ایران کی پاکستان میں سکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش، حکومت کیلئے لمحہ فکریہ

ایڈیٹر  |  اداریہ
ایران کی پاکستان میں سکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش، حکومت کیلئے لمحہ فکریہ

ایران کے وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا ہے کہ ایران پاکستان کے کچھ حصوں میں سکیورٹی فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ تہران میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیں واضح طور پر بتایا ہے کہ ایرانی سرحد کے قریب واقع کچھ پاکستانی علاقوں پر حکومت پاکستان کی رٹ نہیں اور وہ وہاں دہشت گردوں کوکنٹرول نہیں کرسکتی۔
ملک کے چپے چپے پر حکومت کی رٹ ہونی چاہئے۔ اگر بارڈر پر کسی علاقے میں رٹ نہیں ہے تو گویا آپ نے اس علاقے کو لاوارث چھوڑ دیا اور یہ علاقہ پڑوسی ملک کے رحم و کرم پر ہے۔ اگر وہ اس پر اپنا حق نہیں جتاتا یا دخل اندازی سے گریز کرتا ہے اور خصوصی طور پر ایسے علاقے میں جہاں سے اسکے ہاں مبینہ مداخلت ہوتی ہے تو اس کا بڑا پن اور ہمارے ریاستی اداروں کی نااہلی ہے۔ گزشتہ دنوں 7 ایرانی محافظوں کو ہلاک کیا گیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ حملہ آور پاکستان سے آئے اور پاکستان واپس چلے گئے۔ اگر ایسا ہے تو ان لوگوں کو کٹہرے میں لانا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ یہ کوئی جواز نہیں کہ رٹ نہ ہونے پر دہشت گردوں کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردوں کا ہر صورت محاسبہ ہونا چاہئے ۔عبدالرضا رحمانی فضلی نے سرحد پر مشترکہ گشت کی بھی تجویز دی۔ایران کی مشترکہ گشت کی تجویز پر عمل ہو سکتا ہے۔ یہ گشت اپنے اپنے علاقوں میں رہ کر ہو سکتی ہے۔ ایران نے پاکستان کے کچھ حصوں میں سکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یہ بلوچستان حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کیا ہم اپنے وطن کی حفاظت کرنے سے قاصر ہیں۔