پنجاب اسمبلی میں پراپرٹی ٹیکس بل منظور

ایڈیٹر  |  اداریہ

پنجاب اسمبلی میں فنانس ترمیمی بل پنجاب 2014ءمنظور کر لیا گیا۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے جب بل ایوان میں پیش کیا کہ صوبے میں پراپرٹی ٹیکس وصول کی پرانی شرح بحال کر دی گئی تو قائد حزب اختلاف نے اس بل کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل غریب عوام کیخلاف ہے۔
حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں پراپرٹی ٹیکس وصولی کیلئے وہی پرانا نظام بحال کر دیا ہے۔ جس کے مطابق حکومت عوام سے ٹیکس وصول کریگی۔ اپوزیشن نے اس بل کو حسب معمول عوام دشمن بل قرار دیتے ہوئے ایوان سے واک آﺅٹ کیا۔ کورم کی نشاندہی کے بعد اس بل کو منظور کر لیا گیا۔ حکومت نے جب نیا پراپرٹی ٹیکس وصول کرنے کا طریقہ جاری کیا تھا تو عوام اس کیخلاف تھے کیونکہ 3 مرلے اور پانچ مرلے کے رہائشی اس قدر زیادہ ٹیکس ادا نہیں کر سکتے تھے اب حکومت نے وہی پرانا طریقہ بحال کیا ہے۔ یہ طریقہ عوامی امنگوں کے مطابق ہے۔ عوام پرانے بل کی بحالی پر پورا پورا ٹیکس دیں اور ٹیکس میں چوری نہ کریں تاکہ حکومت کو معاملات چلانے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکومت کو پراپرٹی ٹیکس کے ساتھ ساتھ زرعی ٹیکس کی وصولی بھی یقینی بنانی چاہئے تاکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے سامنے جھولی پھیلانے کے بجائے ہم اپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں۔