حنا ربانی کھر کا او آئی سی وزارتی اجلاس میں مسئلہ کشمیر یو این قراردادوں کےمطابق حل کرنے کا تقاضا بھارت کو محض باتوں سے رام نہیں کیا جا سکتا

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کا خواہاں ہے‘ افغانستان میں امن پاکستان کیلئے ضروری ہے اور میانمار میں مسلمانوں کا قتل عام باعث تشویش ہے۔ مکہ مکرمہ میں او آئی سی سربراہ کانفرنس کے موقع پر منعقدہ او آئی سی وزارتی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ پاکستان نے کہا کہ دہشت گردی سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے‘ پاکستان شام میں لوگوں کے قتل عام کی مذمت کرتا ہے اور افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے جبکہ مسئلہ کشمیر یو این قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی جانب سے ماہ رمضان المبارک میں لیلة القدر کے بابرکت عشرہ میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد بلاشبہ مسلم امہ کے اتحاد و یکجہتی کیلئے امید کی کرن ہے جبکہ پاکستان سمیت جن مسلم ممالک کی آزادی اور سلامتی کو خطرات لاحق ہیں‘ او آئی سی کانفرنس میں انکے مسائل پر بھی اجتماعی بحث مباحثہ ہوا ہے اور سعودی فرمانروا نے خود بھی او آئی سی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مسلم امہ کو یہ امید افزاءپیغام دیا کہ مسلمان ممالک اتحاد و یکجہتی سے بڑے بڑے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں‘ اس موقع پر وزیر خارجہ پاکستان کا او آئی سی وزارتی اجلاس میں مسلم امہ کی مسئلہ کشمیر کی جانب توجہ دلانا ایک اہم پیش رفت ہے جبکہ انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ پاکستان یو این قراردادوں کےمطابق ہی مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے جن کی بنیاد پر کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے تعین کیلئے نہ صرف رائے شماری کا حق دیا گیا بلکہ بھارتی حکومت کو کشمیری عوام کیلئے رائے شماری کا اہتمام کرنے کی بھی ہدایت کی گئی جس سے انکار نے کشمیری عوام کو بھارتی جبر و تسلط سے اپنی آزادی کیلئے منظم اور متحرک تحریک چلانے پر مجبور کیا۔ 1948ءسے شروع ہونیوالی کشمیری عوام کی یہ تحریک ہنوز جاری ہے جسکے دوران لاکھوں جانوں اور ہزاروں عفت مآب کشمیری خواتین کی عصمتوں کی قربانیاں دی جا چکی ہیں مگر بھارتی افواج اور دوسری سیکورٹی ایجنسیز کے ظلم و جبر کا کوئی بھی ہتھکنڈہ انکے حوصلے پست نہیں کر سکا۔ اسکے برعکس بھارت نے کشمیر پر اپنا تسلط مستقل طور پر قائم رکھنے کیلئے بھی ہر حربہ اختیار کیا‘ حالانکہ تقسیم ہند کے فارمولے کےمطابق کشمیر کا کوئی تنازعہ ہی نہیں بنتا تھا اور مسلم اکثریتی آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہند کے موقع پر ہی اس کا الحاق پاکستان کےساتھ ہو جانا تھا۔ مگر بھارتی متعصب لیڈران نے خوشدلی سے تقسیم ہند کو قبول کیا نہ پاکستان کی تشکیل اور اسکے آزاد و خودمختار وجود کو۔ جبکہ انکے دل میں کشمیر پر اپنا تسلط جمانے کی بدنیتی اس لئے پیدا ہوئی کہ وہ جان گئے تھے کہ کشمیر کی حیثیت پاکستان کیلئے لائف لائن کی ہے جسکی بدولت پاکستان ترقی و استحکام کی منازل طے کریگا تو ان کیلئے اپنی خواہش کےمطابق اسے ہڑپ کرکے ”مہابھارت“ کی تکمیل کرنا مشکل ہو جائیگا۔
اس پس منظر میں ہی بھارتی لیڈران نے کشمیر کو متنازعہ بنا کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں دو الگ الگ قراردادیں پیش کیں اور جب ان دونوں قراردادوں پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا تو بھارت نے کشمیر پر اپنا تسلط جمائے رکھنے کی بدنیتی کے تحت ہی اپنے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ وادی کو باقاعدہ بھارتی ریاست کا درجہ دےدیا۔ بھارت کی جانب سے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی میں دراڑیں ڈالنے کا ہر حربہ اختیار کیا گیا جس میں لاٹھی‘ گولی اور جبر و تشدد کے دوسرے ہتھکنڈوں کے علاوہ ترغیب و تحریص کے ہتھکنڈے بھی شامل تھے‘ مگر کشمیری عوام کسی بھی ہتھکنڈے سے خوفزدہ ہوئے‘ نہ مرعوب جبکہ بھارت نے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینا شروع کر دیا۔ اس بھارتی نیت اور سوچ کی موجودگی میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ کسی مذاکراتی عمل میں بھارت یو این قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل پر آمادہ ہو جائیگا۔ اسی بنیاد پر پاکستان بھارت مذاکرات کی بیل اب تک منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ ظالم بھارتی افواج کا جبر بھی جاری ہے اور ثابت قدم کشمیری عوام کا صبر بھی قائم ہے۔ بھارت نے پاکستان پر تین جنگوں کی شکل میں جارحیت کا ارتکاب کیا ہے تو کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے والی بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث ہی اسکی نوبت آئی اور اب بھی پاکستان بھارت کشیدگی کی فضا برقرار ہے تو کشمیر ہی اسکی بنیادی وجہ ہے۔
یہ طرفہ تماشہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کےمطابق حل کیلئے بھارت پر عالمی برادری کا دباﺅ بڑھتا ہے تو وہ یکایک نرم خوئی اختیار کرکے پاکستان کےساتھ مذاکرات کی میز سجا دیتا ہے اور ہمارے حکومتی سیاسی اکابرین بھی ہر بار اس بھارتی حربے کے ٹریپ میں آجاتے ہیں۔ اس وقت بھی پاکستان بھارت خارجہ‘ داخلہ سیکرٹریوں اور وزراءکی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے جس کا مقصد بھارت کی جانب سے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور پاکستانی سفارت کاروں کا وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں‘ کیونکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے معاملہ میں بھارتی نیت کا اندازہ تو بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی کے گزشتہ روز کے بیان سے ہی لگایا جا سکتا ہے جن کے بقول پاکستان کشمیر پر غیرقانونی طور پر قابض ہے اور سیاچن سمیت پورا کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ انتھونی نے یہ ہرزہ سرائی بھی کی ہے کہ پاکستان کو تنازعات کے پرامن تصفیہ کیلئے کشمیر کے متذکرہ تمام علاقوں سے اپنا غیرقانونی قبضہ ختم کرنا اور سیزفائر لائن کا ازسرنو تعین کرنا ہو گا۔
اس بھارتی سوچ اور پالیسی کی روشنی میں اس سے مذاکرات کی میز پر تو مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی قطعاً توقع نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیکر اسکے ساتھ تجارت اور دوستی کو فروغ دینے کی سوچ رکھنے والے حکومتی اکابرین اور سیاچن سے یکطرفہ طور پر پاکستانی افواج واپس بلوانے کی تجویز دینے والے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو بھارت کےساتھ تعلقات کے معاملہ میں اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے کہ یہ کیسے قابل عمل ہو سکتی ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کا قبضہ چھوڑنا تو کجا‘ آزاد کشمیر اور سیاچن تک کو بھی اپنے قبضہ میں لینا چاہتا ہے۔ یقیناً اس بھارتی سوچ نے ہی کشمیری عوام کے دلوں میں آزادی کا جذبہ راسخ کیا ہے جنہوں نے کبھی بھارتی ریاستی انتخابات کو تسلیم کیا‘ نہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی یوم جمہوریہ پر بھارتی ترنگا لہرانے دیا۔ گزشتہ روز بھی کشمیری عوام نے اپنے بزرگ حریت لیڈر سید علی گیلانی کی اپیل پر بھارت کے یوم آزادی کو پوری مقبوضہ وادی میں یوم سیاہ کے طور پر منایا۔بھارتی لیڈران خود بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک درحقیقت کشمیر کے پاکستان کےساتھ الحاق کی تحریک ہے اور اسی بنیاد پر وہ یو این قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کو استصواب کا حق دینے پر آمادہ نہیں۔ اس وقت ضرورت کشمیری عوام کے حوصلے بڑھانے کیلئے انکی جدوجہد آزادی کا دامے‘ درمے‘ سخنے ساتھ دینے کی ہے تاکہ ان میں کسی قسم کی مایوسی کا عنصر داخل نہ ہو سکے۔ حنا ربانی کھر نے او آئی سی کانفرنس کے موقع پر مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل کا تقاضا کرکے درحقیقت کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو تقویت پہنچائی ہے۔ اصولی طور پر تو خود صدر آصف علی زرداری کو او آئی سی کانفرنس میں خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل کا تقاضا کرنا چاہیے تھا اور اس معاملہ میں پاکستان کی جانب سے او آئی سی کانفرنس میں باضابطہ قرارداد لا کر مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل کے مطالبہ کو پوری مسلم امہ کا تقاضا بنایا جا سکتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر محض زبانی جمع خرچ سے کام نہ لیا جائے بلکہ عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے او آئی سی اور دوسرے عالمی فورموں بشمول اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر بھی مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کےمطابق حل کیلئے بھرپور آواز اٹھائی جائے۔ بھارت کےساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کشمیر اور دوسرے تنازعات کو اپنے مو¿قف کی روشنی میں طے کرانے کا معاملہ خود کو دھوکہ اور طفل تسلی دینے کے سوا کچھ نہیں۔ بھارتی لیڈران کو باتوں سے رام نہیں کیا جا سکتا‘ ہمارے حکومتی سیاسی قائدین کو اس معاملہ میں اب تک کے بھارتی رویے سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

رضا ربانی ڈرون حملوں کیخلاف تحریک چلائیں
سینیٹ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے چیئر مین سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ ڈرون حملے ناجائز ہیں۔ انہیں بند کیا جائے، جمہوریت کے علمبردار امریکہ کو بے گناہ پاکستانیوں کا خون کیوں نظر نہیں آتا۔رضا ربانی جیسے چند لوگ حکومت میں اب بھی حب الوطنی کے تقاضے نبھاتے نظر آ رہے ہیں، بس یہ چند لوگ ہی ہیں ورنہ تو حکومت کا اللہ حافظ ہے۔ ڈرون حملوں پر رضا ربانی کا موقف قومی امنگوں کے عین مطابق ہے۔ ڈرون بالکل بند ہونے چاہئیں، رضا ربانی کو اپنے ہم خیال لوگوں کو ساتھ ملا کر حکومت پر پریشر تو ڈالٹا چاہیے۔ امریکہ کو پوری دنیا دہشت گرد نظر آتی ہے لیکن ڈرون کی شکل ہو رہی دہشت گردی کیوں نظر نہیں آتی جبکہ ڈرون حملوں کی زد میں اکثر بے گناہ شہری مرتے ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی اپنے طور پر امریکہ کو اس دہشتگردی سے باز رکھنے کیلئے زور ڈالے۔ اگر امریکہ باز نہیں آتا تو اس مسئلے کو سلامتی کونسل میں لے جایا جائے۔ ایک امریکی شہری نے تو امریکہ میں ہی پینٹا کےخلاف ڈرون حملے میں مرنے والے اپنے عزیزوں کے قتل کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے، پاکستان کو بھی ایسا قدم اٹھانا چاہیے، اگر امریکہ باز نہیں آتا تو فضائیہ کے ذریعے اسکے ہر ڈرون کو مار گرایا جائے، آخر ڈرون مار گرانے سے تو خدانخواستہ کوئی جانی نقصان نہیں۔ انہیں اپنی فضاﺅں میں اڑان جاری رکھنے دینے سے تو آج تک چند مبینہ دہشت گردوں کے علاوہ ہزاروں بے گناہ جان دے چکے ہیں۔

کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر دوست ملکوں کی تشویش
کراچی بدستور مسائل کی آگ میں جل رہا ہے وطن عزیز کے اس مالیاتی مرکز اور منی پاکستان کو آج بھی امن و امان کے قیام کا سنگین مسئلہ درپیش ہے۔ بم دھماکے، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور سٹریٹ کرائم کے واقعات ہیں کہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں اور بات اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب غیر ملکی دوست بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ ایک تازہ ترین رپورٹ کےمطابق ٹارگٹ کلنگ اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں مزید آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے اور چین، جاپان اور کوریا کے قونصل جنرلز نے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے ملاقات میں شہرکی امن امان کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کیلئے شہر میں قیام امن کو ضروری قرار دیا، کراچی جیسے بڑے تجارتی شہر میں امن امان کے قیام کی ضرورت اہمیت اور افادیت محتاج بیان نہیں، حکومت اور اعلیٰ افسران اگرچہ وقتاً فوقتاً دعویٰ کرتے ہیں کہ جرائم میں کمی ہوئی ہے لیکن حقائق ان دعوﺅں کا منہ چڑاتے ہیں۔ یہاں جاری جرائم اور پُرتشدد واقعات کے منظم سلسلوں کا خاتمہ یقینا ہر محب وطن پاکستانی کی دلی خواہش ہے اور یہ تب ہی پوری ہو سکتی ہے جب یہاں کی تمام بڑی سیاسی پارٹیاں باہم مل کر بیٹھیں اور سنجیدگی سے حالات کا ادراک کرتے ہوئے کراچی کے مسائل کیلئے ایک حقیقت پسندانہ لائحہ عمل تیار کرنے اور جمہوری حکومت پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کریں۔ جرائم میں اضافے کی ایک بڑی وجہ سیاسی مداخلت اور اعلیٰ شخصیات کی طرف سے من پسند پولیس افسران کی تعیناتی اور تقرریاں ہیں، یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

خطے میں امن امریکہ کے فوری انخلا سے ممکن ہے
امریکی وزیر دفاع لیون پینٹا نے کہا ہے کہ پاکستان، بھارت اور افغانستان مل کر خطے میں امن قائم کر سکتے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ خطے کا امن بگاڑنے کا سہرا کس کے سر چڑھایا جانا چاہیے؟ پاکستان کو نائن الیون کے بعد دہشتگردی کےخلاف جنگ کا بوجوہ حصہ بننا پڑا جس میں پاکستان کی معیشت زوال پذیر ہوئی اور پانچ ہزار فوجیوں سمیت چالیس ہزار سے زائد اہل وطن جاں بحق ہو گئے۔ اب اس جنگ کے شعلے پاکستان کے اندر تک پھیل چکے ہیں۔ آج خطے کا امن یقینا بُری طرح تہہ بالا ہو چکا ہے۔ خطے میں قیام امن کےلئے سب سے اہم کردار خود امریکہ کا ہے۔ امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی اسامہ بن لادن کی گرفتاری کیلئے کی تھی وہ گزشتہ سال ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے دوران جاں بحق ہو گئے‘ گویا امریکہ نے دس سال بعد اپنا مقصد حاصل کر لیا۔ اسکے بعد اس کا خطے میں موجودگی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ وہ آج افغانستان سے نکل جائے تو یہ علاقہ پھر سے امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ بھارت کا افغانستان سے کلچر ملتا ہے نہ مذہب اور نہ ہی کوئی سرحد، دہشتگردی کےخلاف جنگ میں اس کا تعلق ہی کیا ہے؟ پینٹا نے جو بات کی قبل ازیں وزارت ریلوے کا ”کونڈا“ کرنےوالے وزیر غلام احمد بلور بھی ان تین ممالک کےساتھ بنگلہ دیش کو ملا کر کنفیڈریشن بنانے کے مشورے دے چکے ہیں۔ مسئلہ کشمیر حل ہونے تک پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی کا خاتمہ ممکن نہیں اور دشمنوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کو سازش کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا ہے جو اپنے مفادات کی خاطر ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ دراصل پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کے درپے ہیں اور کنفیڈریشن کے مجہول تصور کے تحت پاکستان کو پھربھارت کا حصہ بنانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ان کو نرم سے نرم الفاظ میں صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ ”شٹ اپ“ آپ جلد از جلد اپنا ٹھکانہ بھارت بنالیں‘ ہمارا جینا مرنا صرف پاکستان سے ہے اور رہےگا۔
4