کشمیری لیڈران کے دورہ¿ پاکستان سے مسلم لیگ (ن) کے قائدین کی بے نیازی

کشمیری لیڈران کے دورہ¿ پاکستان سے مسلم لیگ (ن) کے قائدین کی بے نیازی


بھارت کیلئے ہمارے حکمرانوں کا ریشہ خطمی طرزعمل تو اپنی جگہ مگر بھارت کے ساتھ تجارتی، ثقافتی مراسم کیلئے مسلم لیگ (ن) کے قائدین کا جوش و جذبہ بھی حکمرانوں کے جوش و جذبے سے کم نظر نہیں آتا۔ اس سلسلہ میں میاں محمد نوازشریف کشمیر پر پاکستان کے دیرینہ موقف میں نرمی پیدا کرنے اور کارگل سے ملک کی افواج کو یکطرفہ طور پر واپس بلوانے کا تقاضہ کرتے ہیں تو وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف پاکستان، بھارت تجارتی مراسم کی راہ ہموار کرنے کیلئے اکثر یہ مثال دیتے نظر آتے ہیں کہ ہم نے جنگوں سے اب تک کیا حاصل کرلیا ہے۔ انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ جنگیں ہم نے نہیں، پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی نیت سے بھارت نے مسلط کی تھیں جو ہمیں سقوط مشرقی پاکستان سے دوچار بھی کرچکا ہے اور اب کشمیر کو مستقل ہتھیانے کے درپے ہے۔ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کے قائدین کو تو کشمیر کیلئے پاکستان کے اصولی موقف کی ڈھال بننا چاہئے مگر مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت نے پاکستان کا دورہ کرنیوالے مقبوضہ کشمیر کے حریت قائدین کے لاہور ائرپورٹ پر مناسب استقبال کا اہتمام کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی اور انکے دورے پر اتنی توجہ بھی نہیں دی کہ انکے اعزاز میں کسی بڑی تقریب کا ہی اہتمام کرلیا جائے۔ اسکے برعکس کشمیری لیڈروں کے دورہ¿ پاکستان کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف تین روز کے نجی دورے پر دبئی چلے گئے جبکہ وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف بھی کشمیری لیڈروں کے دورہ¿ پاکستان کے موقع پر ہی اپنا دورہ¿ بھارت شیڈول کرچکے تھے جو انہوں نے کرکٹ کھیلتے وقت چوٹ لگنے کے باعث ڈاکٹروں کے مشورے پرموخر کیا مگر کشمیری لیڈروں کے شایانِ شان استقبال کی پھر بھی زحمت گوارا نہیں کی۔ انہیں سنجیدگی سے غور کرناچاہئے کہ آیا وہ کشمیر کاز کے ساتھ واقعتاً انصاف کررہے ہیں؟