سلامتی کونسل کے کردار پر پاکستان کا ٹھوس موقف

ایڈیٹر  |  اداریہ

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے جنرل اسمبلی کی چھٹی لیگل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں امن و استحکام کیلئے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں پر بلاتفریق و امتیاز عملدرآمد کیا جانا چاہئے۔
اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر کافی ایشوز موجود ہیں۔ جنہیں سلامتی کونسل احسن طریقے سے حل کرتی ہے لیکن سلامتی کونسل کے فیصلوں کو دیکھ کریوں لگتا ہے کہ وہاں پر پسند و ناپسند کا رجحان تقویت پکڑ چکا ہے۔ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے نصف صدی سے زائدعرصے سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہیں۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ سلامتی کونسل کے ارباب اختیار نے ان ایشوز کی فائلوں کو تہہ خانوں میں دبا رکھا ہے۔ جبسوڈان میں خانہ جنگی شروع ہوئی اوریہ مسئلہ سلامتی کونسل میں آیا تو مغربی دبا¶ اور امریکی آشیر باد سے جنوری 2011ءمیں ریفرنڈم کے ذریعے جنوبی سوڈان کو شمالی سوڈان سے علیحدہ کر دیا گیا۔ جبکہ انڈونیشیا میں 30 اگست 1999ءمیں ریفرنڈم کے ذریعے ایسٹ تیمور کو الگ ملک کا درجہ دے دیا گیا۔ حالانکہ ان دونوں ممالک کے ایشوز سلامتی کونسل کے ایجنڈے پرمقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے ایشو کے بعد آئے تھے۔ بادی النظر میں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں عیسائیوں نے آزادی کے حصول کیلئے آواز بلند کی تھی۔ اسے شرف قبولیت بخشا گیا ہے جبکہ کشمیر اور فلسطین کے ایشوز مسلمانوں سے منسوب ہیں اس لئے انہیں پس پشت ڈالا گیا ہے۔ سلامتی کونسل کے ایسے رویئے سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ سلامتی کونسل کو رنگ و نسل‘ مذہب اور زبان کی تفریق سے بالاتر ہو کر دنیا میں بسنے والی تمام اقوام کو انصاف فراہم کرنا چاہئے۔ دنیا بھر میں تنازعات کے حل اور امن و امان کے قیام کیلئے قوانین کا یکساں نفاذ کیا جائے تاکہ عالمی عدالت انصاف پر اعتماد قائم رہ سکے۔اگر سلامتی کونسل کشمیری عوام کے حق خودارادیت کیلئے منظور کی گئی اپنی ہی قرارداد پر سالہا سال سے عملدرآمد نہیں کرا سکی تو اس پر اقوام عالم کا اعتماد کیسے قائم ہو سکتا ہے؟