پاکستان کی مخالفت کے بعد آپریشن کی بھی مخالفت

ایڈیٹر  |  اداریہ
پاکستان کی مخالفت کے بعد آپریشن کی بھی مخالفت

خیبر پی کے کے وزیر خزانہ اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ وفاق کی پالیسیوں کی وجہ سے خیبر پی کے مشکلات کا شکار ہے۔ وفاقی پالیسیوں سے صوبہ جل رہا ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں مزید تعاون نہیں کریں گے۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر دہشت گردی کی جنگ کے خلاف پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہیں لیکن جماعت اسلامی اس نازک صورتحال پر بھی سیاست چمکانا شروع ہو گئی ہے۔ جماعت اسلامی کی یہ کوئی نئی منطق نہیں بلکہ قیام پاکستان کے وقت بھی جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی نے پاکستان کی مخالفت کی تھی، جب پاکستان بن گیا، تو انہوں نے اپنے مؤقف سے رجوع کیا تھا۔ اب پوری قوم ضرب عضب آپریشن کے حق میں ہے تو جماعت اسلامی نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے۔ اس آپریشن کی مخالفت کر دی ہے جماعت اسلامی کو ملک میں چارسُو پھیلی وحشت نظر کیوں نہیں آتی۔ کراچی ائر پورٹ پر حملہ 18 کروڑ عوام کے سینوں میں نیزے کی انی کی طرح کچوکے لگا رہا ہے لیکن مذہب کا لبادہ اوڑھنے والے نام نہاد سیاستدان اس حملہ پر بھی خاموش ہیں۔ جب بستیاں جل رہی تھیں اور قوم شہادت گاہیں آباد کر رہی تھی جماعت اسلامی نے تب بھی دو لفظ تعزیت کے نہیں کہے۔ سراج الحق سے قبل سابق امیر جماعت اسلامی منور حسن نے بھی اپنا وزن دہشت گردوں کے پلڑے میں ڈالا تھا۔ اب سراج الحق بھی اس راستے پر چل نکلے ہیں انہیں اگر اتنا ہی مخالفت کا شوق ہے تو پھر دہشت گردوں کے پاس جا کر ان سے مل جائیں کیونکہ 18کروڑ عوام ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتے۔