حکومت قومی بچت کھاتے داروں کو مایوس نہ کرے

ایڈیٹر  |  اداریہ
حکومت قومی بچت  کھاتے داروں کو مایوس نہ کرے

قومی بچت سکیموں پر شرح منافع میں کمی کی وجہ سے نیشنل سیونگز سکیمز میں سرمایہ کاری کا عوامی رجحان بھی کم ہورہا ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران قومی بچت میں کی جانے والی سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 27 ارب 92کروڑ 57لاکھ روپے کم رہی،گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر 2015) کے دوران قومی بچت سکیموں میں مجموعی طورپر 141ارب 48کروڑ 55لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔
قومی بچت ادارے بھی منافع میں جارہے ہیں۔ ان سے عموماً پنشنرز، بیوائیں یا عمر رسیدہ افراد اپنی جمع پونجی پر ماہانہ ایک لگا بندھا منافع وصول کر کے زندگی کی گاڑی کو رواں رکھے ہوئے تھے۔ کچھ برسوں سے قومی بچت سکیموںکے منافع میں مسلسل کمی کی جارہی ہے جس سے دلبرداشتہ ہو کر اکثر کھاتے داروں نے اپنی رقوم نکلوا کر دیگر بینکوں اور کاروبار میں لگا دیں۔ حکومت کی طرف سے اس طبقے کے حوالے سے اپنے رویئے میں تبدیلی نہ کی گئی تو جو کھاتے دار بچ گئے ہیں ان کی پریشانی دوچند ہو گی اور وہ بھی اپنے اکائونٹس بند کرانے میں حق بجانب ہوں گے۔ حکومت اپنا منافع تھوڑا سا کم کر کے قومی بچت ادارے کو چلانے میں کلیدی حیثیت رکھنے والوں کی ضروریات کا خیال رکھے۔ انکے چولہے ٹھنڈے نہ ہونے دے بصورت دیگر قومی بچت سکیموں میں ہونیوالے نقصان سے قومی بچت کے ہزاروں ملازمین بھی متاثر ہوں گے۔