وزیر خزانہ کی اپنی ہی حکومت کی بدنظمیوں کی نشاندہی‘ حکمرانوں کیلئے لمحہ¿ فکریہ

وزیر خزانہ کی اپنی ہی حکومت کی بدنظمیوں کی نشاندہی‘ حکمرانوں کیلئے لمحہ¿ فکریہ


وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کالے دھن کو سفید کرنے کیلئے مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو ملکی معیشت کیلئے ایک بہتر اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر عمل درآمد سے ملکی معیشت پر دوررس اثرات مرتب ہونگے۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو پارلیمنٹ سے منظوری کے دوران ٹانگ کھینچنے والوں سے اصل خطرہ ہے۔ وہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں معیشت کو بہتر کرنا ہے اور استحکام لانا ہے تو دولت مندوں کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا ، چار، چار گاڑیوں میں گھومنے والوں کو چھوٹ نہیں ملے گی، ٹیکس ہر صورت دینا پڑےگا، بغیر ٹیکس ادا کئے اگر کوئی کہے کہ پاکستانی معیشت بھارت اور چین کی طرح مستحکم ہو جائے تو یہ ناممکن ہے۔ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ معیشت کے استحکام و ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت کا حجم بڑھ جانا ہے۔ بیورو کریٹوں اور وزیروں ، مشیروں کی ایک فوج ظفر موج ہے جو سرکاری خزانے پر بہت بڑا بوجھ بن چکی ہے نیز ہمارے بزنس مین اور حکومتی ادارے ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ ہمیں معیشت کے استحکام کیلئے ہرممکن حد تک اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) 2008ءکے انتخابات میں باالترتیب پہلی اور دوسری بڑی پارٹیوں کی صورت میں سامنے آئیں‘ الیکشن اور مابعد دونوں پارٹیوں کے اندر مفاہمت کا ابال پایا جاتا تھا۔ دونوں نے مرکز اور پنجاب میں مل کر حکومتیں تشکیل دیں۔ مرکز میں وزارت خزانہ کا قلمدان مسلم لیگ (ن) کے اسحاق ڈار کے سپرد کیا گیا‘ چند ماہ بعد بوجوہ پی پی‘ (ن) لیگ اتحاد ٹوٹا تو اسحاق ڈار بھی اپنے منصب سے الگ ہو گئے تو پیپلز پارٹی نے وزارت خزانہ نوید قمر کے حوالے کر دی‘ یہ تجربہ کامیاب نہ ہوا۔ وزارت خزانہ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے پیپلز پارٹی کو اپنی صفوں سے کوئی ماہر شخصیت نہ ملی تو اس نے پارٹی کے اندر ہی یہ وزارت رکھنے کو انا کا مسئلہ بنایا۔ اس نے مشرف کے وزیر خزانہ عبدالحفیظ کو یہ منصب تفویض کرکے واقعی ایک قابل تقلید مثال قائم کی۔ حفیظ شیخ کی تعیناتی قومی سوچ کی عکاس تھی۔
حکمرانوں کی طرح عوام کو بھی پیپلز پارٹی کی حکومت کے تیسرے وزیر خزانہ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں‘ عوام کو پہلی مایوسی عبدالحفیظ شیخ کے اس بیان سے ہوئی جس میں انہوں نے بااثر لوگوں پر ہاتھ ڈالنے میں اپنی بے بسی ظاہر کی تھی۔ ملکی معیشت کی مضبوطی کا زیادہ تر دارومدار وزارت خزانہ کی اچھی کارکردگی پر ہوتا ہے‘ موجودہ حکومت کی وزارت خزانہ کی کارکردگی کا اندازہ اندرونی و بیرونی قرضوں میں بے پنا اضافے‘ مہنگائی اور بے روزگاری سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ملک کی اعلیٰ پائے کی شخصیات کے کرپشن سکینڈل ایک طرح کا معمول بن گئے ہیں‘ اوپر کرپشن ہو گی تو اسکے اثرات نیچے تک بھی آئینگے۔ حکومتی کرتا دھرتاﺅں کیخلاف میگا کرپشن کے الزامات لگتے ہیں تو الزامات لگانے والوں کیخلاف کبھی قانونی چارہ جوئی نہیں کی گئی‘ اس سے عام آدمی الزامات کو سچ سمجھنے میں حق بجانب ہے۔ موجودہ حکومت میں چھ سیکرٹری خزانہ تبدیل کئے گئے‘ تین وزیر خزانہ تبدیل کرنے کی وجہ تو سمجھ آتی ہے‘ چھ سیکرٹریوںمیں آخر کیا قدر مشترک تھی کہ ان کو اس اہم منصب پر لا کر ہٹا دیا گیا؟ سٹیٹ بنک کے گورنرز کو بدلنے کا ریکارڈ بھی اسی حکومت کے کریڈٹ پر ہے۔ یہاں پی آئی اے میں بدانتظامی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کے ریمارکس کا حوالہ دینا بھی ضروری ہے‘ جن میں انہوں نے کہا کہ قومی ادارے تباہ ہو رے ہیں‘ جتنی مرضی کرپشن کرلیں‘ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
وزیر خزانہ کا منصب سنبھالنے کے بعد وقفے وقفے سے شیخ صاحب کے دل میں قومی مفاد کا درد ضرور جاگتا ہے‘ وہ حکومتی بدانتظامیوں کی نشاندہی کرتے ہیںپھر جلد ہی حکومتی ایجنڈے کے فروغ کیلئے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ چند روز قبل ان سے کابینہ کے اجلاس میں مہنگائی کنٹرول نہ کرنے پر شرکاءنے سختی سے وضاحت مانگی تو ذرائع کے حوالے سے شائع ہونیوالی خبر کے مطابق انہوں نے سب کو برابر کا ذمہ دار قرار دیا۔ حکومت اب اپنی مدت پوری کرنیوالی ہے تو اسکے وزیر خزانہ اسکی کارکردگی کو ”اگرمگر“ میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فرماتے ہیں‘ ”اگر“ معیشت کو بہتر کرنا اور اس میں استحکام لانا ہے تو دولت مندوں کو ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ چار چار گاڑیوں میں گھومنے والوں کو چھوٹ نہیں ملے گی۔ بھولے شیخ صاحب! دولت مندوں سے ٹیکس کب وصول کرینگے اور چھوٹ نہ دینے کے دعوے پر عمل کب ہوگا؟ کیا وزیر موصوف کو حکومتی پالیسیوں سے اختلاف ہے؟ اگر اختلاف ہے تو اسکے زبانی مظاہر تو نظر آتے ہیں‘ عملی طور پر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ قومی خزانہ پر وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج کو بوجھ قرار دیتے ہیں‘ اس بوجھ کو کم کرنے میں کیا کردار ادا کیا ہے؟ اور کیا کوئی کردار ادا کر بھی سکتے ہیں؟حکمرانوں کے بے جا اخراجات‘ اصراف‘ کرپشن اور دیگر مالی بدانتظامیوں کی وجہ سے مہنگائی میں روز افزوں ہونیوالے اضافے سے بدنامی بالآخر وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بنک کے حصے میں آتی ہے۔ اس سے بچنے کی وزیر خزانہ نے کیا تدبیر کی ؟ انکے بیانات تو بہت سنے‘ تجاویز بھی بہت دیں لیکن کسی بھی مرحلے پر انہوں نے اپنی تجاویز پر عمل نہ ہونے پر قلمدان چھوڑنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا۔
وزیر خزانہ کے اس عزم کو سراہا چانا چاہیے کہ معیشت کے استحکام کیلئے ہر ممکن حد تک برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا۔ جب آپکے پاس بجلی ہے‘ نہ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں‘ حکومت فی گیلن سوا سو روپے منافع کما رہی ہے‘ اوپر سے لاقانونیت اور دہشت گردی کا عفریت بھی پھن پھیلائے ہوئے ہے‘ ایسے میں آپ برآمد کرنے کیلئے پروڈیوس کیا کرینگے؟ عام انتخابات سر پر ہیں‘ وزیر خزانہ نے یہ باتیں اپنی سکن بچانے یا آنیوالے حکمرانوں کے ہاں نمبر بنانے کیلئے کی ہیں‘ تاہم یہ پیپلز پارٹی کی حکومت کےلئے لمحہ¿ فکریہ ضرور ہونی چاہئیں۔ عوام کو مسائل کی دلدل میں دھکیل کر حکمران ان سے ہی کس منہ سے ووٹ مانگیں گے؟ اسی حکومت نے کابینہ کی تعداد 104 سے بیس کے قریب کی۔ پھر نئے اتحادیوں کو خوش کرنے کیلئے اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا تاآنکہ وزیر خزانہ کو اسے وزیروں مشیروں کی فوج ظفر موج قرار دیتے ہوئے قومی خزانے پر بوجھ قرار دینا پڑا۔ اس بوجھ کو ہلکا کرنے کیلئے کابینہ کو مختصر کرنا ہو گا۔ جب آپ نے 20 وزیروں سے کام چلا لیا تو آج 70 اسّی کی کیا ضرورت ہے؟ وزارت کو ریاستی امور چلانے کا ادارہ رہنے دیں‘ اسے رشوت کےلئے استعمال کریں نہ مراعات میں شامل کریں۔ گو پونے پانچ سال کی بے قاعدگیوں کا ازالہ تین چار ماہ میں ممکن نہیں‘ تاہم حکومت عوام کو مہنگائی‘ بیروزگاری‘ بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ‘ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ریلیف دے سکتی ہے۔ سی این جی کی قیمت یکمشت 31 روپے فی کلو کم ہو سکتی ہے تو پٹرول کی قیمتوں میں حکومت 42 روپے فی لٹر منافع میں کمی کیوں نہیں کر سکتی؟ وزیر خزانہ نے ایمنسٹی سکیم کی بات کی ہے‘ ضرورت کالے دھن کو سفید کرنے کیلئے مراعات دینے کی نہیں۔ کڑے احتساب کے ذریعے قومی دولت واپس لانے کی ہے۔ ایمنسٹی سکیم سے چوروں کی حوصلہ افزائی ہو گی‘ ایک بار کالا دھن سفید کرنے کی اجازت دے دی گئی تو عادی مجرم یہ سوچ کر کہ ایمنسٹی سکیم انکے کالے دھن کو سفید کر دےگی‘ مزید لوٹ مار پر کمر بستہ ہونگے۔