مذاکرات، امن کو آخری یاایک اور موقع

ایڈیٹر  |  اداریہ
 مذاکرات، امن کو آخری یاایک اور موقع

 طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے مطالبے پرحکومت نے سرکاری کمیٹی تحلیل کرکے نئی کمیٹی تشکیل دیدی جس کے سربراہ سیکرٹری پورٹ اینڈ شپنگ حبیب اللہ خٹک ہونگے۔ دوسرے ارکان میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن اور پولیٹیکل سیکرٹری فاٹا ارباب عارف شامل ہیں جبکہ خیبر پختونخواہ حکومت کے نمائندے رستم شاہ مہمند کو نئی کمیٹی میں بھی شامل رکھا گیا ہے۔کمیٹی کے اعلان سے قبل وزیراعظم نواز شریف مشورے کیلئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے گھر گئے۔ وزیراعظم نواز شریف کہتے ہیں کہ خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر امن چاہتے ہیں۔ عمران خان نے مذاکرات کی غیر مشروط حمایت کی۔ طالبان کا فوج کو مذاکراتی ٹیم میں شامل کرنے پر اصرار تھا۔ حکومتی کمیٹی تحلیل کرنے کی وجہ بھی مولانا سمیع الحق کی تجویز کے مطابق مقتدر حلقوں کو حکومتی کمیٹی میں شامل کرانا تھا۔ فوج نے اس سے معذرت کی۔ کور کمانڈر کانفرنس میں فوج کی طرف سے واضح کہا گیا تھا کہ وہ مجرموں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتی۔ حکومت نے سیاستدانوں کو بھی شاید مجرموں کے ساتھ بٹھانے سے گریز کیا اور بیورو کریٹس پر مشتمل کمیٹی بنادی۔ وزیراعظم کی خون کا قطرہ بہائے بغیر امن کی خواہش بجا لیکن اس کا اظہار فریق ثانی کی طرف سے نہیں ہورہاگو فوج کی طرف سے سیاسی قیادت کے فیصلوں کی مکمل حمایت کا یقین دلایا گیا ہے، فوج اس کے سوا اور کچھ کہہ بھی نہیں سکتی مگر اس کی طرف سے مذاکراتی کمیٹی میں شامل نہ ہونا اور مخالف فریق کو مجرم قرار دینا فوج کے زبانی بیان سے زیادہ اہم ہے۔ سیز فائر کے باوجود بھی شدت پسندوں کی کارروائیاں مکمل طور پر بند نہیں ہوئیں۔ کل ڈی آئی خان میں پولیو ٹیم کے دو محافظوں کو قتل کردیا گیا۔اوپر سے طالبان سکیورٹی اداروں کو مورد الزام ٹھہرارہے ہیں۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ مذاکرات ناکام ہوئے تو اپریشن کرنا پڑیگا خواہ کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار طالبان کے رویے پر ہے۔ان کا ٹریک ریکارڈ بہتر نہیں ہے انہوں نے کئی دفعہ امن معاہدے توڑے اور حالیہ دنوں سفاکانہ کارروائیاں کرکے مذاکراتی عمل کو سبو تاژ کیا۔ حکومت بھی اب شروع ہونیوالے مذاکرات کو امن کا ایک موقع نہیں آخری موقع سمجھ کر کامیاب کرانے کی کوشش کر ے۔