دہشتگردی کی جنگ میں سکیورٹی فورسز کے افسران‘ جوانوں اور عوام کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی

ایڈیٹر  |  اداریہ
دہشتگردی کی جنگ میں سکیورٹی فورسز کے افسران‘ جوانوں اور عوام کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی

مہمند اور پشاور میں خودکش حملے اور سیاسی و عسکری قیادتوں کا دہشتگردوں کیخلاف بھرپور قوت استعمال کرنے کا فیصلہ
وزیراعظم میاں نوازشریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں‘ جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی‘ ملک کی سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے طے کیا گیا کہ دہشت گردوں کو کسی قیمت پر دوبارہ سر نہیں اٹھانے دیا جائیگا اور ملک میں ہر طرح کی دہشت گردی کا قلع قمع کیا جائیگا۔ اجلاس میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران لاہور‘ کوئٹہ‘ پشاور اور مہمند میں ہونیوالے دہشت گرد حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور خیال ظاہر کیا گیا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات دہشت گردوں کیخلاف حکومت کی بھرپور کارروائیوں کا ردعمل ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ ملکی امن و سلامتی کو درپیش کسی بھی بیرونی خطرے سے ریاستی طاقت سے نمٹا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج‘ پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے دیگر سول اداروں اور شہریوں نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں‘ ہم فوج‘ پولیس اور سول اداروں کے اپریشنز کے حاصل کردہ اہداف ضائع نہیں جانے دینگے۔ اجلاس میں داخلی و خارجی دہشت گردوں کیخلاف بھرپور ریاستی قوت استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیرحیات نے گزشتہ روز وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کی جس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ لاہور دہشت گردی کے حملہ سے قوم کے دہشت گردی کے خاتمہ سے متعلق عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ ملاقات میں مسلح افواج کے ترقیاتی پروگرام اور سٹرٹیجک معاملات پر بات چیت کی گئی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کو مذموم وارداتوں کیلئے سرگرم عمل دہشت گردوں کو پاکستان کی سلامتی کے درپے بھارت کی سرپرستی حاصل ہے جس نے اپنی ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے بلوچستان اور دوسرے علاقوں میں اپنا نیٹ ورک پھیلا رکھا ہے اور اس نیٹ ورک کے ذریعہ ہی دہشت گردوں کی تربیت کی جاتی ہے اور انہیں اسلحہ اور فنڈز فراہم کرکے پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کیلئے بھجوایا جاتا ہے۔ بھارت کی جانب سے ان دہشت گردوں کو افغانستان کی سرزمین پر تربیت دی جاتی ہے جس کیلئے بھارت نے کابل انتظامیہ کی ملی بھگت سے افغانستان کے کئی غیرمعروف شہروں میں اپنے قونصل خانے قائم کر رکھے ہیں جو درحقیقت پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی سازشوں کے بھارتی مراکز ہیں۔ ان بھارتی سازشوں اور ’’را‘‘ کی سرپرستی میں کرائی گئی دہشت گردی کی وارداتوں کے ٹھوس ثبوت پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں نے حاصل کئے ہوئے ہیں جس کیلئے بھارتی ’’را‘‘ کے حاضر سروس جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن یادیو نے پاکستان کی ایجنسیوں کو ٹھوس شواہد اور معلومات فراہم کی ہیں۔ اس بھارتی نیٹ ورک نے پاکستان میں دہشت گردی کے کئی محاذ سنبھال رکھے ہیں چنانچہ یہی نیٹ ورک بلوچستان میں پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کیلئے دہشت گردی کی سفاکانہ وارداتیں کرتا ہے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلرز کی سرپرستی اور مالی معاونت کرکے وہاں دہشت و وحشت کا بازار گرم کرتا ہے۔ فاٹا اور خیبر پی کے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کیلئے بھارتی ’’را‘‘ کا یہی نیٹ ورک مذہبی انتہاء پسندوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کرتا ہے جبکہ پنجاب میں بھی دہشت گردی اور خودکش حملوں میں ملوث مذہبی انتہاء پسندوں اور دوسرے عناصر کو بھارتی ’’را‘‘ کی ہی سرپرستی‘ اسلحہ اور مالی معاونت حاصل ہے۔ پیر کے روز لاہور میں چیئرنگ کراس پر خودکش حملہ‘ جس میں کیپٹن احمدمبین اور زاہد محمود گوندل سمیت اعلیٰ پولیس افسران‘ اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کی 14 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں‘ ایسے وقت میں کیا گیا جب زندہ دلانِ لاہور کرکٹ سپرلیگ کے فائنل میں شرکت اور جوش و خروش بڑھانے کی تیاریوں میں مصروف تھے اس لئے بادی النظر میں اس حملے کا مقصد سپرلیگ فائنل کا لاہور میں انعقاد روکنے کی سازش ہی نظر آیا۔ اب جبکہ اس حملے کے سہولت کاروں اور دوسرے ملزمان کی حراست سے ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کو یہ ٹھوس معلومات حاصل ہوچکی ہیں کہ لاہور دھماکے کا خودکش حملہ آور اور اس کا دوسرا ساتھی افغانستان سے سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہوا تھا تو اس حملے کی کڑیاں بھارتی ’’را‘‘ کی جاری سازشوں کے ساتھ ہی جا ملتی ہیں۔ اسی تناظر میں گزشتہ روز پاکستان کی جانب سے افغان نائب سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے دہشت گردی میں افغان سرزمین استعمال ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کابل انتظامیہ کیلئے سخت پیغام دیا گیا ہے کہ افغانستان میں منظم ہونیوالی جماعت الاحرار کو نکیل ڈالی جائے جس نے لاہور دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یہ امر واقعہ ہے کہ دہشت گردوں کو نکیل ڈالنے کیلئے جاری سکیورٹی فورسز کے اپریشن ضرب عضب سے دہشت گردی کے خاتمہ میں نمایاں کامیابیاں مل رہی ہیں جس میں گزشتہ دو سال کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں دہشت گردوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں انکے اہم کمانڈر بھی شامل ہیں جبکہ انکے محفوظ ٹھکانے اور اسلحہ کے ذخائر بھی تباہ کئے گئے ہیں جس کے باعث باقیماندہ دہشت گرد اب اپنی جانیں بچانے کیلئے راہ فرار اختیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور جاتے جاتے وہ دہشت گردی کی گھنائونی وارداتوں کے ذریعہ پاکستان میں افراتفری کی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ روز مہمند اور پشاور میں پولیٹیکل ہیڈکوارٹر اور سول ججز کی گاڑی پر ہونیوالے خودکش حملے بھی اسی کی کڑی نظر آتے ہیں جن میں تین پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد شہید اور 15 زخمی ہوئے جبکہ فورسز کے اپریشن میں پانچ دہشت گرد مارے گئے۔ ان خودکش حملوں کی ذمہ داری بھی جماعت الاحرار نے قبول کی ہے جس کا نیٹ ورک افغانستان میں ہے اس لئے پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں میں ملوث مذہبی انتہاء پسندوں کو بھارتی ’’را‘‘ کی سرپرستی اور کابل انتظامیہ کی معاونت حاصل ہونے میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ اس صورتحال کا ہماری عسکری اور سول قیادتوں کو مکمل ادراک ہے اس لئے دہشت گردوں کیخلاف ’’زیروٹالرنس‘‘ کی بنیاد پر بلاامتیاز اور بے رحم اپریشن کی حکمت عملی طے کی گئی ہے اور اس پالیسی کے مثبت نتائج برآمد بھی ہورہے ہیں۔
گزشتہ روز علیٰ سطح کے اجلاس میں سول اور عسکری قیادتوں نے بجا طور پر دہشت گردوں کیخلاف بھرپور طاقت کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے اب زمینی اور فضائی اپریشن کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں کومبنگ اپریشن بھی کیا جارہا ہے جس میں گرفتار ہونیوالے افراد کی مدد سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ انکے سرپرستوں‘ سہولت کاروں اور معاونین کی بھی نشاندہی ہورہی ہے۔ اگر سول اور عسکری اداروں اور قوم کی ہم آہنگی کے ساتھ اسی جذبے اور مربوط حکمت عملی کے تحت ملک کے تمام متعلقہ علاقوں میں بلاامتیاز‘ بے لاگ اور بے رحم اپریشن جاری رہا تو ملک اور قوم کو دہشت گردی کے ناسور سے مکمل اور مستقل نجات دلانے کیلئے اب زیادہ عرصہ درکار نہیں ہوگا۔
بے گناہ انسانی جانوں سے کھیلنے‘ زمین پر فساد برپا کرنے اور اسکی بنیاد پر ملک کی خودمختاری اور سلامتی پر ضرب لگانے والے بدبخت اور مجہول عناصر کے ساتھ آج عوام میں کسی بھی قسم کے ہمدردی کے جذبات نہیں ہیں بلکہ عوام بلاامتیاز تمام دہشت گردوں کی سرکوبی اور انہیں کٹہرے میں کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ انکے کرتوتوں پر انکی آنیوالی نسلوں کو بھی عبرت حاصل ہو اور ملک کی سرزمین پھر سے امن وآشتی اور خوشی و خوشحالی کا گہوارا بن جائے۔ قوم دہشت گردوں کیخلاف بھرپور ریاستی قوت استعمال کرنے سے متعلق سول اور عسکری قیادتوں کے فیصلہ کی مکمل تائید کرتی ہے اور اس امر کی توقع ہے کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کیخلاف بے رحم اور بے لاگ اپریشن میں سرخرو ہونگی اور دہشت گردی کی جنگ میں ہماری سکیورٹی فورسز کے افسران‘ جوانوں اور عوام کی جانی قربانیاں رنگ لائیں گی۔ قوم اپنے شہداء کو سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے۔