دہشت گردی سے نجات ضروری ہے

دہشت گردی سے نجات ضروری ہے


 پشاور میں انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر دہشت گردوں کا حملہ اور خودکش دھماکے کے بعد راکٹوں کے حملے میں 5 شہری ہلاک اور 50 زخمی ہوئے جبکہ سکیورٹی اہلکاروںکی جوابی کارروائی میں 5دہشت گرد مارے گئے۔پشاور ائر پورٹ جیسے حساس علاقے میں جہاں ویسے ہی سکیورٹی سخت ہوتی ہے اس طرح کے حملے اور اس سے قبل مہران نیول بیس اور کامرہ ائیر بیس پر دہشت گردوں کے حملے سے عوام میں حساس تنصیبات پر سکیورٹی کے حوالے سے سخت تشویش پیدا ہوئی ہے جو بجا بھی ہے کیونکہ یہ بات اب شدت سے محسوس کی جارہی ہے کہ دہشت گردی کا نشانہ بنے پاکستان کو افغان جنگ کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ جابجا دھماکے، خودکش حملے اور حساس تنصیبات پر حملوں نے پورے ملک کو پریشان کردیا ہے اور محب وطن عوام اس سلسلے کو ختم ہوتا دیکھناچاہتے ہیں ۔بہتر یہی ہے کہ ہم دہشت گردی سے نجات کیلئے جلد ہی کوئی راہ نکالیں جب امریکہ خود افغانستان کے طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے تو پاکستان کو بھی چاہئے کہ وہ پاکستانی طالبان کو افغانستان واپس منتقل کرنے کیلئے آغاز کرے اور شمالی علاقہ جات وانا اور وزیرستان میں برسر پیکار مسلح طالبان گروپوں کو آمادہ کیاجائے کہ وہ ہتھیار کی بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر افغانستان واپسی کی راہ نکالیں تاکہ پاکستان میں اندرونی سطح پر دہشت گردی اور غارت گری کا سلسلہ تھم سکے۔اس وقت وطنِ عزیز پہلے ہی چاروں طرف سے خطرات میں گھرا ہے۔ہم یکسوئی سے اپنے دشمنوں سے نمٹیں گے تو ملک میں امن قائم ہوسکے گا ورنہ بیرونی مسائل اپنے گلے لگائے بیٹھے گے تو ہماراحال بھی افغانستان جیسا ہوگا۔