کراچی میں موت کا رقص جاری

کراچی میں موت کا رقص جاری


کراچی میں جمعہ کو فائرنگ کے واقعات میں 2 بھائیوں سمیت 4 افراد جاں بحق اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔ حیدر آباد اور کراچی میں نامعلوم افراد رات گئے تک ہوائی فائرنگ کرتے رہے جس کے باعث خوف و ہراس پھیل گیا‘ شہر میں اگلے روز تجارتی مراکز بند اور ٹرانسپورٹ غائب رہی۔ عروس البلاد میں موت کا رقص جاری ہے‘ نادیدہ قوتیں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کےلئے قتل و غارت کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں‘ درجن بھر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنا معمول بن چکا ہے۔ شہریوں کا بہتا خون ارباب اقتدار سے سوال کرتا ہے کہ انہیں کس جرم کے تحت موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ گذشتہ روز 2 بھائیوں سمیت 4 افراد کو گولی مار دی گئی‘ شہر میں ہو کا عالم ہے‘ شریف سے شریف شہری بھی جان کی امان مانگ رہا ہے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی‘ گذشتہ روز سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا‘ تو نامعلوم افراد نے حیدر آباد اور کراچی میں ہوائی فائرنگ کرکے عوام میں خوف و ہراس پھیلا یا۔گذشتہ روز کراچی میں خوف و ہراس کے باعث تجارتی مراکز بند رہے اکثر دفاتر میں بھی ویرانی رہی اور کراچی کو تقریباً 5 ارب روپے کا نقصان ہوا‘ کراچی بار کونسل کے سالانہ الیکشن بھی ملتوی ہو گئے اس کے ساتھ ساتھ کئی اہم کام سرانجام نہیں دئیے جا سکے۔ صوبائی حکومت عوام کے صبر کے پیمانے کو لبریز مت ہونے دے اور تخریب کاروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے تاکہ کراچی کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔