نئے چیئر مین نیب کی آزمائش

ایڈیٹر  |  اداریہ
نئے چیئر مین نیب کی آزمائش

قومی احتساب بیورو (نیب) کے نئے چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ چیلنجز سے نمٹنا میرے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں نیب کے تمام امور پر تفصیلی بریفنگ لوں گا اورکوئی معاملہ التوا کا شکار نہیں بننے دونگا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر ریفرنسز کی خود نگرانی کروں گا اور پانامہ کیس میں موجود خامیوں کو دور کیا جائیگا، تمام بڑے کیسز کو اہمیت دی جائیگی۔
نیب کی کارکردگی اسکے معرض وجود میں آنے کے ساتھ ہی ہدف تنقید رہی ہے۔ اس پر مصلحتوں اور دبائو کے تحت کام کرنے کے الزامات ہیں۔سپریم کورٹ تک اسے مک مکا کرنے کا ادارہ قرار دے چکی ہے۔ اسے مردہ بھی کہا گیا۔ سابق چیئر مین نیب اور دیگر حکام اربوں روپے کی ریکوری کے دعوے کرتے رہے ہیں مگر کھربوں کی کرپشن نظر انداز کرنے کی کبھی وضاحت نہیں کی گئی۔ 150 میگا کرپشن کیسز 18 سال سے ابتدائی مراحل سے باہر نہیں نکل سکے۔ جب نیب نے یہ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی تو وزراء نے چیئر مین کیخلاف ریفرنس کی بھی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ اسکے بعد وہ چراغ ہی بجھ گئے جو بہر حال ٹمٹا رہے تھے۔ ایسے مصلحت کیش چیئر مین نیب پر تنقید کے طوفان تو اٹھنا ہی تھے۔ ملک میں کرپشن کی کوئی انتہا نہیں رہی۔ وہ لوگ اور ادارے بھی کرپشن میں ملوث ہیں جو قومی خزانے کے امین و نگہبان اور احتساب پر مامور ہیں۔ کرپشن کا ناسور ختم اور اسکی ایک ایک پائی وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرا دی جائے تو ملک و قوم کی تقدیر سنور سکتی ہے۔ اندرونی و بیرونی قرض اتر سکتے ہیں۔ نئے چیئر مین نیب پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی بلکہ کرپشن کے خاتمے کیلئے ان کا انکی ذمہ داریوں کے مطابق عہدہ برأ ہونا ایک آزمائش ہے۔ انکے راستے میں بڑی رکاوٹیں آئیں گی۔ لالچ اور دبائو ہو گا۔ ان کی شہرت ایک دیانتدار شخص کی ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وہ کسی مصلحت، دبائو اور ترغیب کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ آج شریف خاندان کے ریفرنسز کا بڑا چرچا ہے۔ ان ریفرنسز پر انکے تحفظات بھی ہیں دوسری طرف جن پارٹیوں نے انکے نام کی توثیق نہیں کی وہ بھی انکی کارکردگی پر نظر رکھنے کا اعلان کر چکی ہیں۔ نئے چیئر مین کو درمیانی راہ نکالنے کی طرف ہرگز نہیں جانا چاہئے۔ آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے کرپشن کے خاتمے میں جو ممکن ہے کرنے کی کوشش کریں۔ یہی انکے منصب کا تقاضا بھی ہے۔