داعش ممکنہ طور پر سانحہ کراچی میں ملوث‘ اسے پاکستان میں قدم نہ جمانے دیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
داعش ممکنہ طور پر سانحہ کراچی میں ملوث‘ اسے پاکستان میں قدم نہ جمانے دیں

سانحہ صفورا چورنگی کراچی میں دہشتگردوں کے ہاتھوں خواتین اور بچوں سمیت46 افراد کے جاں بحق ہونے پر گزشتہ روز یوم سوگ منایا گیا۔ قومی پرچم سرنگوں رہا۔ اجتماعی جنازے اٹھنے پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ دریں اثناء جائے وقوعہ سے کالعدم تنظیم داعش کے پمفلٹ ملے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ داعش کی طرف سے ٹوئیٹر پیغام کے ذریعے ذمہ داری قبول کی گئی۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے سانحہ میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنیوالے تمام ادارے چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں، کالعدم تنظیموں، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ کراچی میں ٹارگٹ آپریشن کو تیز سے تیز تر کیا جائے۔ یہ ہدایات انہوں نے گورنر ہائوس کراچی میں اجلاس کی صدارت کے دوران دیں۔اجلاس میں وزیراعظم نے آپریشن کا فائنل رائونڈ شروع کرنے کی منظوری دی۔ اجلاس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف،کور کمانڈر کراچی، وزیر دفاع خواجہ آصف ، سابق صدر آصف علی زرداری ، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ، ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ: ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی، رشید گوڈیل سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔
2013ء میں اسماعیلی کمیونٹی کے جماعت خانوں کو کراچی میں دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ دستی بموں کے ساتھ پمفلٹ بھی پھینکے گئے جس میں اجتماع کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی اور راہ راست آنے کی وارننگ دی گئی۔ یہ گمراہ عناصر خود کو راہ راست پر سمجھتے ہیں۔ ان کے عقائد اور تعلیمات میں خواتین کو تعلیم کا کوئی حق نہیں ہے۔ جمہوریت ان کے نزدیک حرام ہے۔ ہمارے ہاں قبائل کی کچھ اپنی روایات ہیں اور کچھ لوگ خود سے اختلاف کرنیوالوں کو ذبح تک کر دیتے ہیں۔ کچھ ان تنظیموں سے متاثر بھی ہیں۔ حالیہ دنوں دیر میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر ضمنی الیکشن ہوا جس میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اسماعیلی کمیونٹی کے جماعت خانوں پر 2013ء کی دہشتگردی کے ڈانڈے سانحہ صفورا تک آملتے ہیں۔ داعش نے اس سانحہ کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اسی نوعیت کے پمفلٹ بھی وقوعہ سے ملے ہیں۔
اگر اس سانحہ میں واقعی داعش ملوث ہے، اور اس کی پشت پناہی بھارتی فنڈنگ سے کی جا رہی ہے تو یہ اس کی طرف سے پاکستان میں سب سے بڑی واردات ہے جس کی ذمہ داری بھی قبول کی گئی ہے۔ سکیورٹی اداروں کے لئے داعش کی پاکستان میں موجودگی اور اس قدر بھیانک واردات کا ارتکاب الارمنگ ہونا چاہیے۔ بادی النظر میں داعش پاکستان میں طاقتور ہو رہی ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر کمیونٹیز پر حملے لشکر جھنگوی کے ابوہریرہ گروپ کی جانب سے کئے جاتے ہیں۔ اس گروپ کو آج کل ڈاکٹر زبیر لیڈ کرتا ہے اور یہ گروپ گزشتہ کچھ عرصہ سے اپنی شناخت داعش کی ایک شاخ کی حیثیت سے کراتا ہے، اس گروپ کے کچھ افراد چار ماہ قبل ایک پڑوسی ملک کے ذریعے عراق گئے جہاں انہوںنے داعش کے دہشت گردوں کے ساتھ اسلحہ چلانے اور دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔ یہ گروپ لانڈھی، کورنگی میں زیادہ سرگرم عمل ہے اس گروپ نے اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کی بھی ٹارگٹ کلنگ کی ہے۔
جس ملک میں مولانا عبدالعزیز جیسے مس گائیڈڈ ’’سکالر‘‘ ہوں وہاں داعش جیسی شدت پسند تنظیم کو طاقت حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ پاکستان میں مدارس کی تعداد 25 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان میں سے اکثر دینی و دینوی تدریس کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں کچھ میں اسلحہ چلانے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ مشرف دور میں مدارس کی رجسٹریشن کا فیصلہ کیا گیا تو اکثر نے رجسٹریشن کرا لی جبکہ کچھ نے مدارس کا معائنہ کرانے سے انکار کر دیا۔ اس وقت نیم جمہوری دور تھا اس لئے مدارس کی رجسٹریشن سیاستدانوں کی مصلحتوں کا شکار ہو گئی۔ جو مدارس صرف درس تدریس تک محدود ہیں۔ وہ معائنہ کرانے سے گریز نہیںکرتے شدت پسندی کی تعلیم دینے والے ادارے فساد کی جڑ بن چکے ہیں۔ ان کے مدارالمہام عموماً فنڈنگ کی غرض سے اپنے نظریات پر بھی کمپرومائز کر لیتے ہیں۔ ساتھ شدت پسند تنظیموں کا خوف ان کو شدت پسندوں کے زیادہ قریب کر دیتا ہے۔
خوف، لالچ اور بعض اوقات ذاتی مفادات کے باعث سیاسی لوگ اور پارلیمانی جماعتیں دہشتگردی کی حمایت کے لئے نہ بھی تیار ہوں تو ان کی سرگرمیوں کو نظر انداز ضرور کر دیتی ہیں۔ کچھ مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین پر شدت پسندانہ نظریات کا زیادہ ہی اثر نظر آتا ہے۔ یہ لوگ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں آگے آگے تھے۔ دہشتگردوں کے ساتھ ہمدردیوں کے باعث ہی ان کے ویزے منسوخ ہو رہے ہیں اور ان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کامیابیاں ہی نہیں ناکامیاں بھی ہماری ہیں۔ حکومتی ذمہ دار کی طرف سے پہلی دفعہ ناکامیوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔ اس سے فائدہ تب ہی ہے کہ اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھا جائے اور ان کا اعادہ نہ ہونے دیا جائے۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ مذہب کے نام پر جو نفرت پھیلائی جا رہی ہے، جو فنڈنگ کی جا رہی ہے اس کا سخت نوٹس لیا ہے۔ حکومت نے ضرور نوٹس لیا ہو گا۔ مگر اس کے نتائج دیکھنے میں نہیں آئے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا بھی کہنا ہے کہ دہشتگردوں اور ان کے معاونین کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ پاک فوج ضرب عضب آپریشن میں بلاشبہ کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔ مگر ان کے سہولت کاروں یا معاونین پر کڑا ہاتھ نہیں ڈالا گیا۔
قطع نظر اس کے کہ داعش سانحہ صفورا گوٹھ میں ملوث ہے یا نہیں یہ حقیقت ہے داعش پاکستان میں در آئی ہے۔ ابھی اس نے جڑ نہیں پکڑیں۔ پاکستان اس کے لئے Easy Market Place ہے جہاں اسے فنڈنگ اور ریکروٹ مل جائیں گے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں نیشنل ایکشن پلان پر متفق ہیں مگر اس کا فائدہ کیا ہوا؟ طالبان نے راہ فرار اختیار کی تو داعش پنجے جمانے لگی ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت کو ’’آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا، معاونین تک کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے‘‘ جیسے اچھی لفاظی والے بیانات کو عملی جامہ پہنانا اور سچ کر دکھانا ہو گا۔ قوم آپ کے ساتھ ہے۔ ملک میں کوئی را کا ایجنٹ ہے داعش سے تعلق رکھتا یا فرقہ واریت میں ملوث ہے۔ اسے عبرت کا نشان بنانا ہو گا۔ خصوصی طور پر داعش کو پاکستان میں قدم نہ جمانے دیئے جائیں۔ مصلحتوں اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک بے رحم آپریشن کیا جائے ۔جو انسانیت پر رحم نہیں کرتے وہ خود بھی رحم کے مستحق نہیں۔