قبائلی عمائدین کے توسط سے دیگر مغویوں کو رہا کرایا جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ

ڈپٹی کمشنر کیچ اور اسسٹنٹ کمشنر تمپ کو اغوا کاروں نے قبائلی عمائدین کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد چھوڑ دیا ہے جبکہ دو تحصیلدار اور چار لیویز اہلکار ابھی تک اغوا کاروں کے پاس ہی ہیں۔
بلوچستان میں جاری شورش سے فائدہ اٹھا کر جرائم پیشہ افراد حکومتی اہلکاروں سیکورٹی فورسز ڈاکٹرز اور غیر ملکی لوگوں کو اغوا کر لیتے ہیں اور بعد ازاں تاوان وصول کر کے ان لوگوں کو رہا کرتے ہیں گزشتہ روز اغوا کاروں نے ڈپٹی کمشنر کیچ اسسٹنٹ کمشنر تمپ، اسسٹنٹ کمشنر دشت اور دو تحصیلداروں کو اغوا کیا تھا جسے قبائلی علاقوں کے عمائدین کی کوششوں سے بازیاب کروایا گیا ایسی ہی کوششیں کر کے ڈپٹی سیکرٹری قومی اسمبلی، سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہریار اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر کی بازیابی کیلئے کوشش کرنی چاہےے اسی طرح 2 تحصیلدار اور اسسٹنٹ کمشنر کیچ اغوا کاروں کے پاس ہیں ان کی بازیابی کے لئے قبائلی عمائدین کے ذریعے کوشش کرنی چاہےے۔ اغوا کار اتنے بڑے بڑے افسروں کو اٹھا کر غائب ہو جاتے ہیں جبکہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ حکومت اب دوٹوک فےصلہ کرے کہ وہ اسی طرح اپنے افسران کی قربانیاں دیتی رہے گی ےا پھر قانون کی رٹ قائم کرنے کیلئے سنجیدہ نظر آئیگی۔بلوچستان میں پہلے بھی ڈاکٹرز کو اغواءکیا گیا اور پھر تاوان وصول کرکے انہیں رہا کیا گیا۔ بلوچ حکومت اس سلسلے میں اپنی رٹ قائم کرے۔