کرزئی عملاً بھی اپنی نیک نیتی ظاہر کریں

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ میں ڈرون حملوں کے حق میں نہیں بلکہ اس کیخلاف ہوں۔ ڈرون حملوں سے متعلق نواز شریف کے موقف سے مکمل اتفاق ہے۔ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جس طرح دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑی جا رہی ہے اس سے ہمیں کوئی سکون نہیں ملنے والا دہشت گردی کیخلاف جنگ کے حملے صحیح اہداف پر نہیں کئے جا رہے۔ عوام پر بمباری کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔
حامد کرزئی اپنی آخری صدارتی ٹرم پوری کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں وہ سب کچھ کیا جس کا امریکہ نے مطالبہ کیا بلکہ حکم دیا تھا۔ امریکہ میں افغان عوام کے مرنے پر کرزئی روتے اور احتجاج کرتے بھی نظر آئے لیکن پاکستان میں ہونیوالی ہلاکتوں پر انہوں نے کبھی تاسف کا اظہار نہیں کیا۔ اب انکے دل میں پاکستان کیلئے ہمدردی جاگی ہے تو اس کا اظہار انہوں نے بیان کی حد تک کر دیا۔ انہوں نے آج مولوی فقیر محمد کے افغانستان میں قید ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ مولوی فضل اللہ بھی افغانستان ہی میں موجود ہیں۔ ان دونوں کے ایما پر پاکستان میں شدت پسند پاک فوج کیخلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ کرزئی حکومت نے ان کو تحفظ نہ دیا ہوتا تو پاکستان یقیناً نسبتاً پرامن ہوتا اور شاید امریکہ کو ڈرون حملے کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوتی۔ حامد کرزئی اپنی نیک نیتی کو عملاً بھی ثابت کریں جس کیلئے مولوی فقیر محمد اور مولوی فضل اللہ کو پاکستان کے حوالے کرنا ضروری ہے۔