بجٹ کی منظوری سے پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیا ءکے نرخوں میں اضافہ اور عوامی احتجاج وزیر خزانہ امرا ءسے ٹیکسوں کی وصولی یقینی بنا پائیںگے؟

نئی حکومت کا پہلا بجٹ آتے ہی جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافے کا جواز بنا کر پٹرولیم مصنوعات‘ سی این جی‘ ادویات‘ الیکٹرانکس کی اشیائ‘ گھی‘ سیمنٹ اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاءمیں ازخود اضافہ کردیا گیا جس سے عوام کی چیخیں نکل گئیں۔ پٹرولیم مصنوعات میں رواں ماہ کے پہلے 13 دنوں میں یہ دوسرا اضافہ ہے۔ وزارت پٹرولیم نے اس سلسلہ میں پٹرولیم مصنوعات کے نئے نرخوں سے متعلق نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا ہے جس کے تحت پٹرول‘ ڈیزل اور مٹی کے تیل کے نرخوں میں فی لٹر ایک روپے تک اضافہ ہو گیا ہے جبکہ سی این جی کے نرخوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کا اپنے ازخود اختیار کے تحت نوٹس لے لیا ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے اس سلسلہ میں اپنے ریمارکس میں قرار دیا کہ قیمتوں میں اضافہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ازخود اختیار کے تحت اس کیس کی سماعت کا فیصلہ رجسٹرار سپریم کورٹ کے اس نوٹ پر کیا گیا کہ جی ایس ٹی میں اضافہ بجٹ کے اندر تجویز کیا گیا ہے جبکہ آئین کے مطابق فنانس بل کی منظوری تک یہ اضافہ لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ فاضل چیف جسٹس نے اس سلسلہ میں اٹارنی جنرل سے استفسار کیا ہے کہ فنانس بل کی منظوری سے قبل ٹیکسوں کا نفاذ کیسے شروع ہو گیا۔
ہماری سوسائٹی کا شروع دن سے ہی یہ المیہ رہا ہے کہ ہر بجٹ کے پیش ہوتے ہی اس میں تجویز کردہ ٹیکسوں کی بنیاد پر روزمرہ استعمال کی اور دوسری متعلقہ تمام اشیاءکے نرخوں میں اپنی من مرضی کے تحت اضافہ کردیا جاتا ہے اور گراں فروشوں پر قانون کی گرفت نہ ہونے کے باعث یہی اضافہ سکہ¿ رائج الوقت کی طرح تسلیم کرالیا جاتا ہے۔ ہر حکومت کی جانب سے دعویٰ تو یہی کیا جاتا ہے کہ اس نے عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے جبکہ درحقیقت ہر بجٹ عوام کیلئے مہنگائی کے طوفان اور دوسرے ڈھیروں اقتصادی مسائل لے کر آتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ عوام کا بھاری مینڈیٹ لے کر اقتدار میں آنیوالے نئے حکمرانوں کے پہلے بجٹ کے ذریعے سامنے آیا ہے۔ یہ بجٹ پیش کرتے وقت اور اگلے روز اپنی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ کو حقیقت پسندانہ قرار دیا اور بالاصرار باور کرایا کہ عام آدمی (متوسط‘ غریب اورپسماندہ طبقات) پر ٹیکسوں کا کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا جبکہ انہوں نے عازمین حج پر فی حاجی تجویز کئے گئے دو ہزار روپے کے ٹیکس کے بارے میں بھی یہ استدلال پیش کیا کہ یہ ٹیکس حاجیوں پر نہیں‘ ٹور اپریٹرز پر لگایا گیا ہے جبکہ ٹوراپریٹرز فی الحقیقت یہ ٹیکس عازمین حج سے ہی وصول کرینگے‘ کیونکہ لاقانونیت کے کلچر میں کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔ اصولی طور پر تو جی ایس ٹی بھی مارکیٹوں اور گلیوں بازاروں میں اپنی دکانوں پراشیاءفروخت کرنیوالے دکانداروں پر ہی لگتا ہے مگر وہ یہ ٹیکس اشیاءکے نرخوں میں اضافہ کرکے صارفین سے وصول کرلیتے ہیں اور اپنا ایک دھیلے کا بھی نقصان نہیں ہونے دیتے۔ اس بار تو لاقانونیت کو فروغ دینے والی من مانیوں کا آغاز خود حکومتی سطح پر وزارت پٹرولیم کی جانب سے کیا گیا ہے جس نے قومی بجٹ پیش ہوتے ہی اس میں تجویز کردہ جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافے کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ اگر من مانی منافع خوری کی حکومتی سطح پر ہی اجازت مل رہی ہے تو پھر بجٹ میں عائد براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کی بنیاد پر تاجروں‘ صنعت کاروں اور خوردہ فروشوں تک کو عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے سے کیسے روکا جا سکے گا۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ عوام کو نہ تو بجٹ میں کسی قسم کا ریلیف دیا گیا بلکہ ان پر بالواسطہ نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا گیا اور نہ ہی ناجائز منافع خوروں اور گراں فروشوں کی ازخود مسلط کردہ مہنگائی سے عوام کو خلاصی دلانے کیلئے انتظامی مشینری کو حرکت میں لایا گیا۔ وزیر خزانہ نے اپنی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں حکومتی اتھارٹی کو تسلیم کرانے کا تاثر دیتے ہوئے یہ تیر ضرور مارا کہ امراءکو اب ہر صورت ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ اگر اس معاملہ میں حکومتی اتھارٹی فی الواقع تسلیم کرالی جائے تو محصولات کی مد میں وصولیوں کا ہدف پورا کرنے میں کوئی دقت ہی پیش نہ آئے مگر عملاً تو ہمیشہ اس دعوے کے برعکس ہوتا ہے۔ ٹیکس ادا کرنے کے قابل امراءاور مراعات یافتہ اشرافیہ طبقات کی بڑی تعداد تو منتخب ایوانوں میں حکومتی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھی ہوتی ہے جن کے بارے میں سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا یہ بیان اسمبلی کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ ان منتخب ایوانوں میں بیٹھے ساڑھے گیارہ سو میں سے ساڑھے آٹھ سو ارکان ٹیکسوں کی مد میں ایک دھیلہ بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں کراتے۔ حد تو یہ ہے کہ ان مراعات یافتہ طبقات کی اکثریت نے کبھی این ٹی این حاصل کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی کیونکہ وہ ٹیکس ادا کرینگے تو این ٹی این کا حصول ان کا استحقاق بنے گا۔
وزیر خزانہ نے جن عوام پر بجٹ میں ٹیکسوں کا بوجھ نہ ڈالنے کا دعویٰ کیا ہے‘ انکی تو بجٹ کی منظوری سے پہلے ہی چیخیں نکل رہی ہیں‘ بالخصوص تنخواہ دار طبقات تو مہنگائی کے عفریت کیلئے ترنوالہ بن گئے ہیں جبکہ جن امراءسے وزیر خزانہ ہر صورت ٹیکس وصول کے دعوے کر رہے ہیں‘ منتخب ایوانوں میں بیٹھی انکی اکثریت ماضی جیسے حربے اختیار کرکے پھر خود کو ٹیکس نیٹ کے دائرے سے باہر نکلوالے گی اور بجٹ کا خسارہ زندہ درگور عوام کے جسموں میں موجود خون کے آخری قطرے کو نچوڑ کر ہی پورا کیا جائیگا۔ اصولی طور پر تو وزیر خزانہ کو نشان زدہ امراءسے واجب الادا ٹیکسوں کی ایک ایک پائی وصول کرکے اپنے دعوے کی لاج رکھنی چاہیے اور اسکی ابتداءپارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں موجود ارکان سے کی جانی چاہیے۔ اسکے بعد منی بجٹ لانے اور براہ راست یا بالواسطہ مزید ٹیکس لاگو کرنے کی شائد ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔ آخر غیرمقبول اور جرا¿ت مندانہ فیصلے ان عوام سے ہی ذمہ دار شہری بننے کے کیوں متقاضی ہوتے ہیں‘ جنہیں کسی قانون سے سرکشی اختیار کرنے کی پہلے ہی کوئی جرا¿ت نہیں اور وہ سر جھکائے خود پر قانون کی عملداری لاگو کرانے کیلئے ہمہ وقت تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ کیا اس بار ایسا کوئی معجزہ ہو پائے گا کہ اپنی حیثیت‘ طاقت‘ اختیار اور اثرورسوخ کے بل بوتے پر خود پر لاگو ہونیوالے قوانین سے کسی ہیرپھیر یا زور آوری سے صاف بچ نکلنے والے ان مراعات یافتہ اشرافیہ طبقات پر بھی قانون کا حقیقی معنوں میں نفاذ ہوتا نظر آئے اور جس کی جن بھی ذرائع سے جو بھی حقیقی آمدنی ہے‘ اسکے تناسب سے ہی اس سے ٹیکس وصول کیا جائے۔ سینیٹر اسحاق ڈار اس معاملہ میں فی الواقع کوئی کارنامہ سرانجام دے ڈالتے ہیں تو وہ عوام الناس کیلئے ہیرو کا درجہ حاصل کرلیں گے۔ کیا من مانیوں اور لاقانونیت کا نوٹس لینا عدلیہ کی ذمہ داری ہی رہ گئی ہے۔ بجٹ کی منظوری سے پہلے ہی نرخوں میں من مانے اضافے کرنیوالے سرکاری اور نجی اداروں اور گراں فروشوں کو قانون کی گرفت میں لانے کی پہلی ذمہ داری تو حکومتی انتظامی مشینری کی ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کو تو خود اس معاملہ کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔