اقتصادی راہداری منصوبے پر بحث بند، کام شروع کیا جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
اقتصادی راہداری منصوبے پر  بحث بند، کام شروع کیا جائے

وفاقی حکومت اقتصادی راہداری منصوبوں کے حوالے سے تمام جماعتوں کے تحفظات دور کرنے میں کامیاب رہی۔ وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں تمام پارٹی لیڈرز کو مذکورہ منصوبوں پر اعتماد میں لیا گیا جنہوں نے تفصیلی بریفنگ پر شکریہ کے علاوہ حکومت کو اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ سابق صدر آصف علی زرداری، شاہ محمود قریشی، اسفندیار ولی، مولانا فضل الرحمن سمیت تمام جماعتوں کے سرکردہ رہنما اس موقع پر موجود تھے۔ یاد رہے اقتصادی راہداری منصوبوں سے صرف پاکستان یا چین کو ہی نہیں پورے خطے کو فوائد حاصل ہونگے۔
اقتصادی راہداری منصوبے متنازع نہیں، ان میں کسی قسم کی تبدیلی کا امکان بھی نہیں ہے، ان کے نقشے تین سال قبل تیار کر لئے گئے تھے، ان منصوبوں سے متعلق افواہوں میں کوئی دم خم نہیں ہے۔ دونوں ممالک کا اتفاق ہے کہ ان منصوبوں میں کسی تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ منصوبوں پر سرمایہ کاری چین کر رہا ہے، نقشے بھی اسی نے تیار کئے ہیں، اس حوالے سے نہ صرف کل بلایا جانے والا اجلاس غیرضروری تھا بلکہ تحفظات دور کرنے کیلئے بنائی جانے والی جائزہ کمیٹی بھی بے معنی اور بے فائدہ ہو گی۔ اصل صورت یہ ہے بعض عناصر اس منصوبے کو بھی کالاباغ ڈیم کی طرح متنازع بنانا چاہتے ہیں اور اسی نوعیت کی کوششوں میں مصروف ہیں تاہم تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کی حکومت کے ساتھ اس مسئلے پر یکجہتی خوش آئند ہے۔