بھارتی وزیر دفاع کی اُلٹی گنگاپاکستان پر الزامات اور دھمکیاں

ایڈیٹر  |  اداریہ
بھارتی وزیر دفاع کی اُلٹی گنگاپاکستان پر الزامات اور دھمکیاں

بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی نے کہا ہے بھارت سے تعلقات معمول پر لانے کیلئے پاکستان کو کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزیاں بند کرنی ہونگی، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اپنے پہلے دورہ سری نگر کے دوسرے روز انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کنٹرول لائن پر سیزفائر کی خلاف ورزیاں اور دراندازی جاری رہنے تک پاکستان سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ارون جیٹلی نے دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان نے کنٹرول لائن پر سیزفائر کی خلاف ورزی بند نہ کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ جیٹلی نے اُلٹی گنگا بہادی ، چور نالے چتر کے مترادف خود جارحیت کی اور الزام پاکستان پر دھر دیا۔لائن آف کنٹرول پر مودی کے بر سراقتدار آنے کے بعد بھارت کی طرف سے اشتعال انگیزی کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا ، جس کا پاک فوج کی طرف سے مناسب جواب دیا جاتا ہے۔ بھارت اپنی جارحیت کو پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر اسے عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قرار دادیں موجود ہیں پاکستان ان پر عمل درآمد چاہتاہے جبکہ بھارت پورے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔فطری طور پر مذاکرات سے جارح فریق ہی راہِ فرار اختیار کرتا ہے جو بھارت کررہاہے۔پرامن ماحول پاکستان کی ضرورت ہے،اسے پاکستان کیوں خراب کرے گا ؟اب پاکستان کے پاس بہترین موقع ہے کہ بھارت کے عزائم کو پوری دنیا پر آشکار کیا جائے جو کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق استصواب کا حق دینے کو تیار نہیں۔ایل او سی پر جارحانہ کارروائیاں کر کے پاکستان کو دھمکیوں کا ہماری حکومت نہ صرف سنجیدگی سے نوٹس لے بلکہ ان کا بھرپور جواب بھی دے ۔مودی جو پاکستان کے حوالے سے در اصل موذی ہے، اس پر اعتماد اور اعتبار کے بجائے اس سے کی سازشوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔