شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کیخلاف اپریشن ضرب عضب کا آغاز اور مقامی باشندوں کی ذمہ داری…قومی یکجہتی کے ساتھ اس اپریشن کو نتیجہ خیز بنانا ضروری ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ
شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کیخلاف اپریشن ضرب عضب کا آغاز اور مقامی باشندوں کی ذمہ داری…قومی یکجہتی کے ساتھ اس اپریشن کو نتیجہ خیز بنانا ضروری ہے

پاک فوج نے حکومت کے احکامات پر شمالی وزیرستان میں غیرملکی اور مقامی دہشت گردوں کیخلاف جامع اپریشن شروع کر دیا ہے جسے ’’ضربِ عضب‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان کو مرکز کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ریاست پاکستان کیخلاف جنگ شروع کر رکھی ہے جو ہماری قومی زندگی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور اقتصادی ترقی‘ املاک اور جانی نقصان کررہے ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ان دہشت گردوں نے ایجنسی کے اندر بھی زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے اور محب وطن اور امن پسند مقامی آبادی کو بھی دہشت زدہ کیا ہوا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق افواج پاکستان کو ان دہشت گردوں کے خاتمہ کا ہدف دیا گیا ہے جو پوری قوم کے تعاون اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی معاونت سے پایۂ تکمیل کو پہنچایا جائیگا اور ان ریاست دشمنوں کو کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔ افواج پاکستان ہمیشہ کی طرح مادر وطن کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریگی۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق فوج نے پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے اور اہم تنصیبات کی حفاظت پر اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سفارتکاروں کو بھی ملک میں اپنی سرگرمیاں محدود رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سکیورٹی حکام نے ایک غیرملکی ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شمالی وزیرستان اپریشن میں فضائیہ‘ آرٹلری اور ٹینک استعمال ہونگے جبکہ دہشت گردوں کیخلاف کارروائی میں 40 ہزار فوجی اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان کی انتظامیہ نے علاقے میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے جس کی خلاف ورزی پر گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اپریشن کے پیش نظر مقامی لوگوں کا بڑی تعداد میں نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دہشت گردی کے خاتمہ سے متعلق حکومتی کمزور پالیسیوں سے فائدہ اٹھا کر دہشت گرد بیرونی کمک حاصل کرکے اور منظم ہو کر ملک کی سلامتی تک کو نقصان پہنچانے کی راہ اختیار کر چکے تھے جبکہ اتنی بڑی تعداد میں ازبکستان‘ ترکستان اور دوسرے ممالک سے مسلح اور تربیت یافتہ دہشت گردوں کا غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونا حکومتی گورننس کے معاملہ میں بذات خود ایک المیہ تھا۔ اس صورتحال میں افواج پاکستان نے آئین کے تقاضوں کے مطابق بہرصورت ملک کی سرحدوں اور سالمیت کی حفاظت کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرنا ہوتی ہے جس کیلئے افواج پاکستان ہمہ وقت مستعد اور چوکس تھیں اور دہشت گردوں کے خودکش حملوں اور دوسری وارداتوں کا جواب بھی دے رہی تھیں تاہم ملک میں پھیلتے دہشت گردی کے ناسور کے قلع قمع کیلئے حکومتی سطح پر موثر حکمت عملی کے تحت بھرپور اپریشن کی ضرورت تھی جس کیلئے بالآخر کراچی ایئرپورٹ کی دہشت گردی کے بعد وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں حکومت اور عسکری قیادتوں میں اتفاق رائے ہوا جس کی بنیاد پر گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں اپریشن ’’ضربِ عضب‘‘ کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس اپریشن کے باقاعدہ آغاز سے ایک رات پہلے سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے دیگان میں دہشت گردوں کے آٹھ ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کرکے اہم کمانڈروں سمیت 150 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جن میں 110 دہشت گردوں کا تعلق ازبکستان سے تھا۔ چونکہ کراچی ایئرپورٹ کی دہشت گردی میں شریک سارے کے سارے دہشت گرد غیرملکی تھے‘ جن میں سے چار کی ازبک باشندوں کے طور پر شناخت ہوئی جبکہ اس واردات کے بعد ازبکستان کی ’’اسلامک موومنٹ‘‘ نامی تنظیم نے اسکی ذمہ داری بھی قبول کی اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں مارے گئے ان دس کے دس دہشت گروں کی تصاویر بھی جاری کردیں اس لئے اس امر میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہی تھی کہ ملک کی سالمیت کیخلاف سازشوں میں دہشت گردوں کو باہر سے کمک حاصل ہورہی ہے۔ یہ صورتحال کسی آزاد اور خودمختار مملکت کیلئے یقیناً قابل قبول نہیں ہو سکتی چنانچہ دیرآید درست آید کے مصداق حکومت نے دہشت گردوں کیخلاف باقاعدہ اپریشن کیلئے عسکری قیادتوں کی ہاں میں ہاں ملا دی ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے گزشتہ روز اس حوالے سے اپنے بیان میں باور کرایا کہ ہم نے طالبان سے مذاکرات کی بھرپور کوششیں کیں مگروہ اس راہ پر نہیں آئے چنانچہ اب آخری دہشت گرد کے مارے جانے تک اپریشن جاری رہے گا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف اور وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بھی یہی عندیہ دیا ہے کہ دہشت گردوں کیخلاف اپریشن کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔ انکے بقول جنگجو اب ہتھیار ڈالیں یا وہ ختم ہو جائینگے۔ پیپلزپارٹی‘ اے این پی اور ایم کیو ایم متحدہ سمیت متعدد سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی اپریشن کے فیصلہ کو مستحسن قرار دیا ہے۔ متحدہ کے قائد الطاف حسین اور عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہرالقادری نے لندن اور کینیڈا سے جاری کئے گئے اپنے ویڈیو پیغامات کے ذریعے اس اپریشن میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔ تحریک انصاف نے بھی اپریشن کی مخالفت نہیں کی البتہ جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام (س اور ف) کی قیادتوں نے اس اپریشن کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا ہے جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے بمباری کیخلاف موثر جوابی کارروائیاں کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بقول ہمیں مذاکرات میں الجھا کر اپریشن شروع کیا گیا ہے۔
اس وقت چونکہ پوری قوم اور قومی سیاسی قائدین کی غالب اکثریت ملک میں دہشت گردی کے مستقل خاتمہ اور امن کی بحالی کی خاطر اپریشن ضربِ عضب کیلئے افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کررہی ہے اور دہشت گردوں نے اپنے من مانے ایجنڈے کی خاطر ملک کو جتنا بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے اسکے پیش نظر اب اپریشن کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جانا ضروری ہے۔ بی بی سی کی گزشتہ روز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو نائن الیون کے بعد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اب تک آٹھ ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے حالانکہ فی الحقیقت ہمیں 80 ارب ڈالر کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے جبکہ اس عرصہ میں دس لاکھ لوگ اندرونی طور پر دربدر ہوئے ہیں‘ صرف یہی نہیں دہشت گردوں کے ہاتھوں سکیورٹی فورسز کے دس ہزار کے قریب جوانوں اور افسران سمیت ملک کے پچاس ہزار سے زائد بے گناہ شہریوں کی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں جبکہ اس سے بھی زیادہ تعداد میں زخمی ہونیوالے افراد اپنے خاندانوں پر مستقل بوجھ بن چکے ہیں۔ دہشت گردوں کی ان جنونی کارروائیوں کی وجہ سے بیرون ملک بھی پاکستان کا امیج خراب ہوا اور بیرونی ہی نہیں‘ اندرونی سرمایہ کاروں نے بھی یہاں سے بھاگنا شروع کر دیا جبکہ امریکہ کو بھی شمالی جنوبی وزیرستان میں قائم دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے جواز میں ہماری سالمیت اور خودمختاری کی پرواہ کئے بغیر یہاں ڈرون حملے کرنے کا موقع ملا۔
یقیناً کوئی آزاد اور خودمختار ملک بندوق اور بارود اٹھا کر اپنا من مانا ایجنڈہ مسلط کرنے کی خواہش رکھنے والے دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بن سکتا جبکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہوتی ہے اس لئے حکومت نے چاہے آخری چارہ کار سمجھ کر دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن اپریشن کا فیصلہ کیا ہے‘ جس کا افواج پاکستان کی جانب سے باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے تو اب قوم کا ہر فرد اس اپریشن کی کامیابی کا متمنی ہے جس کیلئے وہ افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کااظہار بھی کر رہے ہیں اس لئے اب حکومتی صفوں میں اپریشن کے حوالے سے کوئی جھول یا ابہام نظر نہیں آنا چاہیے۔ گزشتہ روز بھی سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں جیٹ طیاروں کے ذریعہ دہشت گردوں کے چھ ٹھکانوں پر بمباری کی‘ جس میں 27 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ اگر اپریشن اسی جذبے اور تسلسل کے ساتھ جاری رہا تو یہ ملک میں دہشت گردی کے مستقل خاتمہ کی ضمانت بن جائیگا۔
مورچہ بند مسلح گروہوں کیخلاف اپریشن کا فیصلہ یقیناً آسان نہیں ہوتا اور اس میں سکیورٹی فورسز کو جانی اور مالی نقصانات اٹھانا پڑتے ہیں مگر ملک کی سلامتی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی خاطر ریاستی اتھارٹی کو چیلنج کرنیوالوں کا قلع قمع کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ افواج پاکستان تو پہلے ہی دہشت گردوں کے ہاتھوں بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھا چکی ہیں اس لئے مزید نقصان سے بچنے اور ملک کی سالمیت کو محفوظ بنانے کی خاطر دیر‘ سوات‘ مالاکنڈ اور چترال کے بعد اب شمالی وزیرستان میں باقاعدہ اپریشن کا آغاز کیا گیا ہے تو اسے موثر اور نتیجہ خیز بنا کر ہی ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے خلاصی دلائی جا سکتی ہے۔ اس اپریشن میں یقیناً مقامی آبادیوں کے لوگوں کو وقتی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑیگا جن کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت نے محفوظ مقامات پر انکے عارضی ٹھکانوں کا بندوبست بھی کر دیا ہے اس لئے مقامی باشندوں کو بھی اس اپریشن میں حکومت اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے اور ملکی سلامتی اور قومی مفاد کی خاطر ان مشکلات کو برداشت کرلینا چاہیے جو دوران اپریشن انہیں بے گھر ہونے کی صورت میں اٹھانا پڑیں گی۔ ابھی سکیورٹی فورسز نے شہری آبادی والے علاقوں میں اپریشن شروع نہیں کیا اس لئے ان آبادیوں کے مکینوں کو متبادل جگہ پر منتقل ہو کر اپنی حفاظت کا بندوبست کرلینا چاہیے۔ ملک دشمنوں کیخلاف جنگ میں تو بہرصورت قربانیاں بھی دینا پڑتی ہیں اور نقصانات بھی اٹھانا پڑتے ہیں۔