سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی کا بھارت پر افغانستان کے راستے بلوچستان میں مداخلت کا الزام

ایڈیٹر  |  اداریہ

بھارت سے دوستی کے بجائے توجہ بھارتی دہشت گردی روکنے پر دی جائے ....
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما میر ظفراللہ خان جمالی نے کہا ہے کہ بھارت افغانستان کے راستے بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے‘ گوادر پورٹ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کیلئے بعض غیرملکی قوتیں پیسہ استعمال کررہی ہیں۔ ”خلیج“ کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بلوچ روایات کے مطابق عزت دو اور عزت لو کے فارمولے پر عمل کرنے سے بلوچستان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام سے روابط بڑھائے جائیں اور انہیں احساس دلایا جائے کہ ماضی میں ہونیوالی زیادتیوں کا ازالہ کیا جائیگا تو بہتری کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل اس وقت ہی حل ہونگے جب تمام ادارے ایک ہی سوچ اور رائے کے تحت کام کرینگے‘ ہمیں ایک دوسرے پر مداخلت کے الزامات عائد کرنے کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا۔ بلوچستان کی گوادر پورٹ درحقیقت ہمارے لئے سونے کی کان کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب چین کی مدد سے اس منصوبے کی تکمیل ہو گی اور پڑوسی ممالک کے علاوہ مغربی‘ یورپی ممالک کو بھی اپنی تجارت کیلئے گوادر پورٹ سے راہداری ملے گی تو دنیا بھر کیلئے ہونیوالی ان تجارتی سرگرمیوں سے پاکستان کا مقدر سنور جائیگا۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے بھی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد اسی تناظر میں چین کو محور بنا کر قومی خارجہ پالیسیوں کی ترجیحات کا تعین کیا ہے جس کے تحت انہوں نے اپنا پہلا غیرملکی دورہ چین کا ہی شیڈول کیا۔ گوادر پورٹ چین کے حوالے کرنے کا معاہدہ اگرچہ پیپلزپارٹی کے سابق دور حکومت میں ہوا‘ تاہم اس معاہدے کو عملی قالب میں ڈھالنے کیلئے پیش رفت موجودہ حکومت کی جانب سے کی جا رہی ہے جس کیلئے وزیراعظم میاں نوازشریف کے دورہ¿ چین کے موقع پر توانائی کے معاہدوں کے علاوہ گوادر پورٹ کی تکمیل کے تمام ضروری معاملات بھی طے کئے گئے ہیں۔ یقیناً اس منصوبے کے ذریعے ہی پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع ہونا ہے۔ چنانچہ گوادر پورٹ کی تعمیر ہی ہمارے لئے معاشی دھماکہ ہو گا جس کے بعد ممکن ہے ہمیں اپنی معیشت کو سہارا دینے کیلئے ناروا شرائط پر مبنی بیرونی قرضوں کے حصول کی کوئی مجبوری لاحق نہ رہے۔ اگر گوادر پورٹ کے ساتھ بلوچستان کی دھرتی میں دھاتوں‘ گیس اور سونے‘ تانبے کی شکل میں موجود قدرت کے قیمتی خزانوں کو بروئے کار لانے کا بھی عملی آغاز ہو گیا جس کیلئے میاں نوازشریف کے ہمراہ چین جانیوالے وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے بھی کر آئے ہیں تو ہم اس خطے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آجائینگے۔ ملک کی اقتصادی ترقی اور خودکفالت کے حوالے سے یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ ہے جو پاکستان کے بدخواہوں کو کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے۔ پڑوسی ملک بھارت کے بارے میں تو کوئی دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ وہ قیام پاکستان کے وقت سے ہی اس وطن عزیز کی آزادی‘ خودمختاری اور سلامتی کے درپے ہے اور اسے اقتصادی اور دفاعی طور پر کمزور بنانے کیلئے سازشوں کے جال بچھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ پہلے اس نے 1971ءمیں گھناﺅنی سازش کے تحت سقوط ڈھاکہ کی نوبت لا کر پاکستان کا وجود آدھا کاٹ دیا جبکہ اب وہ باقیماندہ پاکستان کی سالمیت کے بھی درپے ہے۔ اس مقصد کیلئے اس نے بلوچستان کو اپنی سازشی سرگرمیوں کا محور بنایا جس کا موقع بدقسمتی سے ہمارے عاقبت نااندیش سابق جرنیلی اور سول حکمرانوں نے خود فراہم کیا۔ مشرف دور میں فوجی اپریشن میں بلوچستان کے بزرگ قوم پرست لیڈر نواب اکبر بگتی کی ہلاکت کے سانحہ سے بلوچستان کی محرومیوں اور حکومتی پالیسیوں سے نالاں بلوچ نوجوانوں میں مایوسی اور منافرت کی فضا پروان چڑھنے لگی تو بھارت نے اپنے پاکستان دشمن ایجنڈہ کی بنیاد پر بلوچستان میں پیدا ہونیوالی اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے بے قیادت ناراض بلوچ نوجوانوں کی سرپرستی شروع کر دی جنہوں نے ملکی سلامتی اور قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر بھارتی فنڈنگ اور سرپرستی سے پاکستان دشمن سرگرمیوں کا آغاز کیا جو ہماری جرنیلی حکمرانی کا ہی کیا دھرا تھا۔ بھارتی ایجنسی ”را“ نے ان برگشتہ نوجوانوں کو بیرون ملک خود ساختہ جلاوطنی کی پرتعیش زندگی گزارنے کا موقع بھی فراہم کیا اور انکے ذریعے بلوچستان میں علیحدگی کی پرتشدد تخریبی تحریک چلا کر سقوط ڈھاکہ کی طرح سقوط بلوچستان کے خواب بھی دیکھنا شروع کر دیئے۔ اگر مشرف کے بعد اقتدار میں آنیوالے منتخب سول حکمرانوں میں فہم و تدبر ہوتا اور وہ بھارتی سازشوں کے نتیجہ میں ملک کی سالمیت کیلئے پیدا ہونیوالے خطرات سے عہدہ برا¿ ہونے میں مخلص ہوتے تو مشرف کی غلطیوں کا کفارہ ادا کرکے ناراض بلوچوں بالخصوص بلوچ نوجوانوں کو سیاست کے قومی دھارے میں لے آتے مگر پیپلزپارٹی کی وفاقی اور بلوچستان حکومت نے بگاڑ میں کمی کے بجائے اس میں اضافے کا اہتمام کیا۔ اگرچہ اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آغاز حقوق بلوچستان پیکیج کا اعلان کیا اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جوخود بھی بلوچ ہیںصدر مملکت کے منصب پر منتخب ہونے کے بعد بلوچ قوم سے سابقہ غلطیوں پر معافی بھی مانگی مگر زبانی جمع خرچ کے سوا کوئی عملی اقدام اس وقت کے حکمرانوں کی جانب سے نہ اٹھایا گیا جبکہ نواب اکبر بگتی کے قتل کے ملزم جنرل (ر) مشرف کو پروٹوکول دے کر ملک سے باہر بھجوادیا گیا اور انکے ٹرائل سے بھی معذرت کرلی گئی چنانچہ یہی وہ حالات ہیں جو بلوچستان میں پیدا ہونیوالے خلفشار سے بھارت کو فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرنے پر منتج ہوئے ۔ بھارتی ایجنسیوں نے نہ صرف فرقہ وارانہ تشدد کے حامی تشدد کے حامی شدت پسندوں کو اسلحہ سے لیس کیا بلکہ بلوچستان میں پاکستانی ایجنسیوں کی کارروائیوں کے تحت لاپتہ افراد کی لاشیںگرانے کا گھناﺅنا سلسلہ بھی شروع ہو گیا جبکہ اس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی صوبے کے امن و امان پر قابو پانے کی تدبیر کرنے کے بجائے زیادہ وقت ایوان صدر اسلام آباد یا بیرونِ ملک گزارتے رہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بلوچستان میں بدامنی کے ذریعے بھارت نے پاکستان کی سلامتی پر ضرب کاری لگانے کی کوشش کی جبکہ بلوچستان میں تخریب کاری کیلئے استعمال ہونیوالا بھارتی اسلحہ بعدازاں کراچی میں بھی ٹارگٹ کلنگ کیلئے استعمال ہونا شروع ہو گیا جس کے ٹھوس دستاویزی ثبوت ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس بھی موجود تو ہونگے لیکن عوام کے سامنے کبھی پیش نہیں کئے گئے اور ثبوت کے باوجود ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے معاملات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں‘ نہ صرف بلوچوں کو اکسایا گیا بلکہ اب بھارت افغان فوجیوں کی تربیت کے بہانے ٹرینرز کی شکل میں بھارتی فوجی اور خفیہ ایجنٹ بھجوائے گئے اور دہشت گردوں کو افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہو کر پاکستانی ریاست کیخلاف کارروائیاں شروع کرنے کیلئے تیار کیا گیا۔ افغان صدر کرزئی اپنے سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر دہشت گردی کے فروغ کے الزامات بھی عائد کرتے رہے جبکہ انہوں نے اپنی سرزمین پر بھارت کو دہشت گردوں کی تربیت کا موقع فراہم کرکے پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کا اہتمام بھی خود کیا۔ اب وہ مگرمچھ کے آنسو بہا کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کیخلاف پاکستان افغانستان اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دے رہے ہیں جبکہ عملاً وہ اپنے سرپرست بھارت کو علاقائی تھانیداری کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ اگر علاقائی امن و سلامتی کیلئے پاکستان اور افغانستان فی الواقع باہم متحد ہو جائیں تو افغان سرزمین بیرونی فوجوں کیلئے اور پاکستان کی دھرتی بھارتی تخریبی سازشوں کیلئے شجر ممنوعہ بن جائے مگر کرزئی پاکستان کے بارے میں اپنے خبث باطن کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اس صورتحال میں موجودہ حکمرانوں کو بھارت سے دوستی اور تجارتی تعلقات کی پالیسیاں طے کرتے وقت پاکستان کی سالمیت کیخلاف جاری بھارتی تخریبی سازشوں کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے۔ بلوچستان کے خراب کئے جانیوالے حالات میں بھارتی کردار کے شواہد میرظفراللہ جمالی ہی نہیں‘ حکومتی اہلکاروں کے پاس بھی موجود ہیں جن کی روشنی میں حکومت کو بھارتی سازشوں کے موثر توڑ کی حکمت عملی طے کرنی چاہیے چہ جائیکہ اسکی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا کر اسے ملک کی سلامتی سے کھیلنے کا مزیدموقع فراہم کیا جائے۔ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کی حکومت کو تو ملک کی سلامتی کیلئے سب سے زیادہ فکرمند ہونا چاہیے۔ اور بھارت اور اس کے پاکستان دشمن عزائم کو سمجھنا چاہئے۔