الیکشن کمیشن دفاتر میں میڈیا پربلاجواز پابندی

الیکشن کمیشن نے میڈیا کی معلومات تک رسائی محدود کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے صحافیوں کی الیکشن کمیشن کے دفاتر میں داخلے پر پابندی عائد کر دی جبکہ ترجمان الیکشن کمیشن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ داخلہ بند نہیں کیا۔ معلومات ترجمان کے ذریعے دئیے جانے کا سسٹم بنایا ہے۔الیکشن کمیشن نے صحافیوں کیلئے معلومات لینے کا جو ضابطہ اخلاق بنایا ہے۔ اس سے بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن میڈیا پر صرف اپنی فیڈڈ سٹوریز دینا چاہتا ہے۔ یہ پالیسی آزادی¿ صحافت کے تقاضوں اور ”رائب آف انفرمیشن ایکٹ“ کے منافی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ اسکے علاوہ الیکشن کمیشن کے تمام عملے کو ذاتی حیثیت میں بھی موبائل فون یا ایس ایم ایس کے ذریعے بھی میڈیا کو کسی قسم کی معلومات فراہم کرنے سے روک دیا گیا ہے اس لئے شعور و آگہی کے اس دور میں الیکشن کمیشن کی یہ پابندی درحقیقت میڈیا کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ الیکشن کمیشن میڈیا کے قوم کو حقائق سے آگاہ رکھنے کے حق کو سلب نہ کرے کیونکہ کسی ترقی پذیر ملک میں ایسی پابندیوں کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں اس لئے بہتر یہی ہے کہ الیکشن کمیشن میڈیا پر پابندی کے اس فیصلہ کو فی الفور واپس لے لے اور نگران وفاقی وزارت اطلاعات بھی اس معاملہ کا نوٹس لے۔