برطانوی فوجیوں کی خودکشی

ایڈیٹر  |  اداریہ

2012ئ، افغانستان میں خودکشی کرنے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد لڑائی میں مرنے والوں سے بڑھ گئی۔ طالبان کے خوف سے 50 سے زیادہ فوجیوں نے انتہائی اقدام کیا جن میں سے 21 حاضر سروس اور 29 سابق فوجی تھے۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے افغانستان میں تعینات برطانوی فوجیوں کی خودکشی کے حوالے سے جو رپورٹ دی ہے وہ افغانستان کی لایعنی جنگ سے تنگ آئے ہوئے فوجی جوانوں کے نفسیاتی خوف اور اس کے ردعمل میں خودکشی جیسے انتہائی اقدام کے حوالے سے خاصی پریشان کن ہے۔ پاکستان کی طرح برطانیہ میں بھی پہلے ہی فوجیوں کے اہلخانہ اور عوام اس جنگ سے جلد از جلد خلاصی اور اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کیلئے حکومت پر دباﺅ ڈال رہے ہیں خاص طور پر فوجیوں کے والدین نے افغانستان میں تعینات برطانوی فوجی جوانوں کی ہلاکتوں اور زخمی و اپاہج ہونے کے واقعات اور وہاں کے دہشت زدہ ماحول کے باعث ان فوجیوں کے رویوں میں تبدیلی اور نفسیاتی الجھنوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس طرح ان کی شخصیت مسخ ہو کر رہ گئی ہے۔ علاوہ ازیں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی آخری رسومات میں بھی اس جنگ سے علیحدگی پر زور دیا جا رہا ہے۔ اسی بنا پر مغربی ممالک اور امریکہ میں ہلاک شدہ فوجیوں کی نعشوں کی آمد کو کسی حد تک پوشیدہ رکھا جاتا ہے تاکہ شدید عوامی ردعمل سے بچا جا سکے۔ اب تو ویسے بھی 2014ءمیں غیر ملکی افواج کی افغانستان سے واپسی کا شیڈول طے ہے تو اس سے جہاں ان ممالک کے ہزاروں خاندانوں نے جو اس جنگ سے براہ راست متاثر ہیں سکون کا سانس لیا ہو گااور ان فوجیوں کےلئے بھی اطمینان بخش ہو گا جو وہاں حالات کی تلخیوں سے آمادہ خودکشی ہیں۔