امریکہ اور نیٹو کیلئے گوربا چوف کی تنبیہ

 امریکہ اور نیٹو کیلئے گوربا چوف کی تنبیہ


 سابق سوویت یونین روس کے آخری صدرگوربا چوف نے افغانستان پر روسی قبضے کو سب سے بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے امریکہ کو خبر دار کیا ہے کہ وہ بھی وہی روس والی غلطی دہرا رہا ہے جسکی وجہ سے اسکی تباہی بھی زیادہ دور نہیں جبکہ فرانس نے افغانستان سے اپنی فوج کا آخری دستہ بھی واپس بلوا لیا اس طرح اسکا افغانستان آپریشن میں اس کا کردارختم ہوگیا۔ فرانس کی طرف سے اس حقیقت کا ادراک کرلینا اور اپنے فوجی واپس بلالینا اور بیلجئم کی طرف سے فوجی انخلا کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اب امریکہ اور نیٹو کے دیگر اتحادیوں کو بھی یہ تلخ حقیقت تسلیم کرلینی چاہئے کہ جب سوویت یونین جیسی سپر پاور ہمسایہ ہونے کے باوجود افغانستان پر تسلط برقرار نہ رکھ سکی اور افغان جنگ نے خود اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا تو بھلا ہزاروں میل دور بیٹھا امریکہ اپنے اتحادی لاﺅ لشکرسمیت کس طرح افغانستان کو زیادہ دیر غلام بناسکتا ہے۔جس قوم کا خمیر ہی آزادی اور خون سے گوندھا گیا ہو وہ کبھی غیروں کے تسلط کو زیادہ عرصہ برداشت نہیں کرسکتی اسلئے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی بقا اس میں ہے کہ وہ جلد از جلد افغانستان سے اپنا بوریا بسر سمیٹ لیں ورنہ ان کا انجام بھی روس جیسا ہوسکتا ہے ۔