کالا باغ ڈیم ناگزیر ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ

لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے خیبر پی کے کی حکومت نے ڈیڈ لائن دیدی ۔ حصے کی بجلی نہیں مل رہی، وفاقی وزیر سے بات کروں گا : وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ۔ صوبے کو حصہ مل رہا ہے گرڈ سٹیشن تباہ ہونے سے مسئلہ درپیش ہے : چیف ایگزیکٹو پیسکو !صوبہ خیبر پی کے میں بجلی کے بحران پر صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کو حالت بہتر بنانے کیلئے ڈیڈ لائن دیدی ہے ۔ اسکے جواب میں چیف ایگزیکٹو پیسکو نے کہا ہے کہ صوبے کو بجلی کا پورا حصہ دیا جا رہا ہے مگر دہشت گردی کے ہاتھوں تباہ ہونے والے گرڈ سٹیشنوں کے کام نہ کرنے کے سبب بجلی کی بحرانی کیفیت جاری ہے۔ صوبہ خیبر پی کے سب سے زیادہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر چراغ پا ہوتا تھا آج بجلی کی لوڈشیڈنگ سے پریشان ہے۔ اب ان سرحدی بھائیوں کو سمجھانا صوبائی حکومت کا فرض ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کس قدر فائدہ مند ہے اور اس سے موجودہ بجلی کے بحران سے کتنی جلد نجات مل سکتی ہے۔ بدقسمتی سے دہشت گردوں کے ہاتھوں قومی املاک بشمول گرڈ سٹیشنوں کی تباہی نے صوبے میں حالت مزید خراب کردی ہے ۔ اس وقت صوبہ سرحد میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ مل جُل کر صوبہ خیبر پی کے کے عوام کو بھی اسکی افادیت پر قائل کریںکیونکہ اس ڈیم کے مخالفین کو تو پہلے ہی عوام نے الیکشن میں رد کر دیا ہے۔ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی ترقی اور خوشحالی کیلئے انرجی کے بحران کے حل کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں تو ان کو بھی چاہئے کہ وہ کالا باغ ڈیم کی جلد از جلد تعمیر کیلئے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ اس وقت توانائی کے بحران کا سب سے مو¿ثر، سستا اور آسان حل کالا باغ ڈیم کی تعمیر ہے جس سے صرف چند برسوں میں پوری قوم کو لوڈشیڈنگ سے مکمل نجات اور سستی بجلی مل سکتی ہے۔