پاکستان میں پولیو کے پھیلائو پر عالمی اداروں کی تشویش

ایڈیٹر  |  اداریہ
پاکستان میں پولیو کے پھیلائو پر عالمی اداروں کی تشویش

پولیو کی بگڑتی ہوئی صورتحال، بل گیٹس فائونڈیشن کا وفد ہنگامی دورے پر آج پاکستان پہنچ گیا۔ پاکستانی قیادت کو عالمی اداروں کی تشویش سے آگاہ کریگا۔ ایک طرف تو ہمارے ملک میں ہنوز پولیو کے حلال یا حرام ہونے اس میں بانجھ پن کے ہارمونز جیسی بے معنی باتوں پر بحث ہو رہی ہے اور دوسری طرف ہماری یہ حالت ہے کہ جس وقت پوری دنیا میں پولیو کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں یہ مرض تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے اور آئے روز کہیں نہ کہیں اس مرض میں مبتلا مریض بچوں کی رپورٹیں مل رہی ہیں۔ شہری ہوں یا دیہی پسماندہ علاقے بعض نیم حکیم خطرہ جان قسم کے مذہبی عناصر اس بارے میں منفی پراپیگنڈہ کر کے ناخواندہ لوگوں کے ذہنوں کو بگاڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے والے یہ قطرے پلانے سے انکار کردیتے ہیں۔ علاوہ ازیں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد بھی انہی وجوہات کی بنا پر اس بیماری کو فروغ دے رہے ہیں۔ بڑے شہروں کے بعض علاقوں میں بھی پولیو ٹیموں کو قطرے پلانے سے روکنے کیلئے ان پر حملے کئے گئے ہیں۔ ان حالات میں سکیورٹی کے حصار میں حکومت قطرے پلانے کی مہم  چلاتی ہے۔ پھر بھی سو فیصد نتائج حاصل نہیں کر پا رہی۔ جس سے اثر یہ ہو رہا ہے کہ عالمی برادری کو بھی پاکستان میںپولیو کے پھیلائو سے تشویش ہونے لگی ہے اور خطرہ ہے کہ غیر ممالک میں پاکستانیوں کے داخلے پر پابندی نہ لگ جائے فی الحال تو ان سے پولیو سے فری ہونے کا سرٹیفکیٹ طلب کیا جا رہا ہے۔ ان حالات میں بل گیٹس فائونڈیشن جیسی عالمی تنظیم جو پولیو کیخلاف مہم میں پیش پیش ہے کا وفد پاکستانی حکام کو عالمی برادری کی تشویش سے آگاہ کرنے پاکستان آیا ہے تاکہ وہ  سنجیدگی سے پولیو پر قابو  پانے کی تمام تدابیر اختیار کر کے اس مرض کو پھیلنے سے روکیں اور عوام میں اس کا شعور بیدار کریں ورنہ مستقبل قریب میں پاکستانیوں کے بیرون سفر پر پابندی کا خطرہ ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ بہتر حکومت پورے ملک میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والوں کیلئے سزا اور جرمانے کا قانون سختی سے نافذ کرے تاکہ کوئی قطرے پلانے سے انکار کی جرأت نہ ہوسکے۔