کالاباغ ڈیم وزیراعظم کے غیرمنطقی دلائل

کالاباغ ڈیم وزیراعظم کے غیرمنطقی دلائل


وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم صرف چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے ہی بن سکتا ہے۔ بجلی کا بحران صرف پاکستان میں نہیں‘ بلکہ بھارت‘ بنگلہ دیش اور بھوٹان میں بھی ہے۔ ہم سے پہلے طاقتور حکومتیں کالاباغ ڈیم کیوں نہیں بنا سکیں؟ گزشتہ روز لاہور چیمبرز آف کامرس کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جمہوری حکومت نے چاروں صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔
اگر ماضی کی فوجی اور سول حکومتوں نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر میں کوئی پیش رفت نہیں کی تو اسے کالاباغ ڈیم تعمیر نہ کرنے کی دلیل کے طور پر کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ ماضی کی طاقتور حکومتوں میں تو جرنیلی آمریتوں کے علاوہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو‘ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی مضبوط سول حکومتیں بھی شامل ہیں جو قومی تعمیر و ترقی میں مخلص ہوتیں تو کالاباغ ڈیم ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کرالیتیں مگر بالخصوص سول حکومتوں نے سیاسی مصلحتوں اور مفاہمتوں کی پالیسی کے تحت کالاباغ ڈیم کو متنازعہ بنا کر اسکی تعمیر عملاً ناممکن بنا دی جبکہ موجودہ دور حکومت میں تو کالاباغ ڈیم کی فائل دریائے سندھ میں ڈبونے کا معاہدہ کرکے ہی اے این پی کی حکومتی اتحاد میں موجودگی یقینی بنائی گئی ہے۔ وزیراعظم بجلی کے بحران کے معاملہ میں بھارت‘ بنگلہ دیش اور بھوٹان کا حوالہ دے رہے ہیں‘ تو انہیں یہ حوالہ بھی تو دینا چاہیے کہ بھارت میں کسی بھی سیاسی جماعت نے چاہے وہ حکومت میں شامل ہو یا اپوزیشن کا حصہ ہو‘ کسی ایک بھی ڈیم کی تعمیر کی مخالفت نہیں کی چنانچہ وہاں کسی ڈیم کی تعمیر کیلئے تمام ریاستوں کے اتفاق رائے کا ایشو بھی کھڑا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھارت اپنے دریاﺅں پر بھی ڈیڑھ دو سو کے قریب چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کر چکا ہے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان دریاﺅں پر بھی ڈیمز تعمیر کرنے سے باز نہیں آیا جن پر ڈیم پہلے تعمیر کرنے کا پاکستان کو استحقاق دیا گیا تھا۔ ہمارے عاقبت نااندیش منصوبہ سازوں اور حکمرانوں نے سندھ طاس معاہدے میں موجود اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا تو بھارت کو ان دریاﺅں پر ڈیم کی تعمیر کی دوسری آپشن سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا مگر ہمارے حکمران اپنے سیاسی مفادات کے تحت کالاباغ ڈیم کو متنازعہ بنا کر بھارت کو فائدہ پہنچانے کی خود ہی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ اگر بھارت میں بجلی کا بحران ہمارے جیسا سنگین ہوتا تو وہاں کے عوام اب تک اپنے حکمرانوں کے چیتھڑے اڑا چکے ہوتے اس لئے حکمرانوں کو دوسروں کی مثالیں دینے کے بجائے اپنے ملک اور عوام کے مفادات کا سوچنا چاہیے اور کالاباغ ڈیم توانائی بحران ختم کرنے میں ممدومعاون ہو سکتا ہے تو تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر اس ڈیم کی تعمیر شروع کر دینی چاہیے۔ چاہے یہ فیصلہ غیر مقبول ہی کیوں نہ ہو۔ اس سے صرف ملک اور عوام کو ہی فائدہ نہیں ہو گا‘ بلکہ اگلے انتخاب کیلئے عوام کے پاس جاتے ہوئے حکمران خود بھی عوام کے اعتماد کی صورت میں اسکے ثمرات سمیٹیں گے۔ کالاباغ ڈیم ہماری قومی ضرورت ہے تو پھر اس پر سیاست چہ معنی دارد؟