہماری ملکی اور قومی سلامتی کا تحفظ بھی ناممکنات میں شامل ہو جائیگا۔