297 درآمدی اشیا پر 5 فیصد تک ڈیوٹی بڑھانے کا غلط فیصلہ

ایڈیٹر  |  اداریہ
297 درآمدی اشیا پر 5 فیصد تک ڈیوٹی بڑھانے کا غلط فیصلہ

موبائل فونز‘ ہوم اپلائنسز‘ کاسمیٹکس سمیت 297 درآمدی اشیا پر 15 فیصد تک ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ۔ ڈیوٹی بڑھانے کا مقصد درآمدی بل کو کم کرنا ہے۔ مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ تاجر برادری کا ردعملدرآمدی بل میں اضافہ حکومت کی اپنی نااہلی اور ناقص پالیسیوں کا شاخسانہ ہوتاہے جس کی سزا عوام کو دینا کسی طور مناسب نہیں۔ 297 اشیا جن میں زیادہ تر کا تعلق گھریلو استعمال کی اشیا یا روزمرہ استعمال ہونے والی اشیا سے ہے کی قیمت میں 15 فیصد تک ڈیوٹی بڑھانے کے فیصلے سے مہنگائی کا جو طوفان اٹھے گا اس سے براہ راست عوام متاثر ہوں گے۔ خواص پر اس کا زیادہ اثر نہیں ہو گا۔ اگر حکومت نے اپنا خسارہ یا نقصان پورا کرنا ہے‘ درآمدی بل کم کرنا ہے تو اس کے لئے اپنے مالیاتی ماہرین ہیں جنہیں بھاری مشاہیر پر رکھا جاتا ہے‘ کوئی ایسا منصوبہ یا حل کیوں نہیں تجویز کرایا جاتا جس سے عوام پر ناروا بوجھ نہ پڑے۔ یہ ہر دو یا تین ماہ بعد منی بجٹ لانا حکومت نے وطیرہ بنا لیا ہے۔ جس سے پیدا ہونے والی مہنگائی کا عذاب عوام کو جھیلنا پڑتا ہے۔ اب تو کم از کم یہ سلسلہ بند کر دینا چاہئے کیونکہ الیکشن سر پر ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ الیکشن میں عوام اپنا سارا غصہ حکمرانوں پر نکال دیں۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں۔ انہیں مزید تنگ کرنا کسی طور مناسب نہیں۔