بلوچستان دہشت گردی میں افغان ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا انکشاف اور ہماری قیادتوں کی ذمہ داری ........ ہمیں اپنے پڑوسیوں کی سازشوں سے بہرصورت چوکنا رہنا چاہیے

ایڈیٹر  |  اداریہ

بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے ہیں۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق بلوچستان میں افغان ایجنسیوں کی مداخلت کے ثبوت حاصل کرلئے گئے ہیں جبکہ دہشت گرد گروپوں کے اہم افراد بھی گرفتار کرلئے گئے ہیں جنہوں نے دوران تفتیش چمن میں رواں سال کی گئی دہشت گردی کی کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے۔ اس دہشت گردی میں 24 جنوری کا چمن دھماکہ‘ 3 مارچ کا سکیورٹی فورسز پر حملہ‘ 9 مارچ کا چمن پولیس سٹیشن پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ‘ 9 مارچ کا ہی بابِ چمن دھماکہ اور 18 مارچ کا لیویز لائن چمن میں کیا گیا دھماکہ شامل ہے۔ ان دھماکوں میں متعدد سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ گرفتار دہشت گردوں کے بیان کے مطابق دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو افغان پولیس کا آئی جی عبدالرزاق سپورٹ کر رہا ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ان دہشت گردوں نے افغانستان میں ٹریننگ حاصل کی اور قندھار میں جنوری 2013ءمیں افغان بارڈر پولیس کے آئی جی سے ملاقات کی جبکہ اس ملاقات میں بی ایل اے کے شیرجان بگتی بھی شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی سرپرستی افغان ایجنسی ”نیشنل ڈیفنس سکیورٹی“ کر رہی ہے جبکہ یہ دہشت گرد سمگلنگ میں بھی ملوث ہیں۔ اس انکشاف کے بعد اس بارے میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے جبکہ افغان امور کے ماہر رستم شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ یہ معاملہ افغانستان کے ساتھ حکومتی سطح پر اٹھانا چاہیے۔
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سابق جرنیلی آمر مشرف کے دور میں نواب اکبر بگتی کی فوجی اپریشن کے دوران شہادت کے بعد خراب ہونا شروع ہوئی تھی جو بظاہر مشرف کے آمرانہ طرز حکومت کیخلاف بلوچ قوم پرستوں کی نوجوان نسل کا ردعمل تھا۔ اگر اسی وقت معاملہ فہمی سے کام لیا جاتا اور گولی کی زبان کو ہر مسئلے کے حل کا امرت دھارا بنانے کے بجائے بلوچ قوم پرست قائدین کو مطمئن کیا جاتا تو بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال نہ سکیورٹی ایجنسیز کے کنٹرول سے باہر ہوتی‘ نہ کسی بیرونی دشمن کو پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کیلئے اپنی سازشوں کے جال پھیلانے اور جرنیلی آمریت سے نالاں بلوچ قوم پرستوں کے ناراض نوجوانوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا موقع ملتا۔ سپریم کورٹ میں زیر سماعت لاپتہ افراد کے مقدمات میں ایف سی اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں پیش کی گئی رپورٹوں میں بھی یہی نشاندہی کی گئی کہ بیرونی قوتوں کی سرپرستی میں قائم فراری کیمپوں میں موجود بلوچ نوجوان اور دوسرے عناصر ہی بلوچستان کی بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ میں شامل ہیں جنہیں لاپتہ ظاہر کرکے اس کا ملبہ حکومت اور ایجنسیوں پر ڈالا جارہا ہے۔ ان رپورٹوں میں بھی بلوچستان دہشت گردی کے متعدد واقعات میں فراری کیمپوں کے لوگوں کے ملوث ہونے کے ثبوت پیش کئے گئے جبکہ بلوچستان میں چلائی جانیوالی پاکستان مخالف تحریک کو‘ جس میں پاکستان کے قومی پرچم نذر آتش کرنے سے بھی گریز نہ کیا گیا۔ بلوچستان کی تحریک آزادی کا نام دے کر امریکی کانگرس تک یہ ایشو پہنچا دیا گیا جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان دشمن بیرونی عناصر کے ہاتھوں میں کھیلنے والے یہ بلوچ نوجوان پاکستان کی سالمیت کے بارے میں کیا عزائم رکھتے ہیں۔ جنہوں نے زیارت میں قائداعظم ریذیڈنسی کو بھی دھماکے سے اڑانے کی مذموم حرکت کی‘ ان سے ملک کی خیرخواہی کی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے چنانچہ پاکستان کی سالمیت کیخلاف سازشوں میں شریک عناصر کے بارے میں گورنر بلوچستان محمدخان اچکزئی کے گزشتہ ہفتے کے اس بیان سے قوم کو سخت تکلیف پہنچی کہ یہ لوگ تو اپنے حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
یہ درست ہے کہ ہمارا پڑوسی بھارت ہمارا کبھی خیرخواہ نہیں رہا چنانچہ وہ پاکستان کی سالمیت کو کمزور کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا‘ اسی تناظر میں بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی ایجنسی کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی موجود ہیں جو سابقہ دور حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے شرم الشیخ میں اپنے ہم منصب بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے حوالے کئے تھے۔ ان حقائق و شواہد کے مطابق بھارتی ایجنسی ”را“ افغانستان میں موجود درجن بھر بھارتی قونصل خانوں کی وساطت سے افغانستان میں اپنے دہشت گردوں کو تربیت دلا کر انہیں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد سمیت پاک افغان سرحد کے راستے پاکستان میں داخل کرتی رہی ہے‘ جنہوں نے بلوچستان اور پاکستان کے دیگر مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی متعدد وارداتیں کیں۔ سابق دور حکومت میں کراچی کی بدامنی کے حوالے سے بھی اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک بھارتی اور نیٹو فورسز کے زیر استعمال دوسرا غیرملکی اسلحہ کراچی میں سمگل ہو کر آنے اوراستعمال ہونے کی نشاندہی کرتے رہے ہیں جبکہ حال ہی میں کراچی کے ٹارگٹڈ اپریشن کے دوران ایک سیاسی جماعت کے آفس سے بھارتی اسلحہ برآمد بھی ہو چکا ہے۔
ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہمارے قریبی پڑوسیوں بھارت اور افغانستان میں سے کوئی بھی ہمارے ساتھ مخلص نہیں۔ افغانستان کو تو برادر پڑوسی اسلامی ملک ہونے کے ناطے علاقائی مفادات کے تحفظ کیلئے پاکستان کے ساتھ یکجہت ہونا چاہیے تھا مگر ظاہر شاہ کے دور سے اب تک ہمیں افغانستان کی جانب سے کبھی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہیں آیا بلکہ کابل انتظامیہ ہمیشہ ہماری سالمیت کیخلاف سازشوں میں شریک ہی پائی گئی ہے۔ موجودہ افغان صدر حامد کرزئی تو اکثر اوقات امریکی لب و لہجے میں ہمیں دھمکیاں دیتے اور ڈکٹیٹ کراتے بھی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے سابق افغان صدر پروفیسر برہان الدین ربانی کی ایک بم دھماکہ میں ہلاکت کی براہ راست ذمہ داری پاکستان پر عائد کی جس کے بعد افغانستان سے مسلح گروپوں کے پاکستان میں داخل ہو کر پاکستان کی سکیورٹی چیک پوسٹوں اور سول آبادیوں تک پر حملہ آور ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پاکستان کی جانب سے ان واقعات کیخلاف اعلیٰ سطح پر کابل انتظامیہ سے احتجاج بھی کیا جاتا رہا مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے اور اسی تناظر میں پاک افغان سرحد پر آج بھی کشیدگی کی فضا موجود ہے جبکہ اب بلوچستان دہشت گردی میں افغان ایجنسیوں کے ثبوت ملنے کے بعد اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔ اس تناظر میں بھارت کے علاوہ افغانستان کے ساتھ بھی سرحدی کشیدگی دوطرفہ علاقائی تعلقات کو مزید خراب کرنے کا موجب بن سکتی ہے جبکہ بالخصوص افغانستان سے نیٹو افواج کی آئندہ سال واپسی کے تناظر میں اس خطہ کے ممالک کسی باہمی کشیدگی کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ اس سے مخصوص ایجنڈہ رکھنے والے دہشت گردوں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کا موقع ملے گا اس لئے بلوچستان دہشت گردی میں افغان ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا معاملہ پاکستان کو اعلیٰ ترین سطح پر افغانستان کے ساتھ باوقار انداز میں اور ٹھوس بنیادوں پر اٹھانا چاہیے۔ ملک کی سالمیت کو جو بھی اندرونی اور بیرونی خطرات لاحق ہیں‘ جس کے ہماری ایجنسیوں کے پاس ثبوت بھی موجود ہیں‘ ان کا توڑ اور تدارک کرنا ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے جس میں کسی قسم کی لغزش یا کوتاہی کا یہ وطن عزیز متحمل نہیں ہو سکتا۔