دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب نہیں کیا جاسکتا

ایڈیٹر  |  اداریہ

وزیراعظم نوازشریف کی ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب

 وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ممتاز ترک کاروباری گروپوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے حکومت کی بھرپور معاونت اور زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کا یقین دلاتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ترقیاتی شراکت دار بنیں، ان کی سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کیا جائیگا۔ وہ ترکی کے سرکردہ کاروباری گروپوں کے چیئرمینوں اور چیف ایگزیکٹو افسروں سے گفتگو کررہے تھے۔ وزیراعظم سے ملاقات کرنیوالی کمپنیوں کے سربراہان میں کوک گروپ کے چیئرمین مصطفی کوک، نورل گروپ کے وائس چیئرمین اوگوس کارمیکلی، گاما ہولڈنگ کے سی ای او ڈپٹی چیئرمین حاقان اوزمان، لیماک ہولڈنگ کے چیئرمین نیہات اوزدمیر، چیئرمین آئی سی ہولڈر ابراہیم سیسن، ایس ٹی ایف اے کے چیئرمین ایلپ یاسین، البارک گروپ کے چیئرمین احمد البارک، زورلو ہولڈنگ کے چیئرمین احمد زورلو، اے ٹی اے ہولڈنگ کے صدر کورحان کرداولو اور سائنر گروپ کے چیئرمین اور سی ای او ترگے سائنر شامل تھے۔ کوک گروپ نے الیکٹریکل مصنوعات کی تیاری، ڈیری ڈویلپمنٹ اور بسوں کی تیاری میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔ بعدازاں تیار شدہ مصنوعات پاکستان سے درآمد کی جا سکتی ہیں۔ لیماک گروپ کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ترک کمپنیوں کو بجلی گھروں کے قیام میں ہر ممکنہ مدد دی جائیگی۔ کمپنی کے نمائندوں نے کہا کہ انہوں نے گڈانی پاور پارک میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں، ونڈ انرجی میں سرمایہ کاری اور بی او ٹی کی بنیاد پر شاہرات کی تعمیر کیلئے بنیادی تقاضے پورے کر لئے ہیں۔ نورل گروپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے داسو ہائیڈروپاور منصوبے، لاہور کراچی موٹروے اور کوئلے سے چلنے والے منصوبے، پن بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کا جائزہ لیا ہے۔ وزیراعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ گروپ ان منصوبوں کے تکنیکی جائزے کو حتمی شکل دیگا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ انکی سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کیا جائیگا۔
وزیراعظم نوازشریف نے ترک سرمایہ کاروں کے سامنے بڑے خوشنما اعداد رکھ کر ان کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر راغب کرنے کی کوشش کی‘ اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔ وزیراعظم نے ان کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے نتیجے میں جی ڈی پی کی سہ ماہی شرح 2.9 فیصد سے 5فیصد تک بڑھی ہے۔ کراچی سٹاک ایکسچینج میں تقریباً 17فیصد اضافہ ہوا۔ غیر ملکی ترسیلات زر بڑھیں اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملا۔
پاکستان کی معیشت بوجوہ زبوں حالی کا شکار ہے‘ جس میں حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بہتری پیدا ہو رہی ہے۔ یہ ان حالات میں ہے‘ جب پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ ملک میں توانائی بحران اپنی انتہا کو چھو کر بڑی آہستگی سے بہتری کی طرف گامزن ہے۔ لاقانونیت ان بحرانوں سے سوا ہے۔ اگر حالات سازگار ہوں‘ دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے‘ لاقانونیت پر قابو پالیا جائے اور توانائی وافر مقدار میں میسر ہو تو معیشت مضبوط اور ملک ترقی و خوشحالی کی تیزی سے منزلیں طے کر سکتا ہے۔ بلاشبہ موجودہ حکومت کو یہ بحران اور مسائل ورثے میں ملے ہیں‘ اقتدار میں آنے سے قبل مسلم لیگ ن کو ادراک تھا اور انکے حل کیلئے بلندو بانگ دعوے کئے گئے تھے لیکن ان پر عمل کیلئے جس کمٹمنٹ کی ضرورت ہے‘ اس کا فقدان نظر آتا ہے۔ توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے کبھی چھ ماہ کا وقت دیا گیا‘ کبھی ایک سال اور کبھی دو سال کا‘ لیکن ہنوز مجموعی طور پر اس میں بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔ اگرچہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں قدرے کمی ہوتی ہے مگر گیس کی صورتحال گزشتہ دور بلکہ گزشتہ سال کی نسبت بھی بدتر ہے۔ پنجاب میں سی این جی سٹیشن اڑھائی تین ماہ کیلئے دسمبر میں بند کردیئے گئے۔ گھریلو صارفین بھی پریشان ہیں۔ لوگ بجا سوال کرتے ہیں‘ پھر گیس گئی کہاں؟ بہرحال وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے قوم کو یقین دلایا ہے کہ قطر سے ایل این جی برآمد کرکے گیس کی قلت پر رواں سال نومبر میں قابو پالیا جائیگا۔....
تیرے وعدے پہ جئے ہم اے جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
بہرحال امید پر دنیا قائم ہے‘ ہم پاکستانی وعدوں اور لاروں کے عادی ہو چکے ہیں پھر بھی امید بہار ہے۔ نوازشریف کو اقتدار میں آئے نو ماہ ہو گئے۔ شاہد خاقان عباسی پہلے روز سے مرکزی وزیر ہیں‘ اگر انہوں نے پہلے دن سے ایل این جی برآمد کی کوشش شروع کر دی ہوتی تو آج گیس کا بحران یوں سر چڑھ کرنہ بول رہا ہوتا۔ حکومت بجلی کی قلت پر قابو پانے کیلئے بڑی سرگرم دکھائی دیتی ہے‘ چین سے تین نیوکلیئر پلانٹس کے منصوبے پر بات ہو رہی ہے۔ کوئلے سے چھ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ زیر عمل ہے‘ نندی پور پاور پراجیکٹ پر دن رات کام جاری ہے۔ بیرونی ممالک کے تعاون سے سولر اور ونڈ انرجی کے منصوبے شروع ہو چکے ہیں‘ تمام مجوزہ اور زیر عمل منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں تو پاکستان یقیناً نہ صرف بجلی کی پیداوار میں خودکفیل ہو گا بلکہ پڑوسی ممالک کو برآمد کر سکے گا۔ وزیراعظم نوازشریف اور انکی حکومت اسی تگ و دو میں ہے۔ بجلی کی قلت پر قابو پانے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے مسلم لیگ (ن) کی انرجی بحران پر قابو پانے کے عزم و ارادے کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ حکومت بجا طور پر غیرملکی اداروں اور شخصیات کو پاکستان میں بالخصوص انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہی ہے‘ لیکن ایسا ماحول نظر نہیں آتا کہ سرمایہ کار حکومتی دعوﺅں‘ اعلانات اور ترغیبات پر یقین کرکے پاکستان چلے آئیں جہاں امن و امان کی صورتحال بدترین ہے۔
دہشت گردی ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے‘ دہشت گردوں کے ہاتھوں کوئی شخص‘ ادارہ‘ شہر اور گلی محلہ تک محفوظ نہیں۔ فوج کے ہیڈکوارٹر کامرہ اور مہران بیس جیسی حساس تنصیبات کو دہشت گردی کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ پاکستان میں کام کرنیوالے چینی انجینئر کو گاہے بگاہے قتل کر دیا جاتا ہے‘ تین جرنیل دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے‘ دہشت گردوں کی ایک دھمکی پر حکمران اپنے خاندان کو سیف ہاﺅسز میں پہنچا دیتے ہیں۔ مزیدبراں حکمران اشرافیہ کی اولادیں خود تو بیرون ممالک سرمایہ کاری کر رہی ہیں‘ پاکستان سے سرمایہ کار دہشت گردی اور لاقانونیت کے ماحول سے مایوس ہو کر پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ کر بیرون ممالک جا رہے ہیں۔ ایسے میں آپ سرمایہ کاری کیلئے عالمی سرمایہ کاروں کو کیسے قائل کرینگے؟
پاکستان میں مخدوش حالات کی اگر ایک بڑی وجہ تلاش کرنے کی بات کی جائے تو وہ دہشت گردی کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ دہشت گردی ہی نے ہماری معیشت کا بیڑا غرق کرنے میں سب سے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اسکے خاتمہ کے بغیر پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے‘ نہ معیشت بہتر ہو سکتی ہے اور نہ ہی بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں آنے پر قائل کیا جا سکتا ہے۔ ان حالات میں بیرونی سرمایہ کار پاکستان آبھی جاتے ہیں تو وہ حالات سے مایوس ہو سکتے ہیں جو انکے نہ آنے سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو گا۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جس عزم و حوصلے کی ضرورت ہے‘ وہ ناپید ہے۔ شدت پسندوں نے مذاکرات کی پیشکش کرکے حکومت کو لال بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔ اب ڈرون برس رہے ہیں نہ فوج کوئی کارروائی کر رہی ہے‘ جبکہ دہشت گردی میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے اور مخالف فریق اسکی ذمہ داری بھی قبول کر رہا ہے۔ کیا اس فضا میں مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں‘ اور ایسے مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ اگر نوازشریف بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو انہیں سب سے پہلے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہو گا جو اقتدار میں آنے کے بعد انکی ترجیحات میں شامل تھا‘ پھر انرجی بحران پر قابو پانا ہو گا تب ہی بیرونی سرمایہ کاری کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔