پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد ہی اجتماعی قومی سوچ کی ترجمان ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ
پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد ہی اجتماعی قومی سوچ کی ترجمان ہے

سعودی عرب کےساتھ کھڑا ہونے سے متعلق وزیراعظم کا پالیسی بیان‘ قومی مو¿قف سے ہم آہنگ یا گومگو کا شاہکار؟

وزیراعظم نوازشریف نے یمن کے تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں 10 اپریل کو منظور ہونیوالی قرارداد پاکستان کی پالیسی کے مطابق ہے۔ گزشتہ روز اپنے اہم وزراءاور پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے مشاورتی میٹنگ کے بعد اپنے پالیسی بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ یمن میں غیرریاستی عناصر کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی مذمت کرتے ہیں اور صدر منصور ہادی کی حکومت کی بحالی پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمن پر مشترکہ قرارداد کے بعد کئی طرح کے بیانات آئے جن میں صورتحال کے بارے میں کچھ میڈیا رپورٹس مبہم اور افواہوں پر مبنی ہیں۔ انہوں نے خلیج تعاون کونسل پر واضح کیا کہ قرارداد پر ان کا عدم اعتماد غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ میڈیا میں پاکستان اور عرب ممالک کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے کیلئے بعض افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان سٹرٹیجک پارٹنر ہیں‘ مشکل وقت میں پاکستان دوست ممالک کو تنہاءنہیں چھوڑے گا اور ہم سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی قیادت سے مشاورت کے ساتھ آئندہ دنوں میں یمن بحران کے حل کیلئے سفارتی کوششیں تیز تر کر دیگا۔ ہم سعودی عرب کا دفاع ہر صورت کرینگے اور سعودی عرب کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور سالمیت کا تحفظ ہماری خارجہ پالیسی کا حصہ ہے اور سعودی عرب کی سالمیت کو خطرہ ہوا تو ہم سخت جواب دینگے۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ حوثی باغیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کرے۔
اگرچہ وزیراعظم نوازشریف نے یمن کے ایشو پر پارلیمنٹ کی منظور کردہ متفقہ قرارداد کو پاکستان کی پالیسی کے عین مطابق قرار دیا ہے تاہم انہوں نے اپنے پالیسی بیان میں جس لب و لہجے اور الفاظ کے جس چناﺅ کے ساتھ حوثی باغیوں کی مذمت اور یمنی صدر منصور ہادی کی حکومت کی بحالی کا تقاضہ کیا اور سعودی عرب کی خودمختاری کی حفاظت کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا‘ اس سے بادی النظر میں مشترکہ قرارداد کے برعکس وزیراعظم کا جھکاﺅ واضح طور پر سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کی جانب نظر آیا جس میں لامحالہ پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد پر یو اے ای کے نائب وزیر خارجہ‘ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور اور عرب پارلیمنٹ کے چیئرمین کے بیانات کی شکل میں حکومت پر پڑنے والے دباﺅ کا عمل دخل ہے جبکہ وزیراعظم نے اپنے پالیسی بیان میں یو اے ای کے نائب وزیر خارجہ کے دھمکی آمیز بیان پر ردعمل ظاہر کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی اور یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھا کہ پارلیمنٹ کی قرارداد پر خلیجی قیادتوں کا عدم اعتماد کا اظہار کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے جبکہ پاکستان اور عرب ممالک میں غلط فہمیاں پیدا کرنے میں میڈیا نے کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم کے وضاحتی بیان سے اس امر کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ یمن کے حوثی قبیلے کیخلاف سعودی عرب کو عسکری اور حربی امداد سمیت ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کا انہوں نے پہلے ہی ذہن بنا رکھا تھا جس کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل سعودی عرب کی غیرمشروط اور ہر قسم کی امداد سے متعلق اپنے بیان میں بھی کیا اور انکے اس بیان کی روشنی میں ہی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سعودی عرب کا دورہ کرکے سعودی قیادت کو پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انکے دورے کے دوران ہی سعودی میڈیا کے حوالے سے یہ باتیں منظرعام پر آئیں کہ سعودی عرب نے یمنی باغیوں کیخلاف جنگ کیلئے پاکستان سے فوجی دستوں اور جنگی سازوسامان کی شکل میں جو امداد طلب کی ہے‘ پاکستان نے اس پر مکمل آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال میں ملک کے سیاسی‘ دفاعی اور رائے عامہ ہموار کرنیوالے دوسرے حلقوں کی جانب سے بجا طور پر اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ حکومت کا پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے ایک مسلمان ملک کیخلاف دوسرے مسلمان ملک کو عسکری اور حربی امداد فراہم کرنے کا اقدام قومی مفادات کے سراسر منافی ہوگا اس لئے بہتر ہے کہ وزیراعظم اس ایشو پر خود کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے اسے پارلیمنٹ میں لائیں۔ اس فضا میں یقیناً حکومت پر قوم کے اجتماعی شعور کا دباﺅ پڑا جس کا اظہار مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اپنے اس بیان کے ذریعے کیا کہ من حیث المجموعی قوم کی رائے یمن کیخلاف جنگ کیلئے افواج نہ بھجوانے کی سامنے آرہی ہے۔ چنانچہ حکومت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے پر مجبور ہوئی جس میں اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ خود حکومتی ارکان اور دینی جماعتوں کی قیادتوں کی جانب سے بھی یمن کیخلاف سعودی عرب کو عسکری معاونت فراہم کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا جو پاکستان کے اپنے حالات سے متعلق تھے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہونیوالے بحث مباحثہ کی روشنی میں اتفاق رائے سے ایک قرارداد تیار کرکے ہاﺅس میں پیش کی گئی جس کی پورے ہاﺅس نے متفقہ طور پر منظوری دی۔
یقیناً اس قرارداد میں بھی سعودی عرب کی جغرافیائی سلامتی کو کسی خطرہ کی صورت میں اسکے دفاع کے عزم کا اظہار اور حرمین شریفین کے تحفظ پر بھی کوئی آنچ نہ آنے دینے کا اعلان کیا گیا جو بطور مسلمان ہماری ذمہ داری اور مذہبی فرائض میں شامل ہے تاہم قرارداد میں واضح طور پر حکومت سے تقاضہ کیا گیا کہ وہ یمن کی جنگ میں غیرجانبدار رہے اور مذاکرات کے ذریعے فریقین میں تنازعہ حل کرانے کی کوشش کی جائے جس کیلئے پاکستان‘ ترکی اور ایران کے ساتھ رابطوں کی شکل میں پہلے ہی پیش رفت کر چکا تھا۔ پارلیمنٹ کی یہ قرارداد یقیناً قوم کے اجتماعی شعور کی عکاس ہے جس میں قومی مفادات کے تقاضوں کو بہرصورت پیش نظر رکھا گیا ہے اور اس تناظر میں حکومت کو بھی یمن ایشو پر ٹھوس اور واضح مو¿قف اختیار کرنے کیلئے تقویت حاصل ہوئی۔ تاہم اس قرارداد پر ٹویٹر پیغام کی صورت میں متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر خارجہ ڈاکٹر انور قرقاش کی جانب سے پاکستان کو اس کا خمیازہ بھگتنے کا جو دھمکی آمیز پیغام دیا گیا‘ وہ مسلم برادرہڈ اور سفارتی ادب آداب کے تقاضوں کے سراسر منافی اور پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف تھا۔ اسی طرح عرب پارلیمنٹ کے چیئرمین نے بھی پارلیمنٹ کی قرارداد کو بلاسوچے سمجھے اسلامی ممالک سے متصادم قرار دیا۔ اصولی طور پر تو وزیراعظم نوازشریف کو‘ جو وزارت خارجہ کا قلمدان بھی اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں‘ یو اے ای کے نائب وزیر خارجہ اور عرب پارلیمنٹ کے چیئرمین کے ملکی خودمختاری کے منافی بیانات پر اسی وقت سخت ردعمل ظاہر کرکے انہیں پاکستان کی خودمختار حیثیت کا احساس دلانا چاہیے تھا مگر یہ ذمہ داری وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان نے نبھائی جن کے ٹھوس جواب پر بعض حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ انہوں نے وزیراعظم سے پیدا شدہ اپنے اختلافات کی بنیاد پر ایسا بیان دیا ہے جو وزیراعظم کیلئے پریشانی کا باعث بن سکے۔
اب وزیراعظم کے پالیسی بیان کے لب و لہجہ سے اس امر کا واضح عندیہ ملتا ہے کہ انہوں نے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرکے وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان کے ٹھوس جوابی مو¿قف کو بھی کاﺅنٹر کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنے تئیں سعودی‘ خلیجی قیادتوں کو پارلیمنٹ کی قرارداد کے باوصف اپنے بے لوث تعاون کا بھی یقین دلایا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل سعودی وزیر برائے مذہبی امور شیخ صالح بن عبدالعزیز میڈیا سے بات چیت کے دوران ادب آداب کو پیش نظر رکھتے ہوئے سیاسی نوعیت کا یہ بیان جاری کر چکے تھے کہ ہم پاکستانی پارلیمنٹ اور عوام کا احترام کرتے ہیں اور یمن میں باغیوں کیخلاف قائم اتحاد میں شمولیت کا مطلب سیاسی حمایت ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ ہم پاکستان کی سیاسی حمایت چاہتے ہیں اس سے فوجی امداد نہیں مانگی چنانچہ وزیراعظم نوازشریف انکے اس بیان کی بنیاد پر سفارتی ادب آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے خلیج اتحاد کونسل کی سیاسی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کر سکتے تھے جس کا پارلیمنٹ کی قرارداد میں بھی اظہار موجود ہے۔ تاہم انہوں نے قرارداد کے متن میں موجود پاکستان کے غیرجانبدارانہ کردار کے الفاظ سے صرفِ نظر کرتے ہوئے حوثی باغیوں کی مذمت اور معزول یمنی صدر کی بحالی کا تقاضہ کیا اور یہ یقین دلایا کہ سعودی عرب کی خودمختاری کی حفاظت ہماری خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے تو اس سے بادی النظر میں وزیراعظم کی جانب سے یہی پیغام گیا کہ پاکستان یمنی باغیوں کیخلاف سعودی عرب کو جنگی سازوسامان سمیت ہر قسم کی عسکری امداد فراہم کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے جو پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد کی روح کے منافی اور اجتماعی قومی شعور کی نفی ہے جبکہ پارلیمنٹ سے قرارداد کی متفقہ منظوری کے بعد انہیں بہرصورت اس قرارداد کی پاسداری کرنی چاہیے اور قومی مفادات کو اپنی ذاتی سوچ کے تابع نہیں کرنا چاہیے۔ اس وقت جبکہ ایران کی جانب سے بھی یمن کے تنازعہ کے حل کیلئے وہاں نئی حکومت تشکیل دینے کی تجویز پیش کی جاچکی ہے‘ جو درحقیقت یمن تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر ایران کا آمادگی کا اظہار ہے تو بجائے اسکے کہ اس تنازعہ میں ہمارا کردار خلیجی اتحاد کونسل کے ساتھ کھڑے ایک فریق کا نظر آئے‘ ہمیں اپنی بہترین سفارتی کوششیں بروئے کار لا کر فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کی راہ ہموار کرنی چاہیے جو پارلیمنٹ کی منظور کردہ قرارداد کا مطمع¿ نظر بھی ہے اور ہمارے قومی مفادات کی ترجمانی بھی۔ اس حوالے سے حکومتی اتحادی مولانا فضل الرحمان کا کردار انکی بے اصولی سیاست کی غمازی کرتا ہے جو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان کے غیرجانبدار کردار سے متعلق قرارداد کے حق میں بھی ووٹ دیتے ہیں اور سعودی سفیر کی جانب سے سعودی وزیر مذہبی امور کو دیئے گئے عشائیہ میں دوسری دینی قیادتوں کے ساتھ پرجوش انداز میں کھڑے ہو کر سعودی عرب کی غیرمشروط اور مکمل حمایت کا عندیہ بھی دیتے ہیں۔ اگر ہماری حکومتی‘ قومی اور سیاسی قیادتیں قومی مفادات سے متعلق معاملات پر منافقانہ طرز عمل اختیار کرینگی تو اس سے دوسروں کو ہماری کمزوری کا تاثر ہی ملے گا جبکہ اس وقت ضرورت پارلیمنٹ کی متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد کے ساتھ کھڑا ہونے کی ہے۔ وزیراعظم کو بھی اب گومگو کی کیفیت سے باہر نکلنا چاہیے۔