حکومت بجلی کی پیداوار پر غفلت نہ برتے

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بجلی کی کم پیداوار حکومت کی غفلت ہے۔ آئی پی پیز کو جرمانے نہ کئے جائیں۔ بجلی کی پیداوار میں اضافہ نہ کرنے پر اٹارنی جنرل اور وزارت پانی و بجلی کو نوٹس جاری کر دیا گیا۔
حکومت کے پاس تمام وسائل موجود ہیں لیکن اسکے باوجود وہ بجلی بنانے میں سستی سے کام لے رہی ہے۔ حکومت جس قدر بجلی پیدا کرے گی۔ تو کمپنیاں اسکے مطابق آگے تقسیم کریں گی۔ حکومت بجلی خود پیدا نہیں کر رہی لیکن مورد الزام کمپنیوں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ حکومت کمپنیوں کو پیسے ادا کرے‘ تاکہ وہ عوام کو بلاتاخیر بجلی فراہم کر سکیں۔ حکومت ہر مہینے بل تو عوام سے لے لیتی ہے لیکن عوام کو بجلی سے محروم رکھا ہے۔ حقیقت میں ملک میں بجلی کا بحران کچھ نہیں ہے۔ اصل میں حکومت کی نیت ہی ٹھیک نہیں جس کے باعث ہماری فیکٹریاں اور دیگر صنعتی یونٹ بند ہو چکے ہیں۔ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو بھی بجلی بنانے کا اختیار مل چکا ہے لیکن ابھی تک کوئی نیا منصوبہ شروع ہی نہیں کیا گیا۔ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے یہاں کی حکومت نے ابھی تک کوئی منصوبہ شروع ہی نہیں کیا۔ حکومت سولر انرجی لیمپ تقسیم کرنے کی بجائے وہ رقم ڈیم بنانے پر خرچ کی جائے۔ تاکہ عوام لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات پا سکیں۔ وفاقی حکومت نئے ڈیم بنانے کے منصوبے بھی تشکیل دے۔ بالخصوص کالا باغ ڈیم بنایا جائے‘ اس سے پانی کی کمی بھی دور ہو جائیگی اور بجلی کا مسئلہ بھی حل ہو جائیگا۔ آج ملک جن تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس کے ذمہ دار حکمران ہیں۔ جنہوں نے سارے وسائل ہونے کے باوجود ملک پر کچھ خرچ نہیں کیا۔ بلکہ اپنے بنک اکا¶نٹ بھرنے میں لگے ہوئے حکومت عوام پر رحم کرے اور مصنوعی بحرانوں کو فی الفور ختم کرنے کی کوشش کرے حکومت عوام پر رحم کرے اور مصنوعی بحرانوں کو فی الفور ختم کرنے کی کوشش کرے موسم گرما شروع ہونے والا ہے‘ اس لئے اس سے قبل ہی بجلی کی کمی پوری کی جائے۔