لیاری کراچی کے آگ اور خون کے کھیل میں ایک ہی روز 31 افراد کی ہلاکتیں اور حکومتی بے نیازی کا تسلسل …… رینجرز اور پولیس کا ٹارگٹڈ اپریشن مؤثر نہیں تو فوجی اپریشن سے گریز کیوں؟

ایڈیٹر  |  اداریہ
لیاری کراچی کے آگ اور خون کے کھیل میں ایک ہی روز 31 افراد کی ہلاکتیں اور حکومتی بے نیازی کا تسلسل …… رینجرز اور پولیس کا ٹارگٹڈ اپریشن مؤثر نہیں تو فوجی اپریشن سے گریز کیوں؟

گینگ وار ملزم غفار ذکری کے بھائی کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد کراچی کا علاقہ لیاری ایک بار پھر میدان جنگ بن گیا اورگزشتہ روز اندھا دھند فائرنگ اور بم حملوں میں دس خواتین‘ چار بچوں اور آٹھ گینگسٹرز سمیت 31 افراد ہلاک اور 42 شدید زخمی ہوگئے۔ علاوہ ازیں کئی گینگسٹرز رینجرز اور پولیس کے ساتھ مقابلوں میں بھی مارے گئے جبکہ عباسی شہید ہسپتال میں پولیس اہلکار تین نعشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ گزشتہ روز لیاری کی جھٹ پٹ مارکیٹ میں گینگسٹرز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ اس مارکیٹ اور دوسرے علاقوں میں دستی بموں کے آٹھ حملے اور تین راکٹ فائر کئے گئے۔ مارکیٹ میں خریداری کرنیوالی خواتین اور عام لوگ ان حملوں کا نشانہ بنے اور آٹھ خواتین اور دو بچوں سمیت 16 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوئے۔ اسکے علاوہ کراچی کے علاقے چاکیواڑہ میں بھی شدید جھڑپیں جاری رہیں جس کے بعد پولیس اور رینجرز کے دستے لیاری میں داخل ہو گئے اور جرائم پیشہ گروپوں کیخلاف اپریشن شروع کر دیا۔ اسی طرح عثمان آباد میں فائرنگ کے تبادلے میں دو گینگسٹر مارے گئے جبکہ ماڑی پور میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور تین رینجرز اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ کلاکوٹ میں نامعلوم افراد نے تھانے پر حملہ کرکے ایس ایچ او کو اغواء کرلیا۔ امن و امان کی اس بدترین صورتحال میں لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے کراچی کی اس صورتحال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک دو روز میں کراچی کا دورہ کرینگے۔ سندھ کے صوبائی وزیر جاوید ناگوری نے الزام عائد کیا ہے کہ لیاری کی بدامنی میں نبیل گبول ملوث ہیں اور بدامنی کے یہ واقعات سندھ حکومت کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔
کراچی میں گزشتہ مسلسل چھ سال سے جاری آگ اور خون کے کھیل میں گزشتہ صرف ایک روز کے خون آشام واقعات بالخصوص کراچی میں حکومت اور انتظامی مشینری نام کی کوئی چیزموجود نہ ہونے کی ہی چغلی کھا رہے ہیں۔ اگر گزشتہ چھ ماہ سے جاری رینجرز اور پولیس کے ٹارگٹڈ اپریشن کے باوجود کراچی میں بدامنی اس انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے کہ جرائم پیشہ عناصر جب اور جس علاقے میں چاہتے ہیں‘ انسانوں کو سرعام اور دن دہاڑے گاجر مولی کی طرح کاٹ کر اپنی دہشت کی دھاک بٹھا دیتے ہیں تو حکومتی مشینری کی اس سے بڑی بے بسی اور کیا ہو سکتی ہے۔ بدقسمتی سے پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں پانچ برس تک مصلحتوں اور مفاہمتوں کی سیاست کے تابع بھتہ اور قبضہ مافیا‘ ٹارگٹ کلرز اور حکومتی سیاسی جماعتوں کی چھتری کے نیچے پروان چڑھنے والے دیگر جرائم پیشہ عناصر کھل کھیلتے ہوئے معصوم و بے گناہ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگتے‘ کاروباری مراکز میں اودھم مچاتے لوگوں کے کاروبار اور روزگار چھینتے رہے اور قومی معیشت کا بیڑا غرق کرتے رہے مگر پیپلزپارٹی‘ ایم کیو ایم متحدہ اور اے این پی پر مبنی حکومتی اتحادی ملک کی اس تباہی و بربادی پر بے حسی کا شاہکار بنے رہے۔ اگر کبھی عوامی دبائو اور میڈیا کی تنقید پر کہیں اپریشن شروع کیا جاتا تو کسی حکومتی اتحادی کے دبائو پر اسے ادھورا چھوڑ دیا جاتا جس سے بھتہ اور لینڈ مافیا کے حوصلے مزید بلند ہوتے‘ نتیجتاً پیپلزپارٹی کے اقتدار کا پورے پانچ سال کا عرصہ عروس البلاد کراچی کو اسکے پرامن اور معصوم و بے گناہ شہریوں کیلئے مقتل میں تبدیل کرنے کا باعث بنا رہا۔ اس بدنصیب شہر کا کوئی علاقہ ایسا نہیں تھا جہاں ٹارگٹ کلنگ‘ دنگا فساد‘ غنڈہ گردی اور دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوتا تھا۔ کراچی کے مکین جرم بے گناہی کی سزا بھگتنے والے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے اٹھاتے تھک گئے جبکہ روتے روتے انکی آنکھوں کے آنسو بھی خشک ہو گئے مگر حکمران بے نیازی کی چادر تانے سوئے رہے کیونکہ سندھ کی حکمران جماعتوں کے بارے میں انٹیلی جنس رپورٹیں موجود تھیں کہ انہوں نے اپنے اپنے گینگسٹرز پال رکھے ہیں جو اپنی دہشت کی دھاک بٹھا کر تاجروں اور عوام الناس سے بھتہ وصول کرتے اور زمینوں پر قبضہ جماتے ہیں۔ واحد بندرگاہ ہونے کے ناطے کراچی کو ملک کے تجارتی ہب کا درجہ بھی حاصل ہے جسے آگ و خون کے کھیل کی جانب دھکیلنا ملک کی معیشت برباد کرکے اسکی سالمیت کو کمزور بنانے کی سازش سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے مگر پیپلزپارٹی کے دور میں پورے دھڑلے کے ساتھ یہ کھیل جاری رکھا گیا۔ اس تناظر میں ہی عوام کو مسلم لیگ (ن) کی نئی حکومت سے توقعات وابستہ ہوئی تھیں کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر کراچی کا امن واپس لوٹانے کے عملی اقدامات اٹھائے گی مگر بدقسمتی سے اس دور حکومت میں بھی گھر گھر سے جنازے اٹھنے کا سلسلہ برقرار رہا اور پھر حالات زیادہ بگڑنے پر وزیراعظم میاں نوازشریف اپنے اقتدار کے دوسرے مہینے کراچی کے دورے پر گئے‘ وہاں کی سیاسی‘ دینی قوتوں‘ تاجروں‘ بیوروکریٹس اور انتظامی مشینری سے طویل مشاورت کی۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا تقاضا کیا گیا جس کیخلاف مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی دونوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور فوجی اپریشن سے گریز کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے رینجرز اور پولیس کے ذریعے ٹارگٹڈ اپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے میں بھی ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں سمیت سب نے اعتماد کا اظہار کیا  چنانچہ گزشتہ مسلسل چھ ماہ سے یہ اپریشن جاری ہے جس میں سندھ حکومت اور کراچی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بے بہا کامیابیوں کے دعوے کئے گئے مگر ان دعوئوں کی حقیقت یہ ہے کہ ٹارگٹڈ اپریشن ہی کی طرح گینگ وار کا سلسلہ اور بھتہ و قبضہ مافیا کی دہشت گردی کا سلسلہ بھی اسی تسلسل کے ساتھ جاری ہے جبکہ گزشتہ ایک دن کی بدامنی نے تو اس ٹارگٹڈ اپریشن کی حقیقت کا پول ہی کھول دیا ہے کہ پولیس اہلکار خود گینگسٹرز کے ہاتھوں اپنی جانیں بچانے کی کوششوں میں مصروف رہے اور اپنے ساتھیوں کی لاشیں ہسپتال میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
کیا اس سے بڑا المیہ کوئی اور ہو سکتا ہے کہ سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی جانب سے بھی کراچی کے حالات کا سخت نوٹس لینے اور سدھار کے عملی اقدامات تجویز کرنے کے باوجود کراچی کی خون آشامی کا سلسلہ نہیں رک سکا اور اب رینجرز اور پولیس بھی کراچی کے امن کے درپے وحشی قاتلوں اور جرائم پیشہ عناصر پر قابو پانے میں عملاً ناکام ہو چکی ہے۔ اگر کراچی کے مرض کا ٹارگٹڈ اپریشن والا علاج بھی کارگر نہیں ہو سکا تو کیا کراچی کے معصوم و بے گناہ عوام کو اسی طرح دہشت گردوں کے جنونی عزائم کی بھینٹ چڑھنے دیا جاتا رہے۔ اگر وفاقی اور سندھ کی صوبائی حکومت شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کا آئینی فریضہ ادا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے یا سابقہ حکمرانوں کی طرح بے نیازی کی چادر اوڑھے بیٹھی ہے تو پھر کراچی کی بدامنی ملک کی تباہی پر ہی منتج ہو سکتی ہے۔
وزیراعظم نوازشریف کو اپنی گورننس سے متعلق یقیناً اور بھی کئی غم لاحق ہیں جن میں ملک اور عوام کیلئے سوہان روح بنی دہشت گردی‘ فرقہ واریت اور توانائی کے سنگین بحران کے پیدا کردہ حالات کا غم بھی شامل ہے مگر ملک اور صوبے کے کسی علاقے کے حالات چاہے جو بھی ہوں‘ شہریوں کو جان و مال اور کاروبار و روزگار کا تحفظ فراہم کرنا ریاستی ذمہ داری کے کھاتے میں ہی آتا ہے۔ اگر کوئی حکومت اس فریضے سے عہدہ برأ ہونے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے تو اسکی حکمرانی کا بھی کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ کراچی کی ابتر صورتحال وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کی نااہلیت کا ہی ثبوت فراہم کر رہی ہے اس لئے موجودہ حکمرانوں بالخصوص سندھ حکومت کو یا تو اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہو کر گھر چلے جانا چاہیے یا کراچی میں پھیلتے بھتہ مافیا‘ ٹارگٹ کلرز اور دوسرے جرائم میں ملوث گینگسٹرز کے ہاتھوں عوام کی زندگیاں محفوظ ہونے کی ضمانت فراہم کرنی چاہیے۔ اگر پولیس اور رینجرز کے ٹارگٹڈ اپریشن کی صورت میں کراچی کے مرض کا علاج مؤثر نہیں ہو سکا تو پھر آئینی تقاضے کے تحت بدامنی پر قابو پانے کیلئے فوج کی معاونت حاصل کرنے میں کیا مضائقہ ہے۔ کراچی کے عوام کو تو اب اپنی جان و مال کا تحفظ درکار ہے‘ اگر فوجی اپریشن اس تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے تو اس سے قطعاً گریز نہ کیا جائے ورنہ کل کو کراچی ہی نہیں‘ غیرمحفوظ بنائے گئے ملک بھر کے عوام اس اجتماعی خواہش کا اظہار کرتے نظر آسکتے ہیں کہ…؎
کیا اسی زہر کو تریاق سمجھ کر پی لیں
ناصحوں کو تو سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی