وزیراعظم کا فوجی سربراہان کو خود مختاری کا تحفظ یقینی بنانے کا حکم

آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، فضائیہ کے سربراہ طاہر رفیق بٹ نے وزیراعظم نواز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ ملکی سلامتی و خود مختاری کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے جبکہ دوسری طرف دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ڈرون حملے ختم کرانا اولین ترجیح ہے۔
اس وقت حکومت کو معاشی چیلنجز کے علاوہ سکیورٹی کے چیلنج کا بھی سامنا ہے ملکی حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ امن و امان کو برقرار رکھنا مشکل نظر آتا ہے۔ نئی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی طالبان سے امن مذاکرات کرنے کا اعلان کیا گیا جبکہ طالبان نے بھی مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن پے در پے امریکی ڈرون نے امن مذاکرات کی کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ ڈرون حملے ہماری خود مختاری پر حملے ہیں اسے ہر صورت بند ہونا چاہئے۔ حکومت کی اولین ترجیحات بھی یہی ہیں۔ وزیراعظم کا آرمی چیف اورپاک فضائیہ کے سربراہ کو ملکی سلامتی کا تحفظ ہر صورت یقینی بنانے کا حکم بھی درحقیقت اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کو پامال کرنیوالے دہشت گردوں سے سختی سے نبٹا جائے۔ پاک فوج یقینی طور پر اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے لیکن اسے اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نبٹنے کیلئے ہر وقت مستعد رہنا چاہئے۔ ماضی کی نسبت اس وقت حالات کافی حد تک بہتر ہیں لیکن شدت پسندوں کا مکمل صفایا کرنے کیلئے حکومت سے دفاعی اور قانون نافذ کرنیوالے اداروںکی دانشمندانہ رہنمائی کی توقع کی جا رہی ہے۔ یقیناً وزیراعظم کو بریفنگ بھی آرمی اور فضائیہ کے چیف کی طرف سے اچھا عمل ہے اور امید ہے وزیراعظم فوج اور فضائیہ کے مشوروں اور درخواستوں پر سنجیدگی سے غور کرینگے۔