نیٹو کا 2016کے بعد بھی افغانستان میں اپنی افواج برقرار رکھنے کا عندیہ

ایڈیٹر  |  اداریہ
نیٹو کا 2016کے بعد بھی افغانستان  میں اپنی افواج برقرار رکھنے کا عندیہ

نیٹو حکام نے افغانستان میں 2016ء کے بعد بھی نیٹو افواج مقیم رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے افغان سکیورٹی فورسز کو درپیش خطرات اور مشکلات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولنبرگ نے گزشتہ روز ترکی میں اتحادی ممالک کے وزراء خارجہ سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ نیٹو وزراء خارجہ کانفرنس میں افغانستان میں جاری مشن کے اختتام کے بعد بھی نیٹو افواج کا قیام برقرار رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔
اصولی طور پر تو نیٹو کی لزبن سربراہی کانفرنس کے 2011ء کے فیصلہ کی روشنی میں گزشتہ سال 2014ء کے اختتام تک افغانستان سے نیٹو فورسز کا انخلا مکمل ہو جانا چاہئے تھا جس کا گزشتہ سال امریکی صدر اوبامہ نے اسٹیٹ آف یونین خطاب کے دوران اعادہ بھی کیا تاہم انخلا کا عمل شروع ہونے سے پہلے اس وقت کے افغان صدر کرزئی نے امریکی صدر اوبامہ کے ساتھ نیٹو انخلا کے بعد مخصوص تعداد میں امریکی فوجیوں کے مزید دس سال تک افغانستان میں قیام کا معاہدہ کر لیا اور اس قیام کا مقصد افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت اور انٹیلی جنس نظام میں معاونت کا بتایا گیا۔ اس معاہدہ کے تحت نیٹو انخلا کے بعد دس ہزار کے قریب امریکی فوجی بدستور افغان دھرتی پر موجود ہیں جبکہ اب افغانستان میں تربیتی مقاصد کے تحت موجود دوسرے نیٹو ممالک کی افواج کو بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا پس منظر بادی النظر میں افغانستان میں طالبان کی جانب سے کابل حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیوں کا نظر آتا ہے۔ طالبان افغانستان ایک صوبے پر پہلے ہی کنٹرول حاصل کر چکے ہیں جبکہ وہ افغانستان دارالحکومت کابل میں بھی دہشت گردی کی وارداتوں کے ذریعے کابل انتظامیہ کو چیلنج کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی کابل کے ایک گیسٹ ہائوس میں طالبان مخالف علماء کونسل کے اجتماع پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجہ میں علماء کونسل کے سربراہ سمیت سات افراد جاں بحق ہوئے ہیں اس لئے یہ بعید از قیاس نہیں کہ افغانستان میں امن کی مکمل بحالی تک نیٹو کی افواج کی مخصوص تعداد افغانستان میں موجود رکھنے کی درخواست اشرف غنی کی کابل انتظامیہ کی جانب سے ہی کی گئی ہو۔ افغانستان میں مکمل قیام امن یقیناً ہمارا بھی مطمع نظر ہے کیونکہ ہماری اپنی امن و سلامتی افغانستان کے امن کے ساتھ منسلک ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی جانب سے امریکہ کو افغانستان میں مکمل قیام امن تک اپنی افواج افغانستان میں موجود رکھنے کا کہا جا چکا ہے تاہم اس وقت علاقائی امن کی بہترین حکمت عملی یہی ہو سکتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان باہم مل کر اس خطہ کو دہشت گردی سے پاک کریں تاکہ کسی بیرونی قوت کے لئے قیام امن کے نام پر دوبارہ اس خطہ میں مداخلت کا جواز پیدا نہ ہو سکے۔ دو روز قبل وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ کابل کے موقع پر پاکستان اور افغانستان کی سیاسی اور عسکری قیادتیں دہشت گردی کے خاتمہ کی مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہو چکی ہیں اس لئے بہتر ہے کہ اس مشترکہ حکمت عملی کو موثر بنایا جائے اور افغان دھرتی پر غیر ملکی فوجی بوٹوں کی دوبارہ گنجائش نہ نکلنے دی جائے کیونکہ اس سے علاقائی امن و سلامتی کو نئے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جبکہ علاقائی ترقی اور امن و سلامتی کے لئے پاکستان اور افغانستان کا باہمی اتحاد دوررس نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔