الیکشن سے قبل پارٹیاں بدلنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے

قاف لیگ کے 2 ایم این اے اور پیپلز پارٹی کے 9 ایم پی ایز وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ ن میں شمولیت کا جو اعلان کیا ہے اسکے الیکشن سے قبل جنوبی پنجاب میں نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن بہتر دکھائی دیتی ہے۔ چند ہفتے پہلے پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے اور ایم پی اے توڑے تھے۔ اب مسلم لیگ (ن) کو موقع ملا تو اس نے بہتر کارکردگی دکھائی جس پر وفاقی وزیر اطلاعات نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ پر جوڑ توڑ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جانیوالے واپس آ جائینگے۔ آج جب پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کو چارٹر آف ڈیموکریسی یاد آ رہی ہے تو وہ اس وقت خاموش کیوں تھے جب انکی جماعت نے جہلم اور ڈیرہ غازی خاں سے مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں کو توڑ کر اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ وفاداریاں تبدیل کرنے خواہ وہ کسی بھی جماعت کے ہوں انکی حوصلہ شکنی کی جائے خاص طور پر جو لوگ حکومت کے تمام عرصہ فوائد سمیٹ کر الیکشن کے موقع پر پارٹیاں بدلیں ان کی حوصلہ شکنی تو بہت ضروری ہے۔ کیونکہ یہ لوگ بعد میں کسی اور موقع پر بھی اسی طرح اپنی وفاداریاں اور پارٹیاں تبدیل کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ بڑی سیاسی جماعتوں اور انکے رہنماﺅں کو جو جمہوریت کے دعویدار ہیں اس ”لوٹا کریسی“ سے خاص طور پر جان چھڑانی چاہئے۔