اسرائیل فلسطین تنازعہ میں ٹرمپ کی جانبدارانہ ثالثی

ایڈیٹر  |  اداریہ
اسرائیل فلسطین تنازعہ میں ٹرمپ کی جانبدارانہ ثالثی

امریکی صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین کے تنازعہ کے حل کے سلسلے میں دو ریاستی حل کی دیرینہ امریکی پالیسی پر اصرار نہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اب تک اسرائیل اور فلسطین کی دو الگ الگ ریاستوں کے قیام پر زور دیا جاتا تھا۔ صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں باور کرایا کہ دو ریاستوں کا قیام فلسطین اسرائیل تنازعہ کا حل نہیں‘ وہ ایک بہترین معاہدہ کرائیں گے تاہم اس کیلئے فریقین کو سمجھوتے کرنا ہونگے۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 2014ء کے بعد کوئی ٹھوس امن مذاکرات نہیں ہو سکے ہیں۔ صدر ٹرمپ عہدہ سنبھالنے کے بعد مقبوضہ علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع کی حمایت کر چکے ہیں جبکہ اوباما انتظامیہ اور سلامتی کونسل نے ان کیخلاف اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ پریس کانفرنس کے دوران دونوں رہنماؤں کی طرف سے مستقبل میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا کوئی ذکر سامنے نہیں آیا۔ جس کا تصور سابقہ صدور کے عہد صدارت میں ہمیشہ خطے میں امریکی پالیسی کا اہم ستون رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا اصرار ہے کہ فلسطینی نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کریں بلکہ کسی بھی امن معاہدے میں دریائے اردن کے مغربی علاقے کی سکیورٹی پر اسرائیل کو مکمل کنٹرول حاصل ہو۔ امریکی ٹرمپ بھی اسرائیلی وزیراعظم کی اس کٹ حجتی پر متفق نظر آئے۔ مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل سے امریکہ کا انحراف اور سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان خطے میں گڑبڑ اور شورش کو جاری رکھنے کے مترادف ہے۔ اس سے علاقے میں قیام امن کا خواب کبھی شرمندہ ٔ تعبیر نہ ہوگا۔ مقبوضہ اور متنازعہ علاقے میں امریکی سفارتخانے کے قیام کا کوئی جواز نہیں۔ اسرائیل مقبوضات ختم کرے اور فلسطین کو خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرے تو فلسطینی بھی اسرائیل کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہو کر یہودیوں کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں۔