ڈی ایٹ۔ کانفرنس میں شیخ حسینہ واجد کا شرکت سے انکار

ڈی ایٹ۔ کانفرنس میں شیخ حسینہ واجد کا شرکت سے انکار


بنگلہ دیش کی وزیراعظم نے پاکستان میں ہونے والی ڈی ایٹ کانفرنس میں شرکت کی دعوت مسترد کر دی۔ انہوں نے 22 نومبر کو ڈی ایٹ کے اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد آنا تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق حسینہ واجد پاکستان کے خیرسگالی پیغام کے باوجود نہیں مانیں۔ ان کی جگہ اب بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ دیپومونی شرکت کریں گے۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کا فیصلہ غیر معمولی حالات میں اچانک ایسے وقت سامنے آیا ہے جبکہ تین روز پہلے ان کے پریس سیکرٹری ذرائع ابلاغ کو بتا چکے تھے کہ وزیراعظم تین دن کے دورے پر پاکستان جائیں گی۔ ڈی ایٹ کے اجلاس میں شرکت کی دعوت صدر مملکت آصف علی زرداری کی طرف سے پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ڈھاکہ میں ان کو ذاتی طور پر پہنچائی تھی۔ عوامی لیگ کے برسراقتدار آنے کے بعد سے بنگلہ دیش کے پاکستان کے ساتھ تعلقات سرد مہری اور تنا¶ کا شکار ہیں جبکہ دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے لئے خیر سگالی اور محبت کے جذبات رکھتے ہیں اور ماضی کی تلخیوں اور نفرتوں کو بھلا کر معاشی‘ سیاسی اور ثقافتی ہر سطح پر مضبوط اور خوشگوار تعلقات کے ساتھ آگے بڑھنے کے حامی ہیں۔ ڈھاکہ کے اخبار ڈیلی سٹار کے مطابق بنگلہ دیشی وزیراعظم نے کانفرنس میں شرکت کے لئے شرط عائد کی تھی کہ جب تک پاکستان 1971ءمیں اپنی مبینہ زیادتیوں کی باقاعدہ معافی نہیں مانگتا وہ پاکستان نہیں جا سکتیں۔ گویا وہ ماضی کی تلخیوں کو اب بھی بھلانے کےلئے تیار نہیں۔ انہیں تو عالمی برادری کے ساتھ جڑے رہنے کیلئے کسی بھی عالمی اور علاقائی فورم پر بنگلہ دیش کی شرکت لازمی بنانی چاہیے۔ اگر وہ خود ڈی ایٹ کانفرنس میں شریک ہوتیں تو اسکے بنگلہ دیش کے حق میں مثبت نتائج ہی برآمد ہوتے۔