رحمان ملک کی منموہن کو دورہ¿ پاکستان کی پھر دعوت اور ان کا پھر انکار....کیا حکمرانوں کو دشمن کے ہاتھوں مزید عزت افزائی قبول ہے؟

رحمان ملک کی منموہن کو دورہ¿ پاکستان کی پھر دعوت اور ان کا پھر انکار....کیا حکمرانوں کو دشمن کے ہاتھوں مزید عزت افزائی قبول ہے؟


بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہونے تک پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ گزشتہ روز وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھارتی وزیراعظم سے نئی دہلی میں ملاقات کے دوران انہیں صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے دورہ¿ پاکستان کی دعوت دی تاہم بھارتی وزیراعظم نے رحمان ملک کو دوٹوک الفاظ میں جواب دیا کہ وہ بھارت کے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں جو ان سے پوچھتے ہیں کہ ممبئی کے حملہ آوروں کا کیا بنا؟ ذرائع کے مطابق منموہن نے اس موقع پر پاکستان کی طرف سے دراندازی کا ذکر بھی کیا جبکہ رحمان ملک نے ممبئی حملوں کے مبینہ ملزموں کیخلاف کارروائی کے حوالے سے وضاحت پیش کی کہ ان حملوں میں ملوث 7 افراد کو گرفتار کرکے انکا ٹرائل کیا جا رہا ہے اور 30 افراد مفرور قرار دئیے جاچکے ہیں، انہوں نے منموہن کو باور کرایا کہ پاکستان کے جس جوڈیشل کمشن نے متعلقہ افراد پر جرح کیلئے بھارت آنا تھا، انہیں بھارت کے ویزے ہی نہیں دئیے جا رہے۔ اس پر بھارتی وزیراعظم نے جوڈیشل کمیشن کے ارکان کو ویزے جاری کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ جب بھارتی میڈیا نے ان سے استفسار کیا کہ حافظ محمد سعید کیخلاف کیوں کارروائی نہیں کی جا رہی۔ رحمان ملک نے کہا کہ بھارت حافظ سعید کے حوالے سے ہمیں صرف اطلاعات دیتا ہے، کوئی ثبوت فراہم نہیں کرتا۔ بھارت ثبوت دے تو وہ پاکستان روانگی سے قبل انکی گرفتاری کا حکم جاری کردیں گے۔ انہوں نے بھارتی سیاستدانوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے مابین تلخیاں کم کرکے دونوں پڑوسی ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کردار ادا کریں۔
اگرچہ رحمان ملک بھارتی وزیر داخلہ کی دعوت پر ویزہ پالیسی میں نرمی کا اعلان کرنے بھارت گئے تھے تاہم بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کی جانب سے صدر آصف علی زرداری اور دفتر خارجہ پاکستان کی دورہ¿ پاکستان کی باضابطہ دعوت ٹھکرانے کے ایک ہفتے بعد انکے بھارت جانے اور بطور خاص بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کرکے انہیں صدر مملکت کی جانب سے پھر دورہ¿ پاکستان کی دعوت دینے سے بادی النظر میں یہی تصور اجاگر ہوتا ہے کہ وہ منموہن کو دورہ¿ پاکستان پر قائل کرنے کے ایجنڈے کے تحت ہی بھارت گئے تھے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب منموہن ہماری اعلیٰ حکومتی قیادتوں کی بار بار کی دعوت کے باوجود پاکستان نہیں آنا چاہتے اور دورے کی ہر دعوت کو حالات سازگار نہ ہونے کا جواز بنا کر اور اسکے ساتھ ہی ممبئی حملوں کے مبینہ ملزموں، جن میں پروفیسر حافظ محمد سعید کو بھارت سرفہرست سمجھتا ہے، کیخلاف کارروائی کی شرط لگا کر ٹھکرا رہے ہیں تو ہمارے حکمران انکے دورہ¿ پاکستان پر کیوں مُصر ہیں۔ انکے دورہ¿ پاکستان سے نہ یہاں دودھ کی نہریں بہنا شروع ہوجائیں گی اور نہ ہی مذاکرات کی میز پر انکی جانب سے کشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی کے اعلان کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اسکے برعکس ہمیں انکے دورہ¿ پاکستان کے موقع پر دراندازی کے الزامات اور ممبئی حملوں کے مبینہ ملزموں کیخلاف کارروائی کے تقاضا کا ہی سامنا کرنا پڑیگا جبکہ ہماری سالمیت کیخلاف بھارتی عزائم پہلے ہی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ وہ کشمیر پر گزشتہ 64 سال سے تسلط جما کر اور ہمارے حصے کے پانی کو روک کر بھی ہماری سالمیت کو کمزور کرنے کے درپے ہے اور اپنے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے ہماری سرزمین پر دہشت گردی کی گھناﺅنی وارداتیں کراکے بھی ہماری سالمیت کو نقصان پہنچانے کے منصوبے پر کاربند ہے تو منموہن کے دورہ¿ پاکستان سے ہمیں اپنی اور علاقائی امن و امان سلامتی کا کوئی پیغام تو نہیں ملنے والا۔ منموہن کی جانب سے دراندازی کے الزامات سننے والے ہمارے وزیر داخلہ رحمان ملک کو تو اتنی توفیق بھی نہیں ہوئی کہ وہ بھارتی آبی جارحیت اور کشمیر میں بھارتی فوجوں کے مظالم پر منموہن سے ہلکا سا احتجاج ہی کرلیتے جبکہ انہوں نے بھارتی میڈیا کے سوالوں کے جواب میں یہ ضرور باور کرایا کہ بھارتی وزیراعظم سے آبی جارحیت اور مسئلہ کشمیر پر بات کرنا انکے مینڈیٹ میں شامل نہیں۔ اگر منموہن کے ساتھ ملکی سلامتی سے متعلق بنیادی تنازعات پر بات کئے بغیر انکی دورہ¿ پاکستان کیلئے منت سماجت کی جا رہی ہے تو اس سے یہی مراد ہے کہ ہمارے حکمران کشمیر کو فوکس کرنے والی دنیا کی نگاہوں کی کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کے ایجنڈے کو بھارتی وزیراعظم کے دورہ¿ پاکستان کے ذریعے پایہ¿ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں ،حالانکہ پاکستان، بھارت بنیادی تنازعات کے حل کیلئے آج تک مذاکرات کا کوئی راﺅنڈ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکا اور اب تک ہر سطح کے مذاکرات کو خود بھارت نے کشمیر کا ذکر آتے ہی سبوتاژ کیا ہے۔ جب بھارت کشمیر پر جبری تسلط جما کر اسے اپنی ریاست کا آئینی درجہ دے چکا ہے اور اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کی ہٹ دھرمی پر قائم ہے تو وزراءاعظم کی سطح پر پاکستان، بھارت مذاکرات کے ذریعے بھی بھارت کو اپنی اس ہٹ دھرمی سے دستبردار نہیں کرایا جاسکتا کیونکہ اس ہٹ دھرمی کا جواز پیدا کرنے کیلئے ہی وہ مذاکرات کے ہر عمل کے دوران پاکستان پر دراندازی کا الزام عائد کرتا ہے جس کا مقصد درحقیقت کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو دنیا کی نگاہوں میں دہشت گردی ثابت کرانا ہے ۔حافظ محمد سعید کے معاملے میںتو رحمان ملک کو دورانِ ملاقات بھارتی وزیراعظم کو باور کرانا چاہئے تھا کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے حافظ سعید کیخلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر انہیں ممبئی حملوں میں بے گناہ قراردیا ہے اسلئے اب انکے خلاف ممبئی حملوں کے کیس میں کارروائی کا تقاضہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ پر عدم اعتماد کے بھی مترادف ہے۔ اسکے برعکس رحمان ملک بھارتی لیڈران اور میڈیا کو یہ یقین دلاتے رہے کہ حافظ سعید کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کئے جائیں، وہ انکی گرفتاری کے ابھی احکام جاری کردیں گے۔ رحمان ملک کے اس ریشہ خطمی طرزعمل کا خود بھارتی میڈیا نے نوٹس لیا اور انکے دورے کے اصل مقاصد کو اجاگر کرنے کے بجائے بابری مسجد اور سانحہ کارگل کے حوالے سے انکے متنازعہ بیانات کو نمایاں انداز میں شائع کیا جبکہ انکے دورہ¿ بھارت سے قوم کے ذہنوں میں یہ تاثر مستحکم ہورہا ہے کہ ہمارے حکمران مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر بھارت کے ساتھ تجارتی، ثقافتی مراسم بڑھانے پر تلے بیٹھے ہیں۔ بزرگ کشمیری لیڈر سید علی گیلانی نے یقیناً اسی تناظر میں پاکستانی ہائی کمشنر سلمان بشیر سے ملاقات کے موقع پر پاکستان کے حکمرانوں کو باور کرایا ہے کہ انکی کشمیر پالیسی کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق نہیں۔ انہیں کشمیر پر پاکستان کی دیرینہ پالیسی اور اصولی موقف کو بدلنے کا خمیازہ بھگتنا پڑیگا۔ اس صورتحال میں بھارتی عزائم کو بھانپ کر ہمارے حکمرانوں کو تو مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ترک کردینے چاہئیں، چہ جائیکہ کہ منت سماجت کرکے منموہن کے دورہ¿ پاکستان کو یقینی بنایا جائے اور انکی موجودگی میں بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے۔