بھارت کا لائن آف کنٹرول پر جارحیت میں اضافہ دو مزید پاکستانی فوجیوں کو شہید کر دیا

بھارت معاملات کو پوائنٹ آف نوریٹرن پر نہ لے جائے
 بھارتی فوج نے کھوئی رٹہ سیکٹر میں غلطی سے کنٹرول لائن عبور کرنے والے پاک فوج کے سپاہی کو شہید کر دیا جبکہ بٹل سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے ایک پاکستانی حوالدار شہید ہو گیا۔ ڈی جی ایم او کے رابطہ کرنے کے بعد غلطی سے کنٹرول لائن عبور کرنے والے شہید سپاہی اخلاق شوکت کی میت گذشتہ روز پاکستان کو واپس کر دی گئی۔واضح رہے کہ سپاہی اخلاق شوکت دو پاکستانی چیک پوسٹوں کے درمیان جمعرات کے روز راستہ بھول کر بھارتی قبضہ والے علاقہ میں پہنچ گیاتھا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ اور فوج نے اخلاق کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ بھارت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس افسوسناک واقعہ کی تحقیقات کرائے اور ان واقعات کے اعادہ کو روکے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق عینی شاہدین نے دیکھا کہ بھارتی فوجی سپاہی اخلاق سے اپنے علاقہ میں پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ پاکستان کے ڈی جی ملٹری آپریشنز نے جب سپاہی کی واپسی کے لئے بھارتی ہم منصب سے رابطہ کیا اور انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سپاہی کو قتل کیا جا چکا ہے۔
کسی فوجی کا راستہ بھول کر ایل او سی عبور کرنا پہلا واقعہ نہیں‘ بھارتی فوجی کئی بار پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے جنہیں بحفاظت واپس بھجوا دیا گیا۔ دونوں ممالک کے مابین ایک مفاہمت موجود ہے جس کے تحت راستہ بھول کر کنٹرول لائن عبور کرنیوالے فوجی کی فوری واپسی طے پائی تھی جس پر حالیہ واقعہ میں بھارت نے عمل نہیں کیا۔ بھارتی فوج کی طرف سے پاکستانی سپاہی کو قتل کرنا قابل مذمت ہے اور یہ بھارت کے رعونت آمیز رویہ کا عکاس ہے۔ بھارت کی طرف سے ہمیشہ پاکستان کے انسانیت پر مبنی رویے کا جواب اسی طرح کے غیرانسانی سلوک کے ساتھ دیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان میں قید بھارتیوں کو قیدیوں کے تبادلے کے تحت بڑے احترام کے ساتھ بھارت کے حوالے کیا جاتا ہے جبکہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے حوالے کئے جانیوالے قیدیوں کی تشدد کے باعث ذہنی اور جسمانی حالت قابل رحم ہوتی ہے۔
یہ اٹل حقیقت ہے کہ پاکستان اور بھارت پڑوسی ہیں‘ قیامت تک اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔ پاکستان بھارت کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے‘ نہ بھارت پاکستان کو ہڑپ کر سکتا ہے۔ پاکستان نے تو بھارت کی سازشوں اور چیرہ دستیوں کے باوجود اسکے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی جس کا بھارت نے کبھی مثبت جواب نہیں دیا۔ 65 سال سے پاکستان بھارت تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں جس کا سبب بھارت کا پاکستان کے ساتھ معاندانہ رویہ ہے۔ دونوں ممالک ایسے جغرافیائی محل وقوع پر ہیں کہ باہم مل کر دنیا کی مضبوط معاشی قوت بن سکتے تھے لیکن بھارت کے مسلمانوں سے ہزار سالہ غلامی کے انتقام میں جلنے کے باعث دو پڑوسی ممالک ایک دوسرے کے دشمن ٹھہرے۔ دشمنی کا آغاز بھارت نے کشمیر پر جارحانہ قبضہ کرکے کیا پھر اس دشمنی کو مشرقی پاکستان کو الگ کروا کے اور سیاچن پر قبضہ کرکے وسیع تر کردیا۔ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی کنجی اب بھی بھارت کے پاس ہے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہو جائے تو دونوں ممالک کے مابین کوئی بڑا تنازعہ باقی نہیں رہ جاتا۔ بدقسمتی سے بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف نہیں آتا۔ حالانکہ اقوام متحدہ میں بھارت ہی یہ مسئلہ لے کر گیا تھا‘ جس نے اس کا حل کشمیریوں کیلئے استصواب کی صورت میں تجویز کیا جسے بھارت نے بھی تسلیم کیا لیکن اسے عملی شکل دینے سے ہمیشہ گریز کیا اور اب تو وہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے‘ جس پر مذاکرات بھی کرتا۔ فریقین کی نیک نیتی کے بغیر مذاکرات کامیاب ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ بھارت کی مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں بدنیتی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اقوام متحدہ اور پوری دنیا کی نظر میں کشمیر متنازعہ علاقہ ہے‘ کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے لیکن بھارت نے پچاس کی دہائی میں اپنے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے اسے اپنی ریاست کا درجہ دیدیا۔
مسئلہ کشمیر کے باعث ہی دونوں ممالک پسماندگی کا شکار ہیں‘ بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے مجموعی بجٹ کے لگ بھگ ہے‘ پاکستان بھی اپنے بجٹ کا بڑا حصہ دفاع کے لئے مختص کرنے پر مجبور ہے۔ مسئلہ کشمیر سے صرف علاقائی ہی نہیں‘ عالمی امن بھی متاثر ہوتا ہے۔ پاکستان کی بقاءکا تعلق براہ راست مسئلہ کشمیر کے حل سے جڑا ہوا ہے۔ بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا‘ آخر پاکستان کب تک اپنی شہ رگ پر دشمن کے قبضے کو قبول کریگا؟ پاکستان میں ہمیشہ وطن فروش قسم کے لوگ ہی اقتدار میں نہیں آئینگے‘ جب بھی کوئی قائداعظم جیسا لیڈر ملا‘ مسئلہ کشمیر حل ہو کر رہے گا۔ قائداعظم نے تو قیام پاکستان کے فوری بعد کشمیر پر لشکر کشی کا حکم دیا تھا حالانکہ اس وقت پاکستان کی فوج پوری طرح منظم نہیں ہوئی تھی اور اسلحہ کی بھی کمی تھی۔ قائد کے حکم پر انگریز آرمی چیف نے مصلحت سے کام لیا اور پھر قائد محترم کی زندگی کی شام بھی ڈھل گئی ورنہ مسئلہ کشمیر کب کا حل ہو چکا ہوتا۔ اگر بھارت مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی طرف نہیں آتا اور ٹال مٹول سے کام لیتا رہا تو حالات کو بدترین ہونے سے روکنا ممکن نہیں رہے گا۔ صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر امن طریقے سے حل نہیں ہوتا تو کشمیری عوام بھارت کیلئے ایٹم بم ثابت ہونگے۔ جہاں امریکہ کانگریس کے آزاد تحقیقاتی ونگ ”کانگریشنل ریسرچ سروس“ کی تازہ رپورٹ کا حوالہ دینا بھی بے محل نہیں ہو گا جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس 90 سے 110 جبکہ بھارت کے پاس 60 سے 80 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ معیار اور سکیورٹی کے لحاظ سے پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھارت کے مقابلے میں کہیں بہترہے۔ اسی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کا اپنی ایٹمی صلاحیت کو بڑھانے کا مقصد بھارت کو جارحیت سے باز رکھنا ہے ۔اگر کبھی پاکستان نے مسئلہ کشمیر طاقت کے ذریعے حل کرنے کی ٹھان لی تو اسکے ہولناک نتائج نکلیں گے۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بھارت ایسے حالات پیدا کر رہا ہے کہ پاکستان آخری آپشن بروئے کار لانے پر مجبور ہو جائے۔ اسکی طرف عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان اوربھارت پر معاملات کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت بااثر عالمی برادری بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل پر مجبور کیوں نہیں کرتی؟
لائن آف کنٹرول کی بھارت کی طرف سے مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے‘ اسکی جارحیت میں متعدد پاکستانی فوجی شہید ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز معصوم سپاہی کو بے دردی سے قتل کردیا گیا جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ چند روز قبل بھارت نے افضل گورو کو پھانسی دیدی تھی‘ پاکستان میں بھارت کی طرف سے بھیجے گئے دہشت گرد قید ہیں‘ ان تمام واقعات کے پیچھے کشمیر ایشو ہی ہے۔ مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہوتا تو پاکستان بھارت دشمنی کی بنیاد ہی ختم ہوجاتی۔ دونوں ممالک میں اسلحہ کی دوڑ اپنی موت آپ مر گئی ہوتی اور دونوںکا ہیوج دفاعی بجٹ عوامی مسائل کے حل پر استعمال ہوتا۔بھارت معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہ لے جائے۔ موجودہ حالات میں اور پاکستان کے صبر کا پیمانہ چھلکتے دیکھتے ہوئے عالمی برادری اور خصوصی طور پر کشمیر ایشو کے ذمہ دار جس کی سفاک سپاہ کی بندوقیں ایک لاکھ کشمیروں کا خون چاٹ چکی ہیں‘ کی نذر یہ شعر ہے....
ایسا نہ ہو کہ درد بنے دردِ لادوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو