وزیراعظم دہشتگردی کیخلاف جنگ کی قیادت عملی طور پر بھی اپنے ہاتھ میں لیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
وزیراعظم دہشتگردی کیخلاف جنگ کی قیادت عملی طور پر بھی اپنے ہاتھ میں لیں

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکیمرون اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ڈیوڈکیمرون سے ملاقات میں دوطرفہ تعاون، دہشت گردی کیخلاف جنگ، خطے کی سیکورٹی صورتحال ، کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی، دہشت گردوں کی بیرونی فنڈنگ روکنے، افغانستان اور دوطرفہ دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت روکنے پر بھی بات چیت کی گئی۔ آرمی چیف نے بیرون ملک سے کارروائیاں کرنے والوں کا معاملہ اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ برطانیہ پاکستان سے باہر بیٹھ کر ملک میں دہشت گردی کرنے والوں کیخلاف کارروائی کرے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکے۔  آرمی چیف نے کالعدم تنظم حزب التحریر سے متعلق بھی تحفظات سے آگاہ کیا۔
پاکستان آج حالتِ جنگ میں ہے اور شاید وطن عزیز کو آج درپیش نازک حالات کا پہلے کبھی سامنا نہیں رہا۔ افغان سرحد دہشت گردوں کی وجہ سے کسی بھی دور کے مقابلے میں زیادہ غیرمحفوظ ہے۔ ایرانی بارڈر سے بھی خیرکی خبر نہیں آرہی۔ مشرقی بارڈر پر بھارتی مہم جوئی میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستانی سرحدوں پر ایسی گرماگرمی کے درمیان اندرون ملک محاذ پر بھی فوج ہی دہشتگردوں کے ساتھ برسر پیکار ہے۔ بجاطور پر دہشت گردوں کے قلع قمع کیلئے آج جمہوری حکومت اور قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے۔ 16 دسمبر کو دہشت گردوں نے ملٹری پبلک سکول پشاور پر بربریت کرتے ہوئے سینکڑوں بچوں کو خون میں نہلا دیا تو پوری قوم سکتے میں آگئی۔ وزیراعظم نوازشریف عام پاکستانی کی طرح انتہائی دکھی نظر آئے۔ اس موقع پروزیراعظم  نوازشریف اور فوجی قیادت نے وطن عزیز کو دہشت گردوں کے وجود سے پاک کرنے کا عزم کیا‘ اس کیلئے ایک ایکشن پلان ترتیب دیا گیا‘ فوجی عدالتوں کے قیام کیلئے آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کی گئی۔ سب سے بڑھ کر سزائے موت پر عائد پابندی ہٹالی گئی جس کے بعد اب تک 20 سے زائد دہشت گردوں کو تختہ دار تک پہنچا دیا گیا ہے۔دو تین ہفتے قبل وزیراعظم میاں نوازشریف نے ذرا زیادہ ہی جذباتی ہو کر کہا تھا کہ وہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کی خود قیادت کرینگے۔ یہ کہنے کی ضرورت اس لئے نہیں تھی کہ جمہوری دور میں حکومت کے سربراہ ہونے کے ناطے تمام ادارے وزیراعظم کے ماتحت ہوتے ہیں۔ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے جاری اپریشن کا کریڈٹ اور خدانخواستہ ڈس کریڈٹ حتمی طور پر حکومت کے کھاتے میں جانا ہے۔ نوازشریف نے دہشت گردی کیخلاف جنگ کی قیادت کا بے جا اعلان تو کیا لیکن اس اعلان کے بعد سے وہ منظرعام ہی سے غائب ہیں جبکہ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے جاری اپریشن اور جنگ میں ہر طرف آرمی چیف جنرل راحیل شریف ہی نظر آتے ہیں۔ لگتا ہے کہ فوج کو اس جنگ میں آگے کرکے جمہوری حکومت نے پسپائی اختیار کرلی ہے۔ امریکہ کے طویل دورے پر جنرل راحیل گئے‘ افغانستان وہ یا ڈی جی‘ آئی ایس آئی جاتے ہیں۔ 12 جنوری کو تین چار ہفتے کے وقفے سے سکول کھلے تو دہشت گردوں کی سفاکیت کا نشانہ بننے والے ملٹری پبلک سکول میں بچوں کا استقبال جنرل راحیل شریف اور انکی اہلیہ نے کیا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کی قیادت کے دعویدار وزیراعظم اب تک وہاں نہیں گئے۔ شاید عمران خان کی درگت بننے کے بعد وزیراعظم نوازشریف کا اگر وہاں جانے کا پروگرام تھا بھی تو اس پر نظرثانی فرمالیں گے۔
جنرل راحیل شریف برطانیہ گئے‘ انکی دفاعی حکام سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعاون‘ مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی تعلقات کی مضبوطی کے حوالے سے مذاکرات وقت اور حالات کے متقاضی ہیں۔ تاہم برطانیہ میں موجود پاکستان کیخلاف تنظیموں کیخلاف کارروائی‘ دہشتگردوں کی فنڈنگ روکنے کے مطالبات جیسے امور جمہوری حکومت کے کرنے کے کام ہیں۔ یہ ذمہ داری بھی جمہوری حکومت نے آرمی چیف کے حوالے کر دی یا آرمی چیف نے خود یہ ذمہ داری سنبھال لی۔ وزارت داخلہ کو وضاحت کرنی چاہیے کہ آرمی چیف کا دورہ برطانیہ کیا اسکے توسط سے طے پایا؟ پوری دنیا پر پاکستانی آرمی چیف کی اہمیت اور ان کا اثرورسوخ واضح ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ آج کی جمہوریت فوج کی مرہون منت ہے۔ بی بی سی نے فوج کی اہمیت اور حیثیت کو ’’سوفٹ کو‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ایسے میں برطانیہ اور امریکہ جیسے جمہوریت کا پرچار کرنیوالے ممالک بھی جمہوری حکومت کے بجائے عسکری قیادت سے معاملات طے کرنے کو مناسب سمجھتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل کی ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات میں سیاسی معاملات پر مذاکرات‘ افغان صدر اشرف غنی اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی جی ایچ کیو میں فوجی قیادت سے ملاقاتیں انکی نظر میں آرمی چیف کی اہمیت کا اظہار ہیں‘ جسے جمہوریت اور جمہوری حکمرانوں کے مستقبل کیلئے خوش آئند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے اپریشن ضرب عضب کے آغاز کے ساتھ ہی سیاسی حکومت کو سفارتی اور خارجہ محاذ پر سرگرم ہو جانا چاہیے تھا‘ حکومت اگر کسی حد تک سرگرم ہوئی تو 16 دسمبر کی بربریت کے بعد ہوئی۔ وہ بھی اے پی سیز اور قانون سازی تک محدود رہی۔
16 دسمبر کے سانحہ پشاور کے بعد وزیراعظم کو شٹل ڈپلومیسی شروع کرنی چاہیے تھی تاکہ فوج خالصتًا دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے اپنا پیشہ ورانہ کردار ادا کرتی۔ سیاسی حکومت خوابِ غفلت میں پڑی ہوئی ہے۔ وزیراعظم کے طور طریقے شاہانہ ہیں‘ غفلت کی نیند سے انگڑائی لے کر اٹھتے ہیں تو کوئی اے پی سی طلب کرتے ہیں یا بیرونی دورے پر نکل جاتے ہیں۔ اب بھی ایسا ہی ہوا۔ سعودی شاہ کی تیمارداری کیلئے دو روزہ دورے پر سعودی عرب تشریف لے گئے۔ وزیراعظم کو عرب ممالک کے دورے کرکے کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ رکوانے کی کوشش کرنی چاہیے تھی‘ وہ  دو دن سعودی عرب میں ضائع کرینگے۔ شاہ عبداللہ کی تیمارداری اور عمرہ چند گھنٹوں سے زیادہ کا کام نہیں ہے۔ دہشت گردوں کا خاتمہ قومی نصب العین ہے۔ سستے تیل کا حصول کوئی کاز نہیں ۔ دہشت گردوں کیخلاف کاررائیوں کی وضاحت کیلئے بھی یہ کوئی مناسب وقت نہیں ہے۔ کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ رکوانے اور برطانیہ سے ان لوگوں کی پناہ پر بات کرنے کیلئے اگر آرمی چیف کو بھجوایا گیا یا وہ خود گئے ہیں‘ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہم یہاں ایک بار پھر زور دینگے کہ بہتر تھا کہ یہ کام منتخب جمہوری حکومت کرتی‘ بہرحال دہشت گردوں کا ہر طرف سے ناطقہ بند ہونا چاہیے۔ جیسا کہ ممکن طور پر ہوتا نظر آرہا ہے۔ اندرون ملک ان کا ہاٹ تعاقب جاری ہے‘ انکے سرپرستوں کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ دہشت گردی میں ملوث مدارس کیخلاف اپریشن کی تیاری ہو رہی ہے۔ افغان حکومت کو پاکستان کیخلاف سرگرم دہشت گردوں کیخلاف ریڈز کیلئے قائل کیا گیا ہے۔ امریکہ نے پہلے مرحلے میں ملافضل اللہ کو عالمی دہشت گردوں کی لسٹ میں شامل کیا ہے۔ مستقبل قریب میں شاید ڈرون حملہ اس کا مقدر ٹھہرے۔ مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق کو 21ویں ترمیم میں لفظ مذہب اور فرقے کے استعمال پر اعتراض ہے‘ وہ غلط فہمی کا شکار ہیں کہ شاید مذہبی دہشت گردوں کیخلاف ہی کارروائی ہو گی۔ جنرل راحیل نے تو بلوچ علیحدگی پسندوں کو پناہ دینے اور انکی فنڈنگ رکوانے کی بھی برطانوی وزیراعظم سے بات کی ہے۔ ضرورت بھی اس امر کی ہے کہ پاکستان کو ہر قسم کے دہشت گردوں اور دہشت گردی سے پاک کیا جائے۔ اس حوالے سے پاک فوج تو فعال کردار ادا کررہی ہے‘ حکومت کو بھی فوجی قیادت کی طرح سرگرم ہونا ہوگا‘ بالخصوص خارجہ محاذ پر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم اپنے اعلان کے مطابق دہشت گردی کیخلاف جنگ کی عملی طور پر قیادت کرکے بھی دکھائیں تاکہ سول معاملات میں جمہوری حکمرانوں سے زیادہ پاک فوج کے سرگرم کردار کا تاثر زائل ہو۔